fbpx

ایم این اے چترالی کا نمائندوں کو یکسر نظرانداز کرکے چترال آنے والوں کے بارے میں پالیسی اپنانے پر ضلعی انتظامیہ چترال پر شدید تنقید

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے چترال کو کروناوائرس سے بچانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے اقدامات پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور منتخب نمائندوں کو یکسر نظرانداز کرکے ملک کے دیگر حصوں سے آنے والوں کے بارے میں ناقابل عمل اور ناقابل قبول پالیسی اپنانے پرڈپٹی کمشنر لویر چترال کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے اور حکومت پر واضح کیا ہے کہ اسٹیک ہولڈروں کے بغیر کوئی پلان کامیاب نہیں ہوگی۔ ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں فضل ربی جان، وجیہ الدین اور خان حیات اللہ خان کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہوئے ہیں اور ہزاروں چترالی ان مقامات پر رہائش پذیر ہیں جن کے پاس چترال واپس آنے کے سوا کوئی چار ہ کار نہیں اور ایسے میں واپس آنے والوں کو لواری ٹاپ پرروکنا نہایت نامناسب بات ہے اورگزشتہ رات چارسو مسافروں کو لواری ٹنل کے مقام پر روک کران کو اذیت دینے پروہ اپنے چترالی بہن بھائیوں سے مغذر ت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کے علاوہ مولانا ہدایت الرحمن ایم پی اے اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ کو بھی مشاورت میں شامل کئے بغیر ڈپٹی کمشنر لویر چترال جو بھی قدم اٹھائے گا، وہ قابل عمل نہیں ہوں گے اور عوام کی تعاون اور حمایت کے بغیر عملی جامہ نہیں پہناسکیں گے اور نہ ان کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ ہم کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کے مخالف نہیں بلکہ اس میں ممدومعاون ثابت ہوں گے اور صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چترالی عوام کے جذبات و احساسات اور ان کو درپیش مسائل کا آئنہ دار حل ڈھونڈنے میں منتخب نمائندوں اور سیاسی عمائیدین سے اس سلسلے میں مدد لی جائے جس کے بعد اس پر ہرکوئی دل وجان سے عمل کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر منتخب نمائندوں کے ساتھ مشاورت ہوتی تو گزشتہ رات لواری ٹنل کے مقام پر سینکڑوں چترالی بہن بھائیوں کے ساتھ یہ واقعہ ہرگزپیش نہ آتا۔ مولانا چترالی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ چترال میں محکمہ صحت کے پاس کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لئے کوئی وسائل دستیاب نہیں ہیں اس لئے صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں جلدا ز جلد فنڈز ریلیز کرنا چاہیے اور اپر چترال کے لئے مختص ایک کروڑ 64لاکھ روپے کو قطعی طور پر ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے 4کروڑروپے تک بڑہانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دونوں اضلاع کے انتظامیہ پر زور دیا کہ اس فنڈ کے ایک ایک پائی کا درست استعمال ہو ورنہ اس کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ چترال ہی میں اسکریننگ کی سہولت دستیاب کی جائے اور لواری ٹنل سے آنے والے جن مسافروں میں علامات پائی جائیں تو انہیں قرنطینہ میں ڈال دیا جائے۔ مولانا چترالی نے چترال کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کو روک کر لاک ڈاؤن کی صورت حال پیدا کرنے پر چترال پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مولانا چترالی نے اس سے قبل کہاکہ کروناوائرس حقیقت میں غذاب الٰہی ہے جوکہ ایک قوم ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ان حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ رجو ع الی اللہ سے کام لے اور اللہ کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق عمل کرے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایسے حالات میں اختیاطی تدابیر کے بارے میں مکمل تفصیل ہمیں دین میں دی گئی ہے۔ مولانا چترالی نے مساجد کو بند کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے حالات میں عوام کو اللہ کی یاد سے روکنے کے مترادف ہے۔ مولانا چترالی نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق