fbpx

داد بیداد….کا رکردگی کا سوال

……….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی………

وزیر اعلیٰ محمود خان نے صو بائی سکرٹریوں کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ما تحت افسروں کی کار کردگی کا جا ئزہ لیکر قابل، محنتی اور دیا نت دار افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے اور افسروں کی کا رکردگی پر کڑی نظر رکھی جا ئے ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پا کستان کے مو قع پر وفاقی دارلحکومت سے ایک خبر آئی کہ پا ک ترک وزارتی کمیٹی نے گذشتہ سال جن منصوبوں اور معا ہدوں کی سفارش کی تھی بیورو کریسی نے ان منصوبوں اور معا ہدوں پر اب تک کوئی پیش رفت کیوں نہیں کیا؟ اب بھی 13یا د داشتوں پر دستخطوں کے بعد پا ک ترک سٹریٹجک ریلیشنز کی نئی کمیٹی بنی ہے دو سال بعد کہا جائے گا کہ بیو رو کریسی نے اس سلسلے میں سُستی کا مظا ہرہ کیا اگر بیورو کریسی غفلت نہ کر تی تو یہ منصو بے مکمل ہو جا تے بظا ہر یہ بہت آسان کا م ہے کہ اپنی سستی اور نا کا می کا ملبہ کسی اور پر گرا کر خود کو بری الذمہ قرار دیا جائے اگر سیا سی قیا دت کہتی ہے کہ کا رکردگی کو دیکھ کر اہم پو سٹوں پر لائق اور دیا نت دار فیسروں کی تقرری کی جائے تو اس سے یہ بات ثا بت ہوتی ہے کہ بیورو کریسی کو ریا ستی نظم و نسق میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام حا صل ہے جب حکومت کے لو گ کہتے ہیں کہ بیورو کریسی کی غفلت کے سبب سے اہم دو طرفہ معاہدے آگے نہ بڑھ سکے تو یہ بھی گویا بیورو کریسی کی اہمیت کا اعتراف ہے مگر بیورو کریسی کہاں ہے؟ کس مقام پر ہے؟ یہ بھی کوئی پوچھے اس پر بھی کوئی غور کرے اسلام اباد اور پشاور میں سرکاری حکام کے لئے سر کاری رہائش گا ہوں کی فراہمی کا بڑ ا مسئلہ ہے اس مسئلے میں بیورو کریسی رکا وٹ نہیں ہے جس افسر کو کسی وزیر یا ایم این اے کی حمایت حا صل ہے وہ تبدیل ہونے کے 6سال بعد بھی اپنی سر کاری رہا ئش گاہ خا لی نہیں کر تا اپنی سر کاری گاڑی واپس نہیں کرتا وہ سیا ستدان کا چہیتا اور لا ڈ لا بچہ ہے جو افیسر کسی سیا ستدان کے لئے لاڈ لے نہیں ان کو نہ اچھی پوسٹنگ ملتی ہے نہ اچھی رہائش گاہ ملتی ہے کار کردگی یہاں کوئی دیکھتا ہی نہیں اگر حکومت اسلام اباد اور پشاور کے سرکاری بنگلوں کا سروے کرے تو دو دنوں کے اندر معلوم ہو جائے گا کہ کسی افیسر نے 2014سے اب تک سرکاری گھر پر نا جا ئز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کی پُشت پر کون ہے؟ اس طرح فیلڈ میں اوسط درجے کے افیسروں کی پوسٹنگ میں بھی سیا ستدانوں کا ہاتھ ہو تا ہے جو افیسر تبدیلی کے بعد بھی سرکاری گاڑی واپس نہیں کرتے وہ بھی سیا ستدانوں کے لاڈ لے ہوتے ہیں بیورو کریسی کی کارکردگی بڑھا نے کا سب سے کامیاب گُر یہ ہے کہ افیسر وں کو سیا سی دباؤ سے آزاد کیا جائے افیسروں کے کام میں وزیر،مشیر، ایم این اے، ایم پی اے اوسنیٹر کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے جب بیورو کریسی کے ہاتھ آزاد ہونگے تو وہ اپنی کارکرد گی دکھا سکے گی جب تک اُس کے ہاتھ بندے ہوئے ہوں تو وہ کیا کار کرد گی دکھائیگی؟ جن حکمرا نوں نے شخصی حکومت، فو جی حکومت یا جمہوری حکومت میں بڑے بڑے کام کئے انہوں نے بیو رو کریسی کو سیا سی مصلحتوں سے آزاد کر کے کھلی فضامیں کام کرنے کا مو قع دیا شیر شاہ سوری، جلا الدین اکبر اور شاہجہان کے کار نامے آزاد بیورو کریسی کی مر ہون منت ہیں ما ضی قریب میں فیلڈ مار شل ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں جو تر قی ہوئی وہ آزاد بیو رو کریسی کی وجہ سے ممکن ہوئی جنرل مشرف نے تمام دفتروں میں قائداعظمؒکا یہ قول نمایاں جگہ پر لگوانے کا حکم دیا تھا اور اس پر عمل بھی ہوا قائد اعظم ؒ نے کراچی میں سول سروس کے افیسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم ریا ست کے ملا زم ہوکسی حکومت کے ملا زم نہیں ہو حکو متیں آتی جا تی ہیں ریا ست اپنی جگہ قائم رہتی ہے اس لئے تم کسی کے دباؤ میں ہر گز نہ آو اپنا فرض منصبی آئین اور قانون کے مطا بق بلا خو ف خطر انجام دیتے رہو پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی اور شہباز شریف نے جو اہم منصوبے مکمل کئے وہ آزاد بیو رو کریسی کی مدد سے ممکن ہوئے ہمارے صوبے میں آفتاب شیر پاؤ،اکرم درانی اور امیر حیدر ہوتی نے بیو روکریسی کو سیا سی دباؤ سے آزاد کرکے کامیا بی سے حکومت کی امریکی صدر ابرا ہام لنکن کا قول ہے کہ کوئی جمہوری حکمران نظم و نسق کے تمام امور میں مہارت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اُس کی کامیابی کا راز اس بات میں پو شیدہ ہے کہ وہ کتنا مردم شنا س ہے اور افرادی قوت سے کا م لینے کا فن کس حد تک جانتا ہے؟ وزیر اعلیٰ محمود خان نے ڈیڑھ سا لہ حکومت کے بعد محسوس کیا کہ افیسر وں کی کار کردگی کو جانچنا ضروری ہے اور یہ خوش آئیند بات ہے کارکردگی کا جائزہ کہاں سے شروع ہو گا آسان اور قابل عمل تجویز یہ ہے کہ جن افیسروں کو افسر بکار خاص (OSD) بنا کر گھر بٹھا یا گیا ہے وہ قابل، دیانتدار اور فعال افیسر تھے سیاسی پُشت پنا ہی سے محروم ہونے کی وجہ سے OSDبنائے گئے ان کو واپس لاکر اہم عہدے دیدئیے جائیں دوسرا قدم یہ ہو گا کہ جن افیسروں کو اہم عہدوں سے ہٹا کر کُھڈے لائن کر کے کونے کھدروں میں دھکیل دیا گیا ہے وہ سیا سی سر پرستی سے محروم ہیں ایسے یتیموں کو واپس لا کر اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے تو حکومت کی کار کردگی میں اضافہ ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق