fbpx

خود فریبی

……..محمد شریف شکیب…..

اسلام آباد پولیس نے سیکٹر ایف سیون میں ایک گھر پرچھاپہ مار کر 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ماسک برآمد کرلیے ہیں اور 4 چینی باشندوں کو گرفتار کرلیاہے۔پولیس کے مطابق گھر سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ماسک برآمد ہوئے ہیں۔ چینی باشندوں نے یہ ماسک 45 بڑے کاٹنوں میں چھپا رکھے تھے تاکہ قیمتیں بڑھنے پر انہیں مارکیٹ میں لایاجاسکے۔اگرچہ ان کی موجودہ قیمت2 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے تاہم بحرانی کیفیت میں انہیں بیچ کر دس پندرہ کروڑ روپے آسانی سے کمائے جاسکتے تھے۔ پولیس نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔کورونا وائرس جب چین اور یورپی ممالک میں پھیلا تھا تو ہمارے ہاں فیس ماسک اور سرجیکل دستانے استعمال کرکے خود کو وائرس سے بچانے کی ہدایات جاری ہوتی رہیں اس دوران بازار میں دس روپے میں دستیاب ماسک کی قیمت اچانک پچاس روپے ہوگئی پھر دیکھتے ہی دیکھتے بازاروں میں ماسک نایاب ہوگئے۔تعجب کی بات یہ نہیں کہ آنے والے دنوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ماسک مافیا نے تمام سٹاک مارکیٹ سے اٹھاکر گوداموں میں چھپا دیا۔ابھی دو تین دنوں کی بات ہے کہ کسی نے سوشل میڈیا پر یہ افواہ اڑائی کہ کورونا کی وجہ سے آئندہ دنوں میں بازار اور تجارتی مراکز بند ہونے والے ہیں اس لئے روزمرہ ضرورت کی اشیاء گھروں میں سٹاک کرنا ضروری ہے۔ جونہی لوگ اشیائے خوردونوش خریدنے بازار پہنچے تو گھی کی قیمت میں 36روپے فی کلو اورکوکنگ آئل کی قیمت میں 27روپے فی کلو اضافہ ہوچکا تھا۔ حیرت اس انکشاف پر ہوئی کہ ماسک ذخیرہ کرنے والے چینی باشندے تھے۔ جو کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہ کر ہمارے رنگ میں رنگ گئے تھے۔ہمارے ایک کاروباری دوست کا موقف ہے کہ آنے والے دنوں کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر چیزیں سٹاک کرنا کوئی غلط کام نہیں، کاروبار ی ذہنیت ہے۔اپنے موقف کے حق میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ لوگوں کو عین ضرورت کے وقت جب مطلوبہ چیز مل جاتی ہے تو یہ غنیمت ہے اور خریدار ضرورت کی چیز ہر قیمت پر خریدتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کر کے مال کے منہ مانگے دام وصول کرنا کاروباری بددیانتی ہے۔ تجارت پیغمبری پیشہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت رکھی ہے۔ لیکن ہم نے خود ساختہ نظریات کے ذریعے اس پیشے کو شیطانی کھیل بنادیا ہے۔ پھل اور سبزی بیچنے والادانستہ طور پر پورے دام وصول کرکے گلے سڑے پھل اور سبزیاں خریدار کو تھما دیتا ہے۔ زیادہ منافع کمانے کے لئے قصاب جانوروں کے گوشت میں پانی ملاتے ہیں دودھ میں سستے کیمیکل اور پانی ملا کر بیچا جاتا ہے۔ چائے کی پتی میں لکڑی کے برادے، چنے کے چھلکے اور پختہ چائے کی پتیاں دوبارہ سکھا کر ملائی جاتی ہیں۔ ہمارے ایک دوست کو یہ شکایت ہے کہ دوائیاں تو دونمبری ملتی ہی ہیں اب زہر میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔خود کشی کی نیت سے بندہ زہر کھالے تو اثر ہی نہیں کرتا۔طبی ماہرین کے حوالے سے قوم کو تلقین کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کے لئے بار بار ہاتھ دھونا اور سینی ٹائزر استعمال کرنا ضروری ہے۔ جونہی لوگ سینی ٹائزر خریدنے دکانوں میں پہنچے تو پورا سٹاک غائب تھا اور اکا دکا دکانوں میں اگر دستیاب بھی تھا تو ڈیڑھ سو روپے کی بوتل اڑھائی سو میں فروخت کی جارہی تھی۔ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور روزمرہ ضرورت کی چیزیں خفیہ گوداموں میں منتقل کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے تاکہ روزہ داروں کی چمڑی ادھیڑ کر بیٹھے بٹھائے کروڑوں اربوں روپے کمائے جاسکیں۔ہم من حیث القوم مادیت پرستی میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ ہم اچھے برے، جائز و ناجائز، حلال اور حرام کی تمیز سے بے بہرہ ہوچکے ہیں۔سیلاب، زلزلے، قحط، گرانی، جنگ، دہشت گردی اور وبائی امراض کی شکل میں جو آفتیں ہم پر نازل ہوتی ہیں یہ سب ہمارے اعمال بدکے شاخسانے ہیں۔عمران خان لاکھ کرپشن مکاو کا نعرہ لگائیں کرپشن کا خاتمہ ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ عوام کی رگوں میں سرایت کرچکی ہے۔جس کو جتنی کرپشن کرنے کا موقع ملتا ہے وہ اس سے دو قدم آگے بڑھ کر کرپشن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنے بچوں کو حرام کا نوالہ کھلا کر ہم اگر دیانت دار قوم بننے کا دعویٰ کریں گے تو یہ خود فریبی کی بدترین مثال ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق