fbpx

بھارت کی فصیل مودی

……محمد شریف شکیب…..

مودی سرکارنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پراحمد آباد ہوائی اڈے کے قریب ایک کچی بستی کو چھپانے کے لیے دیوارکی تعمیر شروع کردی ہے۔ ائرپورٹ روڈ سے متصل بستی کومہمانوں سے چھپانے کے لیے سات فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ دیوار تقریباً نصف کلومیٹر تک بنائی جائے گی۔ اس کچی بستی میں تقریباً 2500 غریب لوگ رہتے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت غربت ختم کرنے کے بجائے غریبی کوچھپانا چاہتی ہے۔بستی والوں کا کہنا ہے کہ دیوار کے بننے سے ہوا پانی بند ہوجائے گا۔ نہ سیوریج کا انتظام ہے اور نہ ہی بجلی اور پانی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ماضی میں کسی اہم شخصیت کے دورے کے موقع پر بستی کے گرد قناطیں لگاکر انہیں چھپایا جاتا تھا۔اس بارپکی دیوار تعمیر کرنے کا پروگرام بنایاگیا تاکہ بھارت کے چہرے پر پڑی غربت کی جھریوں کو بار بار میک اپ کے ذریعے چھپانے کے درد سر سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ 24 سے 25 فروری تک بھارت کادورہ کریں گے۔امریکی صدر دنیا کے چند مصروف ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن وہ ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک وغیرہ ضرور دیکھتے ہوں گے۔وہ بھارت کا دورہ شروع کرنے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر احمد آباد کے غریب آباد اوراس کے گرد تعمیر ہونے والی دیوار آبرو کی تصویر اور وڈیو بھی دیکھ چکے ہوں گے۔مزہ تو جب ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران مذکورہ دیوار کے اس پار کا نظارہ کرنے کا تقاضا کریں۔امریکی صدر کافی سیماب صفت واقع ہوئے ہیں۔ٹیلی وژن پر کشتی کے مقابلے دیکھنے کے شوقین لوگوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کا دور پہلوانی نہیں بھولا ہوگا۔ وہ رنگ کے باہر اکثر ایسی حرکتیں کرجاتے تھے کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے۔ کوئی بعید نہیں کہ وہ دورہ بھارت کے دوران رات کو دلی یا ممبئی شہر کا نظارہ کرنے کی ضد کریں۔ایسی ناگہانی صورت حال میں نریندر مودی ممبئی کے فٹ پاتھوں پر کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والے لاکھوں غریبوں کو کہاں لے جاکر چھپائیں گے۔غریبی کوئی گناہ تو نہیں کہ اسے چھپایاجائے۔غریب خود اپنی حالت زار کسی سے کبھی نہیں چھپاتا۔شاعر نے ان کی اسی خصلت سے متاثر ہوکر کہا تھا کہ ”نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا۔ رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو“۔لیکن رہنماوں کے روپ میں رہزنوں کی کارستانیوں نے غریب کا اتنا برا حال کردیا کہ حکمران انہیں کسی کو دکھانے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ذات پات کی بنیاد پر قائم بھارتی معاشرے میں شودر، ویش اور دلتوں کی حالت زار روز اول سے ہی بہت پتلی ہے۔ ان بیچاروں کو راہ چلتے بھی برہمنوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے۔ کسی دلت یا شودر کالباس بھی چھو جائے تو برہمن اپنے لباس کے اس حصے کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔قیام پاکستان سے چند سال قبل بھی برہمن قوم کے امتیازی اور ظالمانہ سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر ہزاروں شودروں نے اسلام قبول کیا تو گاندھی جی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور شودروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں شودروں کی بستی میں اپنا ٹھکانہ بناناپڑا اور ان کا نام شودر سے تبدیل کرکے مہاجن رکھ دیا۔ جس کے معنی بھگوان کی اولاد کے ہیں۔آج بھارت میں نیچی ذات کے ہندووں کو مہاجن تو پکارا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ سلوک شودروں والا ہی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں شودروں کی ایک پوری بستی نے اسلام قبول کیا۔مملکت خداداد پاکستان میں بھی غریبوں کی حالت شودروں سے زیادہ مختلف نہیں۔ہمارے حکمرانوں کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ وہ غریبوں کو دیوار کے زندان میں قید کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ ان کی آبادی پورے ملک میں بکھری ہوئی ہے۔ اس لئے ارباب اختیار کی کوشش کی ہے کہ غربت ختم کرنے کے نعروں کی آڑ میں غریبوں کو ہی ختم کیا جائے۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے متوسط طبقے کو بھی غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو دن میں ایک بار بھی پیٹ بھر کر کھانا میسرنہیں۔ قہر درویش برجان درویش کے مصداق وہ بااثر اور متمول طبقے سے اپنے حقوق چھین سکتے ہیں نہ ہی ان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اس لئے اپنا غصہ اپنے آپ پر ہی نکالنے کے سوا غریب کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق