fbpx

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین کی سربراہی میں موسمی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی میٹنگ۔

بونی(نمائندہ چترال ایکسپریس)حالیہ شدید برف باری کے نتیجے اپر چترال کے موصلاتی نظام درہم برہم اور لوگ گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں۔ روڈوں سے لیکر بجلی کی نظام تک سب برف باری کے نذر ہوچکے ہیں۔ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اور علاقے کے لوگوں کو فوری سہولت اور اسائش پہنچانے کے خاطر انتظامیہ اپر چترال سرگرمِ عمل اور متحرک ہے۔ اس سلسلے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین نے حالات سے از خود اگاہی حاصل کر نے کے خاطر اپر چترال کے مختلف جگہوں کا دورہ کرکے اپنے دفتر واقع بونی میں ایک ایمرجنسی میٹنگ کا انعقاد کیا۔جس میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مستوج معظم خان،ایس۔ڈی۔او محکمہ تعمیرات بونی تحصیل میونسپل آفیسر موڑکھو/ تورکھو محمد شفیق موجود تھے۔میٹنگ میں شدید برف باری کے بعد علاقے کی لوگوں کے آمدو رفت کے مشکلات فوری طوری پر کم کرنے اور روڈوں کی بحالی کے سلسلے مختلف تجاویز پر گفتگو ہوئی۔ ایس۔ڈی۔او سی اینڈ ڈبلیو اپنی طرف سے کیئے ہوئے اقدامات سے اے۔ڈی۔سی کو اگاہ کیا۔ جسے اے۔ڈی،سی اپرچترال نے تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزید اس میں تیزی لانے کی تاکید کی۔یاد رہے کہ حالیہ برف باری کے بعد اپر چترال کے اکثر روڈ بند ہوئے ہیں کہیں پر برفانی تودہ گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔اور جہاں باامرِ مجبوری سفر کیے جاتے ہیں وہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال حالات کا بذات خود جائزہ لیتے ہوئے اس مسلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے اور امدو رفت بحال کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سلسلے ٹی۔ایم۔اے موڑکھو/ تورکھو محمد شفیق کو بھی ہدایت دی کہ ممکنہ وسائل بروئے کار لاکر علاقے کے لوگوں کو اس مشکلات سے نکالنے میں کردار ادا کریں۔ ٹی۔ایم۔اے نے یقین دلایا کہ وہ اپنے متعلقہ دیہات میں ٹریفک کی نظام بحال کرنے کے لیے۔ بھر پور کوشش کرینگے۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اس سلسلے روزانہ کی بنیاد پر اے۔ڈی۔سی آفس کو باخبر رکھا جائے۔ایس۔ڈی۔او سی اینڈ ڈبلیو اس موقع پر بتایا کہ مستوج اور موڑکھو روڈ پر برف ہٹانے کے لیے مشینری روانہ کر دی گئی اور برف ہٹانے کا عمل شروع ہے اور تورکھو روڈ کے لیے کل مشینری روانہ کردی جائیگی۔ علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق