fbpx

کروناوائرس؛ اٹلی کی بے بسی اور ہماری بے حسی

…./تحریر: کمال عبدالجمیل …..

Advertisements

اٹلی اسوقت دنیا میں کروناوائرس کیوجہ سے سب سے بری طرح متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 5ہزا ر سے زیادہ ہے جبکہ اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ آج سے قریباً ایک مہینے قبل اٹلی میں ”کرونا وائرس“سے صرف ایک موت واقع ہوئی تھی جوکہ یورپ میں اس وائرس سے فوتگی کا پہلا واقعہ تھا۔ اٹلی کے اخبار ”دی لوکل“ کے مطابق کرونا وائرس کا پہلا شکار 74سالہ ماہر تعمیرات انڈریانو ٹریوسن (Adriano Trevisan)تھا جو آج سے ٹھیک 4ہفتے قبل کرونا وائرس کا شکار ہوکر ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ مگراس ہلاکت کا کسی نے سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا اور یہی واقعہ کرونا وائرس کے حوالے یورپ میں اہم موڑ تھا۔مگراٹلی میں کاروبار زندگی اسی طرح جاری رہی،اسٹیڈئم فٹ بال کے تماشائیوں سے بھرے رہے، مارکیٹوں کی رونقیں بڑھتی گئیں، نائٹ کلبوں، کیفے اور شاپنگ مالز کے ساتھ ساتھ اٹلی کے بڑے شہروں کی گلیوں میں شورو غوغا اسی طرح قائم رہی، ملک کے سیاستدان اپنے سیاسی معاملات میں مصروف جن میں اکثریت ایک ریفرینڈم کی تیاری میں جت گئے۔مذکورہ اخبار کی ایک پورٹ کے مطابق جس دن یورپ میں مذکورہ بالا پہلی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا ٹھیک اسی دن اٹلی میں کلب فٹبال کا ایک نہایت دلچسپ مقابلہ جاری تھا، میلان میں ایک بڑی فیشن ویک کی تقریب پورے آب و تاب کے ساتھ جاری تھی۔اخبار لکھتا ہے کہ؛ ”In Rome, streets were jammed with traffic, tourists roamed the Opportunity and threw coins into Trevi Fountain, coffee shops and pizzerias were bustling, and locals continued to complain about garbage overflowing trash bins.“
اٹلی کے وزیر اعظم جوزیفے کاونٹی (Giuseppe Conte)نے بیان دیا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے، پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں، حکومتی ادارے چوکس ہیں۔ اٹلی کی بد قسمتی کہ وہاں کی قیادت اس صورتحال کا درست اندازہ نہ لگا پائی، جو کچھ ہونے جارہا تھاوہ ان لوگوں کے ہوش و ہواس میں شائد نہیں تھا۔ پھر جب اٹلی کی قیادت کو حالات کی نزاکت کا اندازہ ہوگیا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، حالات قابو سے نکل چکے تھے اورہر طرف کرونا کی تباہ کاری اور انسان کی بے بسی تھی۔ آج حالت یہ ہے کہ اٹلی کے عوام اور انکی قیادت جہاں اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں وہیں اپنی غفلت، لاپرواہی پر انکے پاس بھیانک ندامت کے سوا کچھ نہیں۔ اٹلی کے تمام چھوٹی بڑی شہریں بند ہیں، سڑکیں اور پررونق بازار، شاپنگ مال، چکاچوند والے کلب اور ریستوران سب کچھ ویران اور ماتم کناں ہیں، اٹلی آفت زدہ ملک بن گیا ہے اور اس یورپی ملک کی چھ کروڑ آبادی گھروں محصور ہو چکی ہے۔ یہ سب کچھ انتہائی قلیل وقت میں ہوا۔ اٹلی میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد فوج کو بلایا گیا ہے، وہاں امدادی سرگرمیوں میں مصروف چائنیز ریڈ کراس کے اہلکاروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ گوکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کئی ایک اقدامات اٹھائے گئے مگر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔امدادی کارکنوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ تمام معاشی، سماجی، کاروباری، دفتری۔۔۔یعنی ہر قسم کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کرکے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں تک محدود رکھنے کے اقدامات کئے جائیں۔ان تمام اقدامات کے باوجود ابھی بھی اٹلی کے حکمران اور عوام اضطراب اور خوف کی کیفیت میں ہیں۔
ہمار ا پیارا ملک پاکستان اٹلی کی طرح وسائل اور ٹیکنالوجی کا حامل نہیں، یہاں پر سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے، ہمارے لوگ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے حوالے سے حساس نہیں ہیں، انہیں قرنطینہ میں بھی احتجاج سے فرصت نہیں، انہیں سرکاری احکامات اور ہدایت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں۔ ہم ہر کام میں حکومت کی طرف دیکھنے پر اکتفا کرتے ہیں مگر بحیثیت ایک ملک کے شہری ہماری اپنی کیا ذمہ داریاں ہیں ہمیں انسے قطعاً کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ جب ایران سے ہزاروں زائرین تفتان پہنچ گئے تو انہیں ہینڈل کرنے کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی تھی، یوں وہ سارے زائرین بوجوہ اپنے اپنے علاقوں میں پہنچ گئے اور وائرس پھیلتا گیا۔ اسی طرح مردان میں یونین کونسل ”منگاہ“ کو لاک ڈاؤن کرنے کے ایک ہی دن بعد وہاں کے مکین سڑکوں پر نکل آئے احتجاجی مظاہرے کئے،کوئٹہ میں قائم قرنطینہ مرکز کو مقامی لوگوں نے نذرآتش کردیا، سکھر میں زائرین نے قرنطینہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔کرونا وائرس کے کچھ مریض ہسپتالوں سے بھاگ نکلے۔ہم مسلمان ہیں، اسلامی احکامات پر عملدرآمد کرنا ہمارے ایمان کا جز ہے۔ مگر حالیہ وباء کے بحران میں ہمارے لوگوں نے نبی کریم ؐ کے احکامات پربھی عملدرآمد نہیں کیا۔ حضورنبی پاکؐ کا حکم ہے کہ”وباء کی صورت میں اس جگہے کو نہ چھوڑیں جہاں وباء آئی ہو اورپہلے سے وہاں موجود ہوں اور باہر سے کوئی اس جگہے پر نہ جائے جہاں وباء آچکا ہو“۔ جس دن کرونا وائرس کے پاکستان میں موجودگی کی خبریں آنی شروع ہوئیں تو لوگ افراتفری کے عالم میں ان علاقوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلنے لگے، چند دن کی سختی برداشت نہیں کرسکتے اور دعوے بڑے بڑے کرتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر چین نے اس وباء کو شکست دی ہے تو صر ف اور صرف سخت اقدامات سے، عوام کے تعاؤن اور جذبے سے۔
ہمارے یہاں کے حالات کو دیکھکر لگتا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے سرکاری سطح پر اقدامات کے باوجود عوام یکسر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہوئے تماش بین کا کردار ادا کررہی ہیں۔
یاد رہے کرونا وائرس سے بچنے میں سب سے اہم اور کارگرر اقدام”سماجی فاصلہ“ رکھنا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہے جن کی بابت صحت کے ماہرین اور سرکاری ذمہ داران ہمیں آگاہ کر رہے ہیں۔
اس مختصر تحریر کا مقصد یہ ہے کہ حالات کو صرف اپنے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ارد گرد کے پیش آمد ہ واقعات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ بر موقع فیصلے اور اقدامات ہی سانحات کو روکتے ہیں یا انکے اثرات کو کم کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ جب پانی سر سے گزر جائے تو پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں ہر قسم کی مصلحت سے بالا تر ہو کر ایک ”قوم“ بن کر سوچنا چاہئے اور حکومت اور عوام ملکر اس وباء کو شکست دینے کے لئے کمر بستہ ہوں تو انشاء اللہ کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔
میں ان سطور کا سہارا لیکر شعبہ صحت سے منسلک تمام افراد(مرد و خواتین)کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل ترین دور میں مسیحائی کا فریضہ سرانجام دے رہیں، قوم کو آپ پر فخر ہے، فخر رہیگا۔
تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق