fbpx

ضلع اپرچترال،مشکلات، ترجیحات اور توقعات

……تحریر۔ایس این پیرذادہ….

Advertisements

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے چترال کے عوام کی پسماندگی کا ادراک کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرکے جب چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ہر خاص و عام نے سیاست سے بالاتر ہوکر حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی، یقیناً صوبائی حکومت کے ذہن میں عوامی امنگوں کے مطابق اس اہم فیصلے کو عملی جامہ پہناتے وقت یہاں کے لوگوں کو درپیش بنیادی مسائل اور بے انتہا مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی روڈ میپ ضرور ہوگا جس پر عملدرآمد کرنے کی راہ میں کئی ایک رکاوٹوں کے ساتھ موجودہ ملکی معاشی صورتحال بھی کارفرما ہے،البتہ صوبائی حکومت نے اپر چترال کو مستحکم کرنے کے لیے ابتدائی طور پر محکموں کی منتقلی اور سربراہان کی تقرری کا عمل شروع کیا ہے اس سے عوام کو بہت سارے مسائل کا حل اپنے دہلیز پر ملنا شروع ہو چکا ہے،خوشی کی بات یہ ہے کہ اپرچترال کی انتظامیہ میں قابل اور فرض شناس افسران کی تعیناتی کی وجہ سے وسائل کی کمی کے باوجود انتہائی کم وقت میں نئے ضلع کی نظام کو پٹڑی پر ڈال دیا گیا ہے،اس وقت اپرچترال کی انتظامیہ کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ہے فنڈز کی کمی صوبائی حکومت نے اپنے پہلے مالی سال کے بجٹ میں اپرچترال کے لیے کوئی اسپیشل فنڈ مختص نہیں کیا جس کی وجہ سے نئے ضلع کی راہ میں ابھرنے والے مسائل کے حل میں انتظامیہ اور منتقل شدہ محکمہ جات کو شدید قسم کے مشکلات درپیش ہیں،گوکہ نئے ضلع کو استحکام بخشنے کے لئے شروع میں 5 سے 15 ارب روپے کی اسپیشل گرانٹ کی فراہمی کی امید کی جارہی تھیں تاہم سیاسی طور پر ہماری کمزور موقف کی وجہ سے گزشتہ سال کے بجٹ میں اپرچترال کو نظر انداز کیا گیا،امید ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے ساتھ اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کی خاطر اپرچترال کو مثالی ضلع بنانے کے لیے آنے والے بجٹ میں اس نئے ضلع کی ترقی کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کریگی،چترال کے دو اضلاع میں تقسیم ہو نے کے بعد ہمارے منتخب نمائندوں کی حیثیت علامتی ہوکر رہ گئی ہے،دو ضلعوں کے ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے کو ابھی تک ایک روپے کا بھی ترقیاتی فنڈز نہیں ملا ہے،دوسری طرف حکمران جماعت کے منتخب ایم این اے صاحبان کو اربوں روپے اور ایم پی اے صاحبان کو 25 سے 30 کروڑ روپے جاری کردیے گئے ہیں،لوئر چترال کے لیے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی جناب وزیر زادہ صاحب کو چیرمین ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی بنانے کے بعد وہ عملی طور پر لوئرچترال کے نمائندے قرار پائے ہیں جنکو لیس ڈیولپ ڈسٹرکٹ کے نام پر 30 کروڑ روپے جاری بھی کردیے گئے ہیں،جبکہ بغیر کسی فنڈز کے مولانا ہدایت الرحمان صاحب کو چیرمین ڈیڈک اپرچترال مقرر کر دیا گیا ہے،مولانا صاحب کے مطابق صوبے میں کوئی انکی بات کو نہیں سنتا اور نہ ہی انکے حلقے میں کوئی خاص ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے،کلاس فور ملازمتوں کی تقرریوں تک انکو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، جس کی وجہ سے پہلے سے شدید قسم کے مسائل سے دوچار عوام میں مزید مایوسی پھیل گئی ہے۔زمینی حقائق کی تناظر میں دیکھا جائے تو اپرچترال پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ ضلع ہے جہاں پر 8 ہزار مربع کلومیٹر پر ایک کلومیٹر بھی پکی سڑک موجود نہیں ہے جس کے اوپر آدمی سکون سے سفر کرسکے،تاجکستان روڈ والے قصہ کے خاتمے کے بعد ہم گزشتہ 15 سالوں سے چترال بونی،بونی مستوج شندور روڈ کی فیڈرلئیزیشن،پی سی ون اور اپرول کے قصے سنتے آرہے ہیں اور ہنوز جھوٹ بولنے کا یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ اب تو سی پیک کا لاحقہ بھی اس کے ساتھ منسلک کرکے اگلے نسلوں تک منتقل کر دیا گیا ہے،قیادت سے محروم اپرچترال کے عوام کئی دہائیوں سے آیات الکرسی کے سہارے جمعہ خان بابو کے تعمیر کردہ 7 فٹ کے جان لیوا سڑک پر سفر کرنے پر مجبور ہیں،کہنے کو تو ہم لوگ سیاسی اور علمی لحاظ سے باشعور ہیں مگر ہرالیکشن کے وقت ہمارا فیصلہ اس کے برعکس نکلتا ہے،جس کا خمیازہ پسماندگی کی شکل میں آج تک ہم بھگت رہے ہیں، بحیثیت پسماندہ قوم ہماری کوئی سیاسی جماعت اور سیاسی ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے،اور ہر برسر اقتدار جماعت کا ترقی کی خاطر مشروط حمایت کرنا ہمارا اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ہم بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزار سکیں،پاکستان میں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لحاظ سے سب سے کمتر اور پسماندہ شمار ہونے والا ضلع کوہستان کے عوام نے 2015 میں اپنے محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے اس وقت کے حکومت کے ساتھ جو قومی معاہدہ کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے،اس وقت کی صوبائی حکومت نے کوہستان کے عوام کے سامنے یہ شرط رکھی کہ انکے علاقے پلس کوہستان کو نیا ضلع بنانے کے لیے تورغر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما زرگل خان کو کوہستان سے بلامقابلہ ایم پی اے منتخب کرنا پڑے گا، کوہستان کے باشعور عوام اور انکے منتخب نمائندے مولانا عظمت اللہ جو کہ مخالف جماعت جمعیت علمائے اسلام ف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے وسیع تر قومی مفاد اور علاقے کی ترقی کی خاطر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر دوسرے ضلع کے زرگل خان کو بلامقابلہ ایم پی اے منتخب کیا، پائیدار ترقی کے لیے اپرچترال کے عوام کو بھی کوہستان والوں کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا ہدایت الرحمان صاحب کو عوام نے اسلامی نظام لانے کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقیاتی کام کرکے غربت اور پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے بھی ووٹ دیا ہے،چونکہ مولانا صاحب کے ہاتھوں اسلامی نظام کا نفاذ موجودہ حالات میں ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا، لہذا عوام کی پہلی ترجیح بھی ترقیاتی منصوبوں اور درپیش دنیاوی مسائل کے حل پر رکی ہوئی ہے، مولانا صاحب کو حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے علاقے کی ترقی کے لئے نیا عوامی بیانیہ تشکیل دینا ہوگی، اگر مولانا نے صاحب نے اپرچترال کی بدترین صورتحال کو نظر انداز کرکے آئی ایم ایف کے بھاری سود پر مشتمل حاصل شدہ ملکی قرضوں میں سے ہر مہینے تین سے چار لاکھ روپے تنخواہ وصول کرکے خاموشی سے وقت گزارنے کی کوشش کی تو غریب عوام کھبی بھی اپکو معاف نہیں کرینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق