fbpx

نوائے سُرود ….مغرب کی اندھی تقلید

……… شہزادی کوثر……..

پاکستانی قوم کو جو چیز سب سے ذیادہ لطف دیتی ہے وہ تقلیدِ مغرب ہے۔ ہر کوئی حسبِ توفیق اس کی نقالی کر کے خود کو خوش نصیبوں ِ،، کی فہرست میں شامل کرنے میں لگا ہوا ہے،چاہے وہ ہیر اسٹائل ہو یا گھٹنوں سے پھٹی جینز پہننے کا فیشن، ہر جملے میں انگریزی کے الفاظ لانا ہو،ان کی تہذیب وثقافت کے مختلف عوامل،بڑی خوشی اور فخر سے ہر چیز اپنائی جا رہی ہے۔ہماری زبان کے انتہائی شیرین اور محبت بھرے الفاظ یعنی ماں باپ،، کی جگہ ممی ڈیڈی،،نے لے لیے ہیں۔پیاری بہن سسٹربن گئی اور ٓانکھوں کی ٹھنڈک بھائی برو،، کہلانے لگا ہے۔سلام کی جگہ ہیلواور خدا حافظ کی جگہ بائے،، بولا جا رہا ہے، چچا،ماموں اور خالہ کے بچے پہلے بہن بھائی ہوا کرتے تھے اب صرف کزن ہو کر رہ گئے ہیں۔ مغربی تہذیب و تمدن کی یلغار ہماری شناخت چھین رہی ہے۔ہمارے عادات و اطوار،رہن سہن،کھانا پینا،ہر چیز مغرب ذ د گی کی دلدل میں ڈوبتی جا رہی ہے اور ہم صرف دیکھتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے،نہ ہی کرنے کا حوصلہ ہے نہ توفیق۔ اس تقلید میں اپریل فول، برتھ ڈے،اینیورسری،کے علاوہ ویلنٹائن ڈے کے نام سے ایک دن بڑے اہتمام سے منانے کی رسم بھی چل نکلی ہے۔ بنیادی طور پر یہ رومنوں کی قدیم تہوار ہے جو فروری کے درمیانی عرصہ میں منایا جاتا تھا وہاں سے پوری دنیا میں پھیل گیا،اب ہم اس دن کو منانے میں کیوں پیچھے رہیں؟ اس لیے بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ایک دوسرے کو سرخ گلاب، چاکلیٹ،ٹیڈی بئیر،اور دل کے نشان والے تحائف دئے جاتے ہیں۔ انسانیت اور پیار محبت کا حکم ہمارا مذہب تو سب سے پہلے دیتا ہے اس کو تو کوئی توجہ کے قابل نہیں سمجھتا، دوسری طرف محبت کے نام پر ان واہیات کا کیا مطلب ہے؟ کیا محبت کی اتنی ہی وقعت رہ گئی ہے کہ اس کے لیے صرف ایک دن ہی مختص کیا جائے یا ایک دن کے لیے پیار محبت کا ڈھونگ رچا کر فارغ ہو جائیں۔ محبت تو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ پوری کائنات کے نظام میں یہی جذبہ کار فرما ہے۔یہ ایسا جذبہ نہیں ہے کہ ایک لفظ بول کر اسکی وسعت کا احاطہ کیا جا سکے۔ ہاں وقتی دلچسپی کو محبت کا نام دے کر ایک لفظ کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے۔ معمولی الفاظ اس غیر معمولی جذبے کی تشریح کے قابل ہی نہیں ہیں۔محبت وسیع ہو تو بیان سے ہی باہر ہو جاتی ہے۔ یہ ویلنٹائن ڈے وغیرہ نودولتیہ طبقے کے چونچلے ہیں جو اپنی امیری اور دولت کی نمائش مختلف طریقوں سے کر کے اپنی خباثتِ نفس کا اظہار کرتے ہیں۔مغرب کونسا جذباتی طور پر ٓاسودہ ہے جو ہم ان کی پیروی کر کے سکونِ قلب کی دولت پا سکتے ہیں، اپنی الجھنوں اور فرسٹریشن کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے دن اور تہواروں کے نام رکھ کر مناتے ہیں تاکہ جینے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہاتھ آئے۔یہ سب کچھ غیر قوم کے نیم جذب شدہ خیالات کے پرچار کے سوا کچھ نہیں جو کم از کم ہمارے معاشرے کی ترجمانی نہیں کر سکتے،ہم جس معاشرے اور مذہب کے افراد ہیں اس سے دشمنی کا رویہ غیروں کی ان چالوں سے آشکار ہو رہا ہے، تاکہ ہمیں ہماری تہذیب و ثقافت اور مذہب سے دور کیا جا سکے اور ہم نا دانستہ آلہ کار بنتے جا رہے ہیں۔اپنا دماغ استعمال کرنے کے معاملے میں ہم نے قسم کھا رکھی ہے،اس بات کی ہمیں سمجھ ہی نہیں ٓا رہی کہ مذہب،انسانیت اور اخلاقیات سے دور ہو کر دل کو سکون نہیں ملا کرتا اور اپنی شناخت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ لیکن ہم بھیڑوں کی طرح ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جہاں جاتا دیکھتے ہیں فورا ان کی پیروی میں لگ جاتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ ہمارے مذہب میں اس کی گنجائش ہے کہ نہیں؟ کیا معاشرہ اور اخلاقیات اس کی اجازت دیتے ہیں کہ نہیں؟ ویلنٹائن ڈے کے نام پر بیہودگی اور اخلاق باختگی کو جتنی تیزی سے فروغ مل رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں،یہ باتیں ہماری غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔کہ غیروں کا جو بھی قول و فعل ہو وہ ہر صورت ہمارے لیے قابل عمل ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ملک میں ہم پر کچھ پابندیاں مذہب کی طرف سے عائد ہوتی ہیں جن کی حدود سے نکلنا اسلامی اقدار کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے اس کے علاوہ کچھ معاشرتی اور اخلاقی قدغنیں بھی ہیں جن کے حصار میں رہ کر ہم زمانے کے بے رحم پنجوں سے محفوظ رہتے ہیں،لیکن دورجدید میں مغرب ذدگی نے ہمیں اندھا کر دیا ہے کہ ہم غیروں کی تقلید میں پاگل ہو کر تمام حدود پھلانگ رہے ہیں جو ایک بڑا المیہ ہے۔
حضورﷺکافرمان ہے کہ ”بیشک ہردن کی کوئی خصلت (مزاج یاپہچان) ہوتی ہے اوراسلام کی وہ خاص خصلت حیاہے۔ جس دن کی پہچان حیاہواسمیں بے حیائی کی کوئی گنجائش نہیں“

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق