fbpx

داد بیداد……چین اور ایران کا موا زنہ

……..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی……..

پا کستان میں تبدیلی آئے یا نہ آئے دُنیا میں تبدیلی آرہی ہے اور ڈنکے کی چوٹ آرہی ہے عالمی طا قتیں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں نئی طا قتیں سراُٹھا رہی ہیں روس، جر منی اور جا پان کی طرح چین اور ایران کو بھی عالمی طا قتوں میں شامل کیا جا رہا ہے چین اور ایران میں کئی اقدار اور کئی خو بیاں مشترک ہیں ان اقدار اور خو بیوں کا جا ئزہ نئی دنیا کو سمجھنے میں مدد دے گی پہلی چیز جو دنوں عالمی طاقتوں میں مشترک ہے وہ ان کا نظر یاتی پہلو ہے چین بھی ایک نظر یے کا علمبردار ہے ایران بھی ایک نظریے پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہے چین میں بھی نظر یا تی بنیاد پر الگ طرز کی جمہوریت ہے پارلیمانی انتخا بات ہو تے ہیں نئے لو گ اسمبلیوں میں آتے ہیں مگر نظر یاتی اساس پر سمجھوتہ نہیں ہو تا اسا سی نظریے سے اختلاف رکھنے والا حکومت میں نہیں آسکتا ایران میں بھی جمہوریت کو اپنے ملکی تقاضوں کے مطا بق نئے سانچے میں ڈھا لا گیا ہے انتخا بات میں اساسی نظریے سے اختلاف رکھنے والا کامیاب نہیں ہو سکتا ہے گویا انہوں نے ملکی مفاد او رسا لمیت کے تقا ضوں کو مغربی جمہوریت کے تابع کرنے کے بجائے اپنی بنائی ہوئی جمہوریت کو ملکی مفاد اور سا لمیت کے تابع کر رکھا ہے دوسری مما ثلت یہ ہے کہ دونوں پُر امن ممالک ہیں پ ڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں تیسری مما ثلت یہ ہے کہ دونوں مما لک عالمی تنازعات میں غیر جا نبدار رہتے ہیں خارجہ امور پر بیان دینے میں جلد بازی نہیں کرتے برد باری کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اور فیصلے کے بعد ان کا دفتر خارجہ نپاتُلا بیان جاری کر تاہے اُ ن کا ہر بیان سفارتی اسلوب کا شہکار ہوتا ہے چوتھی مما ثلت یہ ہے کہ دونوں مما لک نے افرادی قوت کی بے مثال تر بیت کرکے زندگی کے ہر شعبے کے لئے قابل اور مو زوں کیڈر تیا ر کیا ہوا ہے وزارتِ دفاع، دفتر خارجہ اور دیگر شعبوں میں 100اعلیٰ افیسروں میں ہر افسر اپنے سینئر افسر یا بوس (Boss) کی جگہ لینے کا اہل ہو تاہے اور وقت آنے پر اپنی اہلیت کو ثا بت کرتا ہے پا نچویں مما ثلت یہ ہے کہ دونوں مما لک نے اتحا دیوں کے ساتھ وفاداری نبھا نے کا ریکارڈ قائم کیا ہے چین نے پا کستان کو تاریخ کے کسی بھی نا زک موڑ پر تنہا نہیں چھوڑا ایران نے آزمائش کی ہر گھڑی میں حزب اللہ کا ساتھ دیا شام اور یمن کا ساتھ دیا کسی کے ساتھ بے وفائی نہیں کی اور جس کا ساتھ دیا اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا چھٹی مما ثلت یہ ہے کہ دنوں مما لک نے امریکی دھمکیوں کی کبھی پروا نہیں کی دشمن کی جارحیت کا ڈٹ کر مقا بلہ کیا چین نے 1964میں اکسائی چین کی سر حد پر بھارت کے چھکے چھڑا دیے دشمن کو ایسا دندان شکن شکست دی کہ 54سال گذر نے کے باوجود آج بھی اپنے زخم چاٹ رہا ہے 1986ء میں ایران کے انقلاب کو بمشکل ایک سال گذرا تھا امریکہ نے ایران پر عراق کے بھیس میں حملہ کیا فوج امریکہ کی تھی، جہاز امریکہ کے تھے، ہتھیار امریکہ کے تھے دولت امریکہ کی تھی نام صدام حسین کا تھا ایران کی نو زائیدہ انقلابی حکومت نے 8سال جنگ لڑی آٹھویں سال بصرہ کی بندر گاہ پر قبضہ کیا تو امریکہ کو یقین ہو گیا کہ ایران نا قابل تسخیر ہے دشمن نے گھٹنے ٹیک دیے امریکہ نے تاوان جنگ ادا کیا ایران نے بصرہ کی بندر گاہ خالی کر کے اپنے جہاز واپس بلالئیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے امریکہ کو ”شیطان ِ بزرگ“ یعنی بڑے شیطان کا نام دیا تھا 32سال بعد شیطان بزرگ واپس آگیا ہے جس طرح چین نے بھارت کو سبق سکھا یا تھا ایران آج پھر امریکہ کو سبق سکھا ئے گا امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 35ٹھکا نے امریکی فوج کے نشانے پر ہیں جواب میں ایرانی حکام نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے 55ٹھکا نے ایرانی میزائل سسٹم کی زد میں ہیں ساتھ ہی ایران نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معا ہدے سے دسست بردار ہونے کا بھی اعلان کیا ہے سفارت کا ری کی خا موش اور با معنی زبان میں یہ ایٹمی وار ہیڈ لے جا نے والے میزائل مارنے کی دھمکی ہے اور ایران جب دھمکی دیتا ہے تو اپنی بات کا پورا بھرم رکھتا ہے عالمی سیا ست اور عالمی تعلقات کی نئی دنیا میں ایران بھی چین کی طرح سپر پاور ہے امریکہ کے مقا بلے میں روس اور چین کے ساتھ اُس کے اچھے تعلقات ہیں اس لئے وائٹ ہاوس اور پینٹا گان کا کوئی عہدیدار ایران کی طاقت کا غلط اندازہ نہیں لگا سکتا ہے ایران چین کی طرح خا مو ش رہ کر بھی کاری ضرب لگا تا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق