fbpx

داد بیداد….زندہ امین

…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی ….

ثقافت کے زندہ امین ایک منصوبہ تھا جس کے تحت خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت شاعروں،ادیبوں، اور فنکاروں کو ما ہا نہ اعزا زیہ دیتی تھی 8مہینوں کے لئے ایک گروپ کے نا م اعزازیہ جاری کیا جا تا تھا پھر دوسرے گروپ کو دیا جا تا تھا اعزازیہ کی مالیت 30ہزار روپے ما ہا نہ مقرر کی گئی تھی پھر اس میں کٹو تی کر کے اعزا زیہ لینے وا لوں کی تعداد میں اضا فہ کیا گیا آج خبر آگئی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے ایک فنکار کی طرف سے دو سال پہلے دائر کی گئی رٹ پٹیشن محکمہ ثقافت کی طرف سے پیش کی گئی درخواست کی بنیاد پر نمٹا دی مقدمے کے مد عی نے شکا یت کی تھی کہ میں زیا دہ حقدار ہوں جن لو گوں کو اعزازیہ دیا گیا وہ مجھ سے زیا دہ حقدار نہیں ہیں عدا لت عالیہ نے درخواست گزار کو بتایا کہ محکمہ ثقا فت خیبر پختونخوا نے زندہ امین کا اعزاز یہ ختم کر دیا ہے اب کسی کو اعزاز یہ نہیں ملے گا اس لئے پٹیشن خا رج کی جا تی ہے عدالت سے باہر آئے تو درخواست گزار بہت خوش دکھا ئی دے رہے تھے دوستوں نے پو چھا کیا تمہارے حق میں فیصلہ ہوا ہے؟اُس نے خوشی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا اب کسی کو کوئی بھی اعزاز یہ نہیں ملے گا محکمہ ثقافت نے عدالت کو بتایا کہ زندہ امین والا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے درخواست گزار کی خوشی اس بات کی غما زی کرتی تھی کہ اُس کو اپنے نام پر اعزازیہ لینے سے زیا دہ دوسروں کا اعزازیہ بند کرانے میں دلچسپی تھی منصو بہ ختم ہونے پر اس کو بیحد خوشی اس لئے ہوئی کہ اب کسی شاعر، ادیب اور فنکار کو اعزازیہ نہیں ملے گا اگر کوئی محقق یا کوئی ایم فل، ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی سکا لر ہماری عدا لتوں میں دائر مقدمات کا جائزہ لے لے تو معلوم ہو گا کہ 50فیصد سے زیا دہ مقدمات کسی ضرورت یا حق پر مبنی نہیں ہوتے ضد، حسد اور رقابت پر مبنی ہوتے ہیں درخواست گزار اپنے حق کا مطا لبہ کرنے سے زیا دہ دوسروں کا حق مار نے میں دلچسپی رکھتا ہے امتحا نات کی منسو خی کے لئے دائر ہونے والے مقدمات ایسے ہی ہو تے ہیں درخواست گزار اپنا حق نہیں مانگتا وہ مخصوص ٹیسٹ یا امتحان میں پا س ہونے والوں کا راستہ روکنا چاہتا ہے میڈیکل اور انجینئر نگ کا لجوں کے انٹری ٹیسٹ منسوخ ہونے کی صورت میں درخواست گزار کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا وہ پہلے بھی فیل ہو اتھا اب بھی فیل ہو گا اُس کا مقدمہ دوسروں کا راستہ روکنا ہے عدالتوں کو ایک یا دو پیشیوں میں ایسی درخواست خارج کردینے کا اختیار حا صل ہے مگر عدالتیں اپنا اختیار استعمال کرنے کے بجائے ایسے مقدمات کو وقت دیتے ہیں وقت دینے سے عدالت کا وقت ضائع ہو تا ہے اور زیر تصفیہ مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے جہاں تک ثقافت کے زندہ یا مردہ امین نا می منصوبے کا تعلق ہے یہ منصو بہ 2010ء میں شروع کیا گیا تھا پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم اعظم مرحوم و مغفور اس کے محرک اور بانی تھے میاں افتخار حسین اور اُن کے رفقائے کار نے مل کر ایک جا مع منصو بہ بنا یا تھا جس کے تحت ثقافت کی الگ نظامت قائم کی گئی صوبے کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی کتابوں کو ان کی اپنی زبان یا اردو میں شائع کرنے کے لئے فنڈ مختص کیا گیا ثقا فت کے زندہ امین کے نام سے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے لئے اعزازیہ مقرر کیا گیا ڈاکٹر محمد اعظم اعظم مر حوم نے پورے صوبے کے دانشوروں، دستکاروں اور فنکاروں کی ڈائریکٹری مرتب کی اور اس ڈائریکٹری کو سامنے رکھ کر اعزاز یہ کے لئے 8ماہ کی مدت رکھی گئی تاکہ کوئی تخلیق کار اور فنکار اعزازیہ سے محروم نہ رہے پا کستان تحریک انصاف نے 2013ء میں صوبے کا اقتدار سنبھا لا تو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے سامنے یہ بات رکھی گئی انہوں نے کہا میرا تعلق خوشحال خان خٹک کے قبیلے سے ہے میں دانشور وں کے منہ سے نوالہ نہیں چھین سکتا چنا نچہ نئی حکومت نے اس کو جاری رکھا ثقافت کے زندہ امین کو مردہ امین تک پہنچا نے میں 10سال لگے تب جا کر یہ باب ختم کیا گیا پشاور ہائی کورٹ سے خالی ہاتھ باہر آنے والا فنکار اس بات پر مطمئن تھا کہ حکومت نے اعزازیہ کا منصوبہ ختم کیا اب یہ وظیفہ کسی کو نہیں ملے گا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق