fbpx

نوائے سرود اب تو اپنے ہی نگہبان سے ڈر لگتا ہے

……. شہزادی کوثر…..

Advertisements

ملک کے بدلتے حالات و واقعات کی طرح انسان کی فطرت میں بدلاو تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے ،زندگی گزارنے کے لیے سوچ میں لچک ضروری ہوتی ہے ،لیکن اسکی نوعیت کس طرح کی ہے اس کا انحصار ہمارے ماحول اورصحبت پر ہے۔ لیکن یہ بات پریشان کن ہے کہ لوگ اچھائوں سے کنارہ کش ہو کر ایسی غلطیوں میں پھنس گئے ہیں جنہیں عرف عام میں گناہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تاثر ہے کہ بیٹی کے مقابلے میں بیٹے کی پرورش اسان ہے اس کی اتنی حفاظت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن حالیہ واقعات نے اس سوچ کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کیونکہ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔مستقبل کے معمار یہ ننھے فرشتے ہوس ذدہ معاشرے میں کہیں پہ بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ٓائے دن میڈیا مٰیں ایسی دل دہلانے والی خبر ہوتی ہے جسے سن کر والدین کے پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے،سکول میں موجود روحانی باپ کب درندہ بن کر کسی بچے سے اس کی معصومیت چھین لے ،یا مدرسے کا مولوی قرٓان مجید کی تعلیمات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی حیوانیت کا مظاہرہ کب کرے یہ کوئی نہیں جانتا۔والدین اپنے جگر گوشوں کو دین و دنیا کی تعلیم کے لیےان کی جھولی میں ڈالتے ہوئے زرا دیر کے لیے بھی شش وپنج کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ یہ دونوں ہستیاں نہایت قابل قدر ہیں ،مگر انسان کی سوئی ہوئی جبلت اپنے اوپر ڈالے ہوئے شرافت کے پردے کو پھاڑ کر ایسے باہر نکلتا ہے کہ انسانیت لرز اٹھتی ہے ایسے لوگ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے پیغمبروں کے پیشے کی بھی لاج نہیں رکھتے، انہیں نہ خوف خدا ہوتا ہے نہ ہی قانون کا ڈر ہوتا ہے۔روز کوئی معصوم ان کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ کہیں رشتہ داری کے نام پر ان کا استحصال ہوتا ہے تو کیں باپ کا دوست ان کی روح کو زخمی کرتا ہے اور کہیں استاد اور مولوی ان کی معصومیت کا جنازہ نکالنے پر تلا ہوا ہے۔یہ اتنا بڑا سانحہ ہونے کے باوجود اس کے بارے میں بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں مگر عمل کچھ بھی نہیں ہوتا۔قصور میں کتنی بے قصور بچیوں سے ان کا بچپنا چھینا گیا اس درندے کو پکڑنے کے باوجود اسے ایسی سزا نہ ملی کہ والدین کے کلیجہ مین ٹھنڈ پڑ سکے، مردان کے واقعے کے مجرم کی سزا بھی سامنے نہ ٓائی،حال ہی میں مانسہرہ کا مولوی جو بیک وقت استاد بھی تھا دس سال کے بچے کے ساتھ گھناونے فعل کے ساتھ اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ایسے لوگ بد فعلی اور قتل دونوں کے مرتکب ہوتے ہیں یا اس کی وڈیو بنا کر خاندان والوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ستم ظریفی یہ کہ اس کے خلاف بلند بانگ دعوے ہوتے ہیں مگر نتیجہ صفر ٓاتا ہے۔ ایسے لوگوں کوچوراہے پہ لاکر لٹکانا اور کوڑے مارنا چاہیے تاکہ کوئی دوسرا ایسی قبیح عمل کا سوچ بھی نہ سکے۔۔ حال ہی میں چترال میں بھی ایسا ہی دلخراش واقعہ رپوٹ ہو چکا ہے جسے سن کر سب لوگ سکتے میں ٓاگیے۔ہمارا علاقہ اپنی شرافت تہذیب و شائستگی کی وجہ سے دنیا میں مانا جاتا ہے لیکن انسانیت سوز اس واقعے نے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا ہے ،خدارا اس نحوست کو جڑ پکڑنے سے پہلے ہی کاٹنے کی کوشش کریں ورنہ یہ ہماری رگوں میں سرایت کر جائے گی۔صرف باتیں کر کے بری الذمہ نہ ہوں بلکہ عملا کچھ ایسا کریں کہ اس شیطان صفت درندے کو بد ترین سزا مل سکے۔ تاکہ مظلوم والدین کے دکھوں کا ازالہ ہو سکے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم اپنے بچوں کو نہیں بتا سکتے یا یہ ک کر نہیں بتاتے کہ ان کی ذہنیت خراب ہوجائے گی مگر اب ضروری ہو گیا ہے کہ انہین سامنے والے کے ایسے حرکات وسکنات کے بارے مین بتائین جو مشکوک ہوں اگر کسی بھی شخص کی طرف سے ایسی کوئی حکت ہا تو وہاں سے بھاگے یا زور سے چیخے اور لوگوں کو اس کے بارے میں بتائے۔کوئی مٹھائیوں یا کھلونوں کا لالچ دی کر اپنے گھر بلائے یا ساتھ چلنے کو کہے تو ہرگز نہ جائے۔اگر بچہ کسی کے گھر جانے سے یا کسی شخص سے ملنے سے ہچکچا رہا ہے تو اسے ڈانٹنا یا زبردستی ہرگز نہ کریں بلکہ شفقت سے بات کر کے حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ حفاظت تو خالق کے ہاتھ میں ہے مگر ہم احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنے بچوں کو ان درندون سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔اللہ ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے۔۔۔۔ٓامین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق