fbpx

پس وپیش۔۔۔ یہ خوف تناو کی صورت نہ بن جائے

…..۔۔۔ اے۔ ایم۔خان

کاروبار زندگی جو چلی آرہی تھی اُس دن سے درہم برہم ہوگئی جب کورونا وائرس نے ایک وباء کی صورت لے لی۔ پاکستان میں اُسوقت حالات تبدیل ہوگئے جب ہر صوبے سے وائرس کے مریض رپورٹ ہوئے، اور بعد میں جزوی لاک ڈاون، آمدورفت، صنعت اور بازار بند ہوگئے۔
ہر طرف دیکھا جائے وہی لوگ اور مقامات مگروہ رونق نظرآ نہیں رہی۔ ایک آسودگی اور خوف ہے۔ اگر کہیں سے ہنسی کی آواز آ بھی جاتی ہے تو وہ بھی معصوم بچے اور بچیاں ہیں ہستے اور کھیلتے نظر آتے ہیں، اور لوگوں کے دل بہلاتے ہیں کیونکہ اُنہیں حالات کا ادراک نہیں۔
وہ چیز جو سب کو پریشان کی ہے وہ خوف ہے جو اِس سے پہلے نہیں تھی۔ چاہے کوئی عزیز کیوں نہ ہو اگر وہ قریب آجائے تو اُس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ خوف اس لئے ہی نہیں کہ وہ وائرس زدہ ہے اور وہ وائرس مجھ میں منتقل ہوسکتا ہے بلکہ، خدانخواستہ، اگر میں انفکٹڈ ہوں اُسے بھی لگ سکتا ہے۔ یہ ایک عجیب کیفیت بن چُکی ہے اور یہ ایک ناگہانی خوف اندر سے سب کو کھا رہی ہے۔
نااُمیدی گناہ کے مترادف ہے اور اِنسان اُمید سے زندہ ہے۔
ہسپانوی فلو نے بچوں کا شکار کیا تھا، جس سے دُنیا میں پانچ کروڑاور ہندوستان میں ایک کروڑ اسی لاکھ لوگوں کی جان لی تھی اب کرونا وائرس، ماہرین کے مطابق، عمررسیدہ لوگوں کیلئے جان لیوا ہے۔ اور کتنے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔
اور یہ وباء ایک آزمائش سے کم نہیں۔
پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق چونتیس فیصد آبادی ذہنی دباو اور تناوکا شکار ہے۔ گوکہ یہ شرح ملک کے مختلیف علاقوں میں مختلف ہے لیکں اس وباء کے دوران اور اسکے بعد ذہنی اور نفسیاتی مریضون کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ کیوں؟
کیونکہ ملک کی معاشی حالت پہلے سے خراب تھی جو مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ افراط زر اور لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی تھی، مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ اور لوگوں کی آمدنی میں کمی، اور اخراجات بڑھنے کے قومی امکانات ہیں۔ وائس آف امریکہ کے کل کے ایک رپورٹ کے مطابق ”کورونا وائرس نے 33 لاکھ امریکی بے روزگارکردئیے”، اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث ”دُینا بھر میں ڈھائی کروڑ افراد کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے”۔
پاکستان میں صنعت، کاروبار، مزدوری، نوکری، روڈ، سکول، تفریحی مقامات، کھیل اور لوگوں کا آپس میں میل جول بند ہے۔ بس پوری دُنیا میں ایک ادارہ کھلا ہے اور وہاں رش اور پریشانی ہے وہ ہسپتال ہے، باقی سب بند۔ ہاں شاید ان لائن کاروباری لوگ اپنا کام اسی طرح یا اس سے بہتر چلا رہے ہیں لیکں باقی کاروبار اگر مکمل بند نہیں تو جزوی طور پر کھلے ہیں۔
ہر شخص کا کاروبار زندگی خراب اورلوگ گھروں میں نفسیاتی طورپر اسیر ہوگئے ہیں۔ گوکہ اس وباء کو محدود رکھنے کیلئے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خم دار لکیر کو ہموار کیا جاسکے لیکن یہ اسیری کب تک؟ کچھ معلوم نہیں۔
ریاستی احکامات اور حالات کو مدنظر رکھ کر گھروں سے باہر جانے پر پابندی ہے۔ وہ لوگ باہر اپنا کام کرتے تھے، کماتے تھے اور وقت گزارتے تھے اب باہر جا نہیں سکتے تو اُن لوگوں پر ایک نفسیاتی دباو اور خوف طاری ہوچکی ہے۔ اورساتھ زندگی کا سفربھی غیر یقینی ہے۔ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ آنیوالا معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی منظرنامہ کیا ہوسکتاہے۔ سب جانتے ہیں تبدیلی کے قوی امکانات موجود ہیں۔ اور لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آنیوالے حالات، گوکہ غیر یقینی ہیں، سے کسطرح مقابلہ کیا جائے۔ لوگ پریشان ہیں۔
حقوق نسوان اور دوسرے ادارون سے منسلک افراد گھروں میں ناچاقی، تشدد اور ابیوز کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ چین کا علاقہ ووہان میں اس وباء کے دوران طلاق کے واقعات زیادہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کے واقعات دوسرے ممالک اور علاقوں میں ہونے کے خدشات بھی ظاہر کئے جاتے ہیں؟
ملک میں حالات کے پیش نظر، اور بعد میں، بلکہ پوری دُنیا میں معاشی نظام، پیشہ ورانہ اداروں اور صحت کے حوالے سے بڑے پیمانے میں اصلاحات اور پالیسیوں میں تبدیلی کی گنجائش ہے۔ اب یہ تبدیلی لوگوں کی زندگی کے حوالے سے کسطرح ہوسکتے ہیں جوکہ لوگوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ وقت ہی بتائے گا۔
پاکستان جیسے غریب ملک جس میں عام آدمی کی اکثریت ہے وہاں لوگ اگر ذہنی اور نفسیاتی کوفت کا شکار اگر نہیں بھِی ہے تواُن پر دباؤ آنے کی گنجائش موجود ہے جوکہ ایک طرف کورونا وائرس کے وباء اور اس سے منسلک زندگی کے مسائل سے جنم لے سکتے ہیں تو دوسری طرف ملک میں معاشی اور سیاسی تبدیلی کے حوالے سے سامنے آسکتے ہیں۔
لوگوں میں ذہنی کوفت، نفسیاتی تناو، اور معاشی دباو سے نمٹنے کیلئے ملک میں ریاستی اور نجی اداروں کو مل کرابھی سے کام کرنیکی اشد ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ اور حالات کے مطابق لوگوں کی ذہن سازی کا عمل بھی جاری رہے کیونکہ بیمار اور ذہنی تناو کا شکار معاشرہ ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق