fbpx

ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 803 ہوگئی ہے۔،پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن

 کراچی: (چترال ایکسپریس)ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 803 ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 27 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد سندھ میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 352 ، پنجاب میں 225، بلوچستان میں 108، گلگت بلتستان میں 71، خیبر پختونخوا میں 31 جب کہ اسلام آباد میں 15 مریض موجود ہیں جب کہ 6 افراد صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں

پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے منگل سے صوبے بھر میں 14 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ منگل سے صوبے بھر میں 14 روز کے لیے لاک ڈاؤن ہوگا۔ 24 مارچ سے 6 اپریل تک عوامی مقامات بند رہیں گے، پنجاب میں ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔

ملک گیر لاک ڈاؤن کے ساتھ دیگر اقدامات بھی ضروری

یوم پاکستان کی مناسبت سے اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قوم آج کا دن ایسے حالات میں منا رہی ہے جب پوری دنیا ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے، کورونا وائرس کی وباء نے ہمارے ملک کو بھی متاثر کیا ہے، کورونا وائرس کی وباء ہمارے لیے ایک امتحان ہے، سیاسی قیادت کو اس عزم و حوصلے کی پیروی کرنی چاہیے، جس کا مظاہرہ قرارداد پاکستان کو منظور کرتے ہوئے کیا گیا تھا،ہمیں ملک گیر لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تمام ادارے کورونا کی وباء کا مِل کر مقابلہ کرکے اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیں۔

’ہم میں کوئی تقسیم نہیں‘

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 23مارچ کا جذبہ قیام پاکستان کا باعث بنا۔ آج اسی جذبے کے تحت ہمیں یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہم میں کوئی تقسیم نہیں،عوام کا تحفظ ، سلامتی اور صحت ہم سب کی ترجیح ہے۔ وباء پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کاوشوں کو تقویت دینا ہے۔

کراچی اور سکھر ایئرپورٹ بند

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 24 مارچ سے کراچی اور سکھر ایئرپورٹ غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

کورونا تیسرے فیز میں داخل

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کس درجے ( کیٹگری )کا ہے ابھی حکومتی سطح پر تعین نہیں کیاجاسکا تاہم اس وقت ایشیائی ممالک میں ایران کو کورونا سے متاثرین کی فہرست میں سرفہرست دیکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں کورونا کی کیٹگری 2 یعنی دوسرے درجہ دیا جارہا ہے جبکہ ابھی تک اس بات کا بھی تعین نہیں کیا جاسکا کہ پاکستان میں وائرس سے ہونے والی شرح اموات کا تناسب کتنا ہے اور پاکستان میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اور آئندہ وائرس کے پھیلنے کی رفتار کیا ہو گی تاہم پاکستانی عوام اس وائرس کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بے خبر ہیں، پاکستان میں وائرس اب تیسرے فیز (مرحلے) میں داخل ہورہا ہے جس میں وائرس کی شدت میں بھی تیزی آجائے گی۔

سندھ میں لاک ڈاؤن 

کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ میں رات 12 بجے سے  لاک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے جو کہ 15 روز تک جاری رہے گا۔ لاک ڈاؤن کو ’’کئیر فار یو‘‘ کا نام دیا گیا ہے، لاک ڈاؤن کے دوران انتہائی ضرورت کے سوا شہریوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے۔ اشیائے صرف کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے ہیں۔

پنجاب کی فوج سے مدد طلب

محکمہ داخلہ پنجاب نے باضابطہ طور پر وفاق سے فوج کی مدد طلب کرلی ہے۔ وفاق کو بھجوائے گئے مراسلے میں کرونا وائرس سے ہیدا شدہ صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے پاک فوج کی مناسب تعداد مختص کی جائے۔

شہباز شریف کورونا ٹیسٹ کرائیں

طبی ماہرین نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو فوری کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وہ کم از کم 14دن قرنطینہ کا عمل اختیار کریں تاکہ ان سمیت دیگر افراد کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

فواد چوہدری کا کورونا ٹیسٹ

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی  فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنی وڈیو میں کہا ہے کہ وہ 3 روز قبل امریکا سے واپس آئے ہیں اور اپنے کورونا ٹیسٹ بھی کروائے ہیں، وطن واپسی پر ناصرف خود کو محدود کرلیا ہے بلکہ مکمل آئسولیشن میں ہیں اور اپنے گھر والوں سے بھی نہیں ملے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر:

1: کسی الکحل والے محلول یا اینٹی سیپٹک صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔ ہاتھ دھونے کا عمل کم ازکم ایک منٹ تک ہونا چاہئے۔ اس سے انفیکشن سے بچنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

2: اگر آپ کھانسی اور نزلے میں مبتلا ہیں تو ماسک پہنیں اور ماسک پہننے اور اتارنے کے بعد جراثیم کش صابن سے بھی ہاتھ دھوئیں۔

3: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اگرآپ تندرست ہیں تو طبی نوعیت کا این 95 ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ۔ اس کی جگہ سادہ ماسک بھی پہنا جاسکتا ہے۔ لیکن ماسک کو درست طریقے سے پہننا بہت ضروری ہے جس میں خیال رکھا جائے کہ ماسک اور چہرے کے درمیان کو جھری کھلی نہ رہ جائے۔

تاہم ڈسپوزایبل ماسک کو ٹھکانے لگانا بہت ضروری ہے ۔ اگرچہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس انسانی جسم سے باہر بہت دیر تک سرگرم نہیں رہ سکتا لیکن ڈسپوزایبل ماسک کو دفنانا ہی ضروری ہے۔

4: بھیڑ اور ہجوم والی جگہوں سے اجتناب کریں اور لوگوں سے فاصلہ رکھیں۔

5: آنکھوں، ناک اور منہ کو بار بار چھونے سے گریز کریں۔ اس صورت میں ہاتھوں پر موجود نادیدہ وائرس جسم کے اندر جاسکتے ہیں۔

6: پانی ابال کر پیئیں، ہاتھ دھونے اور وضو کو اپنا معمول بنائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق