fbpx

اپر چترال بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ مزید برداشت سے باہر۔تحریکی حقوق و سیاسی نمائیندہ گان اپر چترال کی ہنگامی اجلاس

اپرچترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) ایک طرف کرونا وائریس کی پریشانی اوپر سے بدترین لوڈ شیڈنگ اپر چترال عوام کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔کرونا کے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر حکومتی لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں عوام گھروں میں محصور ہیں وہاں انہیں ملکی حالات سے باخبر ہونے کے بھی ذارئع میسر نہیں۔سکول بند ہیں دوسرے علاقوں میں انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں وہاں اپر چترال کے بچے آپس میں لڑائی اور جھگڑوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ انہیں کمپیوٹرآن کرنے،موبائل چارج کرنے اور ٹی۔وی دیکھنے کے لیے بجلی میسر نہیں۔ ان حالات کے پیش نظر حالات کے ستائے عوام ایک بار پھر تمام حالات کے پرواہ کیے بے غیر سڑکوں پر آنے کو سوچ رہی ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ روز تحریک حقوق اپر چترال کی کال پر سیاسی عمائدین اور تحریک کے کارکنوں کا ایک ہنگامی اجلاس تحریک کے صدر مختار احمد کے ہاں منعقد ہوا جس میں تحریک کے کارکنوں کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی نمائیند گی رہیں۔ ان جن میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا شیر کریم شاہ، سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف، امیرِ جماعتِ اسلامی مولانا جاوید،ریٹائرڈ پرنسپل عبد الکبیر، محمد یونس لال، تحریک حقوق کے صدر مختار احمد،تحریکِ انصاف کے بابر علی،اے۔این۔پی کے قربان علی،پی۔پی۔پی کے رحمت سلام اور پرویز لال،عید علی،حسین زرین و دیگر کارکنان نے شرکت کیں۔صدارت رحمت سلام لال نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پرویز لال انجام دے رہے تھے۔ جملہ شراکاء نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے پیڈو اور واپڈا عوام پر ظلم ڈھائے ہوئے ہیں۔ اور مختلف حیلے بہانے سے عوام کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس وقت کرونا وائرس کے پیچھے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں اور اپنی ناہلی کرونا کے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ عوامِ اپر چترال کو کرونا سے زیادہ یہی ادارے ستا رہے ہیں۔ برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اب یہ بالکل نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ایک طرف عوام کرونا کی وجہ سے گھروں میں مقید ہیں دوسرے طرف ادارے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت رمضان المبارک بھی قریب ہے ایسی صورت حال میں مزید خاموشی عوام سے برداشت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے ادارے اور انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ 13 اپریل تک بجلی کی نظام درست نہ ہوئی توکسی بھی پریشانی کا پرواہ کیے بے غیر عوام سڑکوں پرنکل آئینگے جو احتجاج، دھرنا اور لانگ مارچ کی صورت میں اپنے بنیادی حق لینے تک جاری رہے گی۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق