fbpx

آخر ہم کس کی بات مانینگے ؟؟؟

……تحریر: ناصر علی شاہ…..

آزمائش سمجھے یا قہر ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیل چکی ہے یک دم چین میں پھیلنے والے وائرس سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہو چکے ہیں جہاں قیمتی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں وہاں معیشت بھی ڈوب رہا ہے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں کئی ایسے بیمار لوگ جو اس وبا کی وجہ ہسپتال نہیں لائے جارہے, مارکیٹ بند, کاروبار ٹھپ ہوگئی ہے ایسے میں حکومت پاکستان کی طرف سے اس وائرس کو شکست دینے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جانے کے ساتھ ساتھ عوام کو احتیاط کرنے کی اپیل کی جارہی ہے.
حکومت اور طبعی ماہریں کیا کہتے ہیں وہ بھی پڑھ لیجئے
1.گھروں میں رہنا ہے تاکہ بیماری کی پھیلاؤ رک سکے.
رش میں جانے سے گریز کیا جائے
2.ہاتھ ملانے سے گریز کیا جائے
3.زکام کی صورت میں ماسک پہننا اور چھنکتے وقت منہ ڈھانپے
4.صابن سے ہاتھ دھوئے بغیر منہ, ہاتھ اور انکھوں کو نہیں چھونا ہے اور نہ موبائیل کو ہاتھ لگانا ہے..
5. صفائی کا خاص خیال رکھے جو نصف ایمان بھی ہے
مگر ہمارے عوام کو نہ کسی پہ بھروسہ ہے ہی یقین, اس وبا کے پیش نظر خانہ کعبہ کو بند کیا گیا مگر ایسے لوگ جو حج اور عمرے پہ جا نہیں سکتے مگر فیس بک کے اوپر اپنے رائے سے مذہبی منافقت پھیلانے بھر پور کوشش کرتے کہ اللہ کے گھر کو بند کیا,یہ وہ حالانکہ امام کعبہ اس کی اجازت دے چکے ہیں.علماء کی طرف سے نماز گھر میں پڑھنے کی تلقین اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کی اپیل ہے مگر کچھ لوگ نہ نماز پڑھنگے نہ گریاوزاری بلکہ فیس بک میں اس فیصلے کے خلاف برسرپیکار نظر ائینگے. تبلیعی جماعت میں خود نہیں جائینگے اس حالات کے پیش نظر حکومت منع کرے اسمیں بھی حسب معمول منافقت پھیلانے سے پیچھے نہیں ہٹینگے. زائرین کو روکنے کے باوجود مقدس مقامات کو چھو کر وائرس پھیلاتے گئے مگر مجال کوئی احتیاط کرنے کو تیار ہو.. آخر ہم کس قسم کے لوگ ہیں خود گھرون میں بیٹھ کر غلط کام کی حمایت کرکے اس وبا کو پھیلانے میں حصہ دار بن رہے ہیں. امام کعبہ, تمام مزاہب کے علماء و لیڈرز سمیت حکومت و طبعی ماہرین جان بچانے اور احتیاط برتنے کی تاکید کر رہے ہیں اور ہم کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں, آخر کیوں؟ لاٹھی چارج کے بعد پھر گھومنے پارک پہنچ جاتے ہیں
اس وائرس کو قہر تصور کرے تو بھی غلط نہیں ہوگا کیونکہ زنا کاری, ریاکاری, منافقت, نفرت, منافع خواری, حسد حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اللہ کی حکم اور فرامین پہ عمل کرنے کے بجائے ہم ہر غلط کام جو ممانعت ہے کرنے کی وجہ سے یہ حالات ہیں کوئی مانے یا نہ مانے اس وبا کے بعد جو زخیرہ اندوزی اور مہنگائی کی گئی اس کے بعد تو رونگٹے کھڑے ہوگئے. ایسے قوم بھی ہیں جو قرآن کی اس آیت کو فالو کرکے ( جس نے ایک زندگی بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا) پورے ملک کی مدد کر رہے ہیں اتفاقاً یہ کافر قوم ہیں اور ہم ایک ماسک 100 میں بھیج کر کمائی کا موقعہ ضائع نہیں کر رہے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں پتہ اس مہلک بیماری سے ہم محفوظ رہینگے بھی کہ نہیں..
میری اپنے تمام چھوٹے بڑوں سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے حکومت, علماء کرام, لیڈرز کی باتوں پہ من و غن عمل کرے اس بیماری کے خلاف لڑنے میں ہمارا ساتھ دیجیئے اپنے ماں باپ اور بچوں کی خاطر گھروں میں رہیئے اپنے ان عریبوں کے لئے جو روٹی کی ایک نوالا کے لئے تڑپتے ہیں ان کا سوچے ان کی مدد کیجئے.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق