fbpx

چترال میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے7اپریل تک دفعہ 144نافذ،خلاف ورزی کرنے والوں کو دفعہ 188کے تحت سز ا دی جائے گی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے ضابطہ فوجداری کے دفعہ 144کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ضلعے کے حدود میں ہر قسم کی سماجی، مذہبی اور دوسری ہرقسم کی اجتماعات پر مکمل پابندی لگادی ہے جوکہ فوری طور پر نافذا لعمل ہوکر 7اپریل تک جاری رہے گا۔ جمعرات کے دن جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضلع لویر چترال میں کرونا وائرس کی پھیلاؤ کو موثر طور پر روکنے، پبلک سیفٹی اور عوام کی جان بچانے کے لئے اس قدم کا اٹھانا ناگزیر ہوگیا تھا۔ اس پابندی سے بعض سرکاری، غیر سرکاری اور کاروباری اداروں کو استثنیٰ حاصل ہوگا جن میں تمام سرکاری محکمہ جات بشمول ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، طبی امداد کے ضرورت مند فرد اور ان کے ساتھ دو اٹینڈنٹس، رہائش کے قریب ادویات کی خریداری کے لئے جانے والے، ٹی ایم اے، پیسکوکے اہلکار، پبلک اور پرائیویٹ ٹیلی کام سروسز کے دفاتر بشمول فرنچائز دفاتر، بینک کے دفاتر شامل ہیں۔ اسی طرح فوڈ آئیٹم سے متعلق انڈسٹریز اور ان کی ڈسٹری بیوشن دفاتر، جنرل سٹور، بیکری، سبزی، پھل،چکن اور گوشت فروش اور رفاہی اداروں کوبھی استثنیٰ دی گئی ہے۔ استثنیٰ حاصل کرنے والے تمام افراد کو چاہئے کہ وہ سفر کرتے ہوئے قومی شناختی کارڈ اور دفتری کارڈ اپنے پاس موجود رکھیں۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تعزیرات پاکستان کے دفعہ 188کے تحت سز ا دی جائے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق