fbpx

ہم اوراق رفتہ میں

……فیض العزیز فیض…..

بنی آدم کتنا سر کش ہے،اس کے رب نے زمانے کی قسم کھا کر اس کے خسارے کا عندیہ دیا۔یہ پھر بھی اعمال صالح والا تو کیا،حق کا ساتھ دینے والا بھی نہیں بنتا۔کوئی اور اُمت ہوتی تو اب تک صفحہء ہستی سے مٹ چکی ہوتی،رب نے اس پر عتاب نازل نہیں کیا۔یہ اُمت سے قوم اور قوم سے ریوڑ بن گیا،اس سے زیادہ پستی پر اُترا تو برادریوں میں بٹ گیا۔اپنا اپنا کھیت چرتا ہے،کسی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا۔اپنے لئے عذاب پسند کرتا ہے۔خود ہی صبح شام گریہ زاری اور نوحہ خوانی میں گزارتا ہے۔اعمال اپنے ہی ہوتے ہیں لیکن نتائج دوسروں کے معاملات کے حساب سے آنے کا منتظر رہتا ہے۔لگاتے ہیں امرود کے درخت اور نیچے بیٹھ کر پکے ہوئے آموں کے گرنے کا انتظار بھی کرتے ہیں۔ہمارے دور کا مورخ کیا لکھے گا جب کہ یہاں ہر انسان انفرادی طور پر ایک تاریخ لکھ رہا ہے تمام ادارے، میڈیا، سوشل میڈیا،کتابیں،تحقیق یہ سب چیزیں مل کر کیا کسی ایک حقیقت پر متفق ہو سکیں گی کہ اس افراتفری والے حالات کو پیدا کرنے کا زمہ دار کون تھا۔کون صحیح تھا اور کون غلط؟ہماری حقیقی تباہی کا ذمہ دار دراصل کون تھا؟یہ سوال مجھے بار بار پریشان کرتا ہے کہ ہماری نوزائیدہ نسل جب جوان ہوگی تو انہیں کیا سبق ملے گا وہ کس کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟
ابھی تو میں زندگی کے تین عشرے گزار چکا ہوں۔اور میں نے تہذیب اور اقدار میں اتنے اُتار چڑھاؤ دیکھے ہیں کہ بیان سے باہر ہے،ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، ناپ تو ل میں کمی،خرید ار کو عیب والا مال بھیجنا، جھوٹی قسم کھا کر مال بھیجنایا عمدہ چیز بتا کر گھٹیا چیز بھیجنا یا کبھی کسی چیز یا جمع کیے گئے مال کو جسے کم پیسوں میں خریدا ہوتا ہے لیکن مارکیٹ میں وہ چیز نا یا ب ہوجاتی ہے تو اس کو پھر نئی قیمت پر مہنگے دام بیچ دینا۔ حال ہی میں ہینڈ سینیٹائزرز کا معاملہ دیکھو۔پچاس روپے میں بھگتے تھے 400کے بھی نہیں ملتے۔پہلے جو لوگ ہیرو لگتے تھے انہیں زیرو بنتے دیکھا۔اور جو بھی تبدیلی آئی ہے بظاہر تو وہ ترقی لگتی ہے لیکن مجھے تنزلی لگتا ہے۔
آج سے سو سال بعد ہم میں سے شاید کوئی زندہ رہے، تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے گی، آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے، کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے، کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے، کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان، کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہئے لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔ آج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا، مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بے رحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوگا۔ سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بے رحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا، کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم حجاج بن یوسف کی طر ح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے….. کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق