fbpx

داد بیداد…..یکساں نصاب

…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی …..

تعلیم کا یکساں نصاب قومی ضرورت بھی ہے وقت کا تقاضا بھی ہے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں جما عت اول سے لیکر پانچویں جما عت پرائمیری سکو لوں کے نئے نصاب کو حتمی شکل دی گئی وزیر اعظم نے ہدا یت کی کہ مارچ 2021ء میں ملک کے اندر پرائمیری کا نیا نصاب رائج کیا جائے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک تدریجی عمل کے ذریعے مارچ 2022ء میں چھٹی جما عت سے لیکر آٹھویں جما عت تک نیا نصاب رائج کیا جائے گا جبکہ نویں جما عت سے لیکر بارہویں جما عت تک 4کلا سوں کا نصاب مارچ 2023میں رائج ہو گا وزیر اعظم نے یہ بھی ہدا یت کی کہ نئے نصابی کتا بوں کی اشاعت کے مر حلے میں مخصوص حلقوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے وزیر اعظم نے یہ بھی ہدا یت کی کہ نئے نصاب میں نبی اخر الزمان محمد مصطفےٰ ﷺ کی تعلیمات، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی کے نظریات اور مصور پا کستان شاعر مشرق علا مہ اقبال کے تصورات کو اُجا گر کیا جائے قو می ثقافت، ما حو لیات اور قومی یک جہتی کو اولیت دی جائے یکساں نصاب کی تیاری پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتا یا کہ قومی نصاب کونسل نے تمام صوبوں سے ما ہرین کی خدمات حا صل کرکے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے اور جا مع سفارشات کی تیا ری کا کام کیا یکسان نصاب تعلیم پا کستان تحریک انصاف کے منشور میں نمایاں طور پر آیا ہے اور توقع بھی یہی تھی پارٹی کی حکومت آنے کے بعد اس پر کام کیا جائے گا جو کام ہوا ہے وہ بند دروازوں کے اندر ہوا ہے اس پر ورکشاب سمینار، کانفرنس مذاکرے وغیرہ نہیں ہوئے نچلی سطح پر اساتذہ اور والدین کو مشاورت میں شامل نہیں کیا ظاہر ہے کہ اوپر کی سطح پر یونیورسٹیوں کے حا ضرسروس اور ریٹا ئرڈ پرو فیسروں نے پرائمیری جما عتوں کے لئے نصاب بناتے وقت 60سال پہلے اپنی پرا ئمیری جماعتوں کے تجربے کو سامنے رکھنا ہو گا اُس تجربے کی روشنی میں لازمی مہارتیں (Core competencies) متعین کی ہونگی پھر 60سال پرانے تجربے کی روشنی میں معیارات (Bench marks) متعین کئے ہونگے اس کے بعد 60سال پرانے تجربے کو سامنے رکھ کر طلبہ کی استعداد کے نتائج (SLOs) بنانے ہونگے یہ بہت نا زک اور بیحد محنت طلب کام ہے ورکنگ گروپ نے یقینا اس کام کے جملہ تقا ضوں کو بطریق احسن پورا کیا ہو گا تعلیم کی بنیاد ہی نصاب ہے ہمارے ہاں سکو لوں اور کا لجوں میں نصاب کا کوئی پتہ نہیں ہوتا صرف کتا بیں دیکھ کر پڑھا نا ہوتا ہے اے لیول اور او لیول کے امتحا نات میں نصاب کی پیروی کی جا تی ہے آغا خان یو نیورسٹی بورڈ کے ساتھ جن سکو لوں اور کا لجوں کا الحا ق ہوتا ہے ان کو با قاعدہ نصاب دیا جا تا ہے کور کو می یٹن سبز، (CCs) بنچ مارکس (BMs) اور SLOدیئے جا تے ہیں ان کے مطا بق پڑ ھا ئی ہوتی ہے دنیا کے تر قی یا فتہ مما لک میں نصاب کی کتا بوں کا رواج ختم کر دیا گیا ہے تر قی پذیر مما لک میں بھی بتدریج اس پر عمل کیا جا رہا ہے کٹھمنڈو میں ہمارے دوستوں کے بچے سفارت خانے کے سکو ل میں پڑھتے ہیں اُن کے پاس کوئی کتاب بستہ کوئی کا پی نہیں ہے وہ صبح خا لی سکو ل جاتے ہیں شام کو خا لی گھر آتے ہیں کتا بوں کے بغیر تعلیم کا یہ تصور با لکل نیا ہے اس طریقہ تعلیم میں نصاب کو سامنے رکھ کر تعلیم دی جا تی ہے طا لب علم پر بستے کا بوجھ نہیں ہو تا استاد کو لکیر کا فقیر نہیں بنا یا جاتا وہ لائبریری سے مواد حا صل کر تا ہے اور یہ مواد طالب علموں کو منتقل کر تا ہے ہم نے تھائی لینڈ کے ایک سکول میں چوتھی جما عت کو اس طریقے پر کشش ثقل کا سبق پڑ ھا تے ہوئے مشا ہدہ کیا ہے طالب علم کلاس میں سیکھتا ہے جو کچھ اس کو سکھا یا جا تا ہے اس کو کا پی پر لکھتا ہے اور وائٹ بورڈ پرکلاس کو پڑھا کر دکھا تا ہے اس وقت وطن عزیز پا کستان میں 4اقسام کے نصاب پڑھائے جا تے ہیں کیمبرج، اکسفورڈ اور آغا خان یو نیورسٹی کا نصاب سب سے اعلیٰ ہے اس کے بعد حکومت پا کستان کا نصاب ہے پھر کا نو نٹ سکو لوں کا نصاب ہے پھر مدا رس دینیہ کا نصاب ہے 4نصا بوں کے لئے 13مختلف اقسام کے تعلیمی ادارے کام کرتے ہیں ایچی سن سکول کا اپنا طریقہ کار ہے اس طریقہ کار پر ہزاروں دیگر سکو ل قائم ہیں جہاں امیر اور دولت مند لو گوں کے بچے پڑھتے ہیں کیڈ ٹ کا لجوں اور ملٹری کا لجوں کا اپنا طریقہ کار ہے جہاں افیسر وں کے بچے پڑھتے ہیں پرائیویٹ سکو لوں کا اپنا طریقہ کار ہے جہاں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے پڑھتے ہیں سر کاری سکو لوں کا الگ طریقہ کار ہے جہاں غریبوں کے بچے پڑ ھتے ہیں دینی مدا رس میں چار طبقے ہیں اور چاروں میں غریبوں کی اولاد ہی پڑھتی ہے ان تعلیمی اداروں سے جو نسل پرواں چڑھتی ہے وہ اپنے زاویہ فکر کے اعتبار سے ایک قوم کی نما ئندگی کے قابل نہیں ہوتے ہر گروپ کا الگ زاویہ فکرہوتا ہے سول سروس اکیڈ می ہو یا فو جی اکیڈمی ہر جگہ ایچی سن کلاس کے لو گ سر کاری سکو لوں سے آنے والوں کو اچھوت کا درجہ دیتے ہیں دوران تر بیت ہی ملک کے افیسروں کو احساس بر تری اور احساس کمتری کے دو ذہنی در جوں میں تقسیم ہو نا پڑتا ہے کاروبار میں، سیا ست کے میدان میں غر ض ہر شعبۂ زندگی میں نظا م تعلیم کا یہ دُہرا پیما نہ قوم کے بچوں کو ایک قوم بننے سے روکتا ہے شکر کا مقام یہ ہے کہ حکومت نے ملک کے لئے یکساں نصاب تعلیم کا فیصلہ کر لیا اب نظام تعلیم کو سب کے لئے یکساں بنا نا ہو گا یہی قو می یک جہتی کا تقا ضا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق