fbpx

دادبیداد….قانون پولیو زدہ ہے

……ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی……

3کالمی خبر آگئی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پولیو کے مرض نے وبائی صورت اختیار کرلی۔ملک بھر میں پولیو کے مریضوں کی کل تعداد123ہے ان میں 88مریض صوبے میں رپورٹ ہوگئے ہیں۔ایک ہی دن میں جنوبی اضلاع سے 5بچوں کے پولیو زدہ ہونے کی رپورٹ آگئی۔ہمارے صوبے میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کی کوشش 2013تک کامیابی سے ہمکنار ہورہی تھیں۔2013میں صرف ایک مریض کی رپورٹ آئی تھی۔اندازہ یہ تھا کہ2015تک اس مرض پر قابو پایا جائے گا2013میں ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن (WHO) کو جو رپورٹیں موصول ہوئیں ان کی رو سے2014میں پھڑوسی ملک بھارت کی ایک ارب 20کروڑ آبادی کو پولیو سے پاک(Polio Free) قراردیا گیا۔پاکستان میں کراچی اور بلوچستان پولیو وائرس کے زیر اثرتھے۔اس لئے پاکستان پولیو فری ملک کا اعزازحاصل نہ کرسکا۔صوبہ خیبر پختونخواہ میں 2013کے بعد بھارتی ایجنسی کی طرف سے پولیو کے حق میں باقاعدہ مہم شروع ہوئی پولیو ورکرز پر حملے کئے گئے۔مسجدوں کے لاوڈ سپیکروں سے باقاعدہ اعلانات کرکے لوگو ں کو پولیو قطرے پلانے سے منع کیا گیا۔صوبے کے سب سے زیادہ پُرامن ضلع چترال کی تحصیل دروش میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوا۔مجسٹریٹ نے ذمہ داروں کو گرفتار کیا۔مگر سیاسی مداخلت کی وجہ سے 3دن بعد ملزمان کو رہا کرایا گیا۔جبکہ مجسٹریٹ زیر عتاب آیا۔24گھنٹوں کے اندرمجسٹریٹ کو او ایس ڈی بنانے کا حکم جاری ہوا۔یہ دسمبر2018کی بات ہے۔اس طرح کے واقعات صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پیش آئے۔پولیو ورکرز پر حملہ کرنے والے سزا سے بچ گئے۔پولیو ورکرز کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت سے چھڑا لیا گیا۔پشاور کے مضافاتی علاقہ ماشو خیل میں پولیو کے انسداد کی مہم کو ناکام بنانے کے لئے مہم چلائی گئی اور بچوں کو ہسپتال میں داخل کرکے ڈرامہ رچایا گیا۔پھر ہسپتال پر حملہ کرکے ہسپتال کی عمارت اور مشینری کو نقصان پہنچایا گیاملزمان کو چھوٹ مل گئی۔اتنے بڑے واقعے کے ملزمان کو سزائے موت دینی چاہیئے تھی۔اللہ جانے جسٹس وقار احمد سیٹھ اُس وقت کس عدالت کے جج تھے۔ماشوخیل واقعے کے بعد ہمارے صوبے میں انسدادپولیو کی مہم بیحد متاثر ہوئی کیونکہ پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں اس واقعے کا بڑا چرچا ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کوئی مثبت بیانیہ سامنے نہیں آیا۔ڈاکٹروں کے حلقے میں جب بھی پولیو کی انسداد کے لئے سرکاری مہم کا ذکر ہوتا ہے۔تو ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں۔یہاں قانون کو پولیو وائرس لگ گیا ہے۔جہاں قانون پولیو زدہ ہو وہاں ڈاکٹروں کی ٹیم کیا کرسکتی ہے؟اب جبکہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے88واقعات اور مریض رپورٹ ہوگئے ہیں جبکہ ملک کے تین صوبوں میں پولیو کے مریضوں کی تعداد35ہے۔یہ بھی خدشہ ہے کہ روزانہ جس شرح سے پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اس حساب سے نئے سال کے آخرتک ہمارا صوبہ200پولیو زدہ بچوں کے ساتھ پھر سرفہرست آجائے۔اپنے صوبے کو کس طرح اس نامراد مرض سے پاک کیا جائے؟اس حوالے سے روایتی طریقے ناکام ہوگئے ہیں۔اسلام آباداور پشاور کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں ہونے والی مٹینگوں کا منفی نتیجہ سامنے آیا ہے۔غیر روایتی طریقے سے پولیو ختم کرنے کرنے کے لئے پہلا کام یہ ہے کہ صوبائی حکومت اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے لئے عمر قید سزا کے ساتھ دوکروڑروپے جرمانہ مقرر کرے۔دوسرا کام یہ ہے کہ پولیو کے حق میں اور قطرے پلانے کے خلاف مہم چلانے والوں کے مقدمات عام عدالتوں کے بجائے خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں تاکہ قانون شکنی کی سزا بھی سب کے سامنے آجائے تیسرا کام یہ ہے کہ2014سے2019تک جن لوگوں کو حوالاتوں اور عدالتوں سے چھڑایا گیا ہے۔ان کا ریکارڈ چیک کرکے سب کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے۔اگر سال2020کی پہلی ششماہی میں یعنی جون کے مہینے تک صوبے میں 100نامزد ملزموں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ بڑی سزائیں سنائی گئیں تو دسمبر2020تک پولیو وائرس ختم ہوجائے گا۔اگلے 3سالوں میں ہمارے صوبے کو پولیو فری ہونے کی سند مل جائیگی ہمارے ہاں جو لوگ پالیسی دیتے ہیں اور جو لوگ پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ان کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ 10پاکستانی سپاہی یا شہری پرنے پر بھارتی حکومت کو اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی خوشی4پاکستانی سپاہیوں کے معذور ہونے پر ہوتی ہے بھارتی حکومت کی یہ نپی تلی پالیسی ہے کہ مرنے والا معاشرے پر بوجھ نہیں ہوتا معذور ہونے والامعاشرے پر بوجھ ہوتا ہے۔دشمن کو مارکر خوشی نہ مناؤ معذور کرسکو تو معذورکرکے خوشی مناؤ۔یہ اصل کامیابی ہے چنانچہ بھارت نے اپنے ملک کی سوا ارب آبادی کو پولیو سے پاک کرنے کے بعد پاکستان کی22 کروڑ آبادی کو معذور کرنے کے لئے بے تحاشا دولت خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور قانون کے پولیو زدہ ہونے میں اس دولت کا بڑا دخل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق