بشارت از مبشرالملک

امام ابن تیمیہؒ — تجدیدِ دین یا فکری کشمکش؟۔۔تحریر: مبشرالملک

اسلامی دنیا میں امام ابو حامد الغزالی کے بعد اگر کسی شخصیت نے فکری و دینی میدان میں گہرا اثر چھوڑا تو وہ امام ابن تیمیہ ہیں۔ امام غزالیؒ نے جہاں فلسفہ، کلام اور تصوف کے امتزاج سے دین کی باطنی اصلاح پر زور دیا، وہاں ان کی تعلیمات نے صدیوں تک مسلم معاشروں میں روحانیت اور تصوف کو ایک نمایاں مقام دیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اسی تصوف میں بعض ایسی روایات اور رسومات شامل ہوتی گئیں جنہیں ناقدین نے بدعات اور خرافات قرار دیا۔

 امام ابن تیمیہؒ ۖاس دور میں سامنے أے جب مسلمان منگولوں کے رحم وکرم پر تھے بلکہ ان کی علمی میراث بھی دجلہ برد ہوچکی تھی۔امام تیمیہ ایک جری، بے باک اور غیرروایتی عالم اور مفکر کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے قرآن و سنت کی براہِ راست پیروی پر زور دیا اور ایسے تمام اعمال پر تنقید کی جو ان کے نزدیک اصل دین سے ہٹ کر تھے۔ انہوں نے بعض صوفیانہ نظریات، قبروں سے غیر معمولی وابستگی، اور اولیاء کے بارے میں مبالغہ آمیز عقائد ،یونانی فلسفہ ۔منطق چال بازیووں کو چیلنج کیا۔ ان کی یہ تنقید دراصل دین کو “اصل مصادر” کی طرف لوٹانے کی ایک کوشش تھی، نہ کہ محض کسی ایک شخصیت یا طبقے کے خلاف محاذ آرائی۔

امام ابن تیمیہؒ کی فکر نے بعد کے ادوار میں خاص اثر ڈالا، خصوصاً محمد بن عبد الوہاب کی تحریک میں، جس نے جزیرۂ عرب میں ایک اصلاحی لہر پیدا کی۔ اس تحریک کا مقصد توحید کو خالص شکل میں پیش کرنا اور غیر اسلامی رسوم کا خاتمہ تھا۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ ہر اصلاحی تحریک کے ساتھ ایک ردِ عمل بھی پیدا ہوتا ہے، اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔

ناقدین کے مطابق، اس سخت گیر اندازِ اصلاح نے بعض حلقوں میں شدت پسندی کو بھی جنم دیا، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ خالص توحید کی طرف واپسی تھی۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ایک طرف امام غزالیؒ کی روحانیت انسان کے باطن کی اصلاح پر زور دیتی ہے، تو دوسری طرف امام ابن تیمیہؒ کی فکر ظاہر کی درستی اور عقیدہ کی صفائی کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ امام ابن تیمیہؒ نے “روحانیت کو دفن” کر دیا؛ بلکہ انہوں نے اس کی ان شکلوں پر اعتراض کیا جو ان کے نزدیک شریعت سے متصادم تھیں۔ اسی طرح یہ بھی مکمل حقیقت نہیں کہ ان کی فکر نے صرف انتشار کو جنم دیا—بلکہ اس نے اسلامی فکر میں ایک نئی بحث، احتساب اور تجدید کا دروازہ بھی کھولا۔

تاہم تاریخ کے ایک دوسرے زاویے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتاب التوحید کی تدوین میں محمد بن عبد الوہاب نے امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم الجوزیہ کی تحریروں سے اثر لیا۔ ناقدین کے مطابق اسی فکر کے زیرِ اثر جزیرۂ عرب میں بعض مزارات اور قبور—خصوصاً جنت البقیع—کو منہدم کیا گیا، جس پر عالمِ اسلام میں شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

کچھ مؤرخین یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس تحریک کے نتیجے میں مخالفین کو “بدعتی” قرار دے کر ان کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے، اور مسلکی اختلافات میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح بعض حلقوں کی رائے ہے کہ اس دور کی سیاسی کشمکش، خصوصاً برطانوی راج اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے تناظر میں، ان تحریکات کے اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جبکہ فلسطین کے حالات بھی اسی بڑی عالمی تبدیلی کا حصہ بنے۔

یہ تمام آراء اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ایک سنجیدہ طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ کو ایک ہی زاویے سے نہیں بلکہ مختلف جہات سے دیکھے، تاکہ حقیقت کا متوازن فہم حاصل ہو سکے۔

آخر میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جس طرح امام ابو حامد الغزالی کی فکر دینِ اسلام کا مکمل احاطہ نہیں کرتی بلکہ اس کے ایک اہم پہلو—یعنی باطن اور روحانیت—کو نمایاں کرتی ہے، اسی طرح امام ابن تیمیہ کی تعلیمات بھی دین کے ایک مخصوص رخ—عقیدہ کی تطہیر اور ظاہر کی اصلاح—پر زیادہ زور دیتی ہیں۔

دینِ محمدی ﷺ نہ صرف قلب و روح کی پاکیزگی کا نام ہے اور نہ ہی محض ظاہری اعمال اور عقائد کی درستی تک محدود؛ بلکہ یہ ان دونوں کا حسین امتزاج ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں کبھی ایک پہلو غالب آیا اور کبھی دوسرا، اور انہی غلبوں نے مختلف فکری و مسلکی دبستانوں کو جنم دیا۔

امام ابن تیمیہ کی فکر نے جہاں توحید اور سنت پر زور دیتے ہوئے ایک مضبوط اصلاحی تحریک کو جنم دیا، وہیں بعض ادوار میں یہی فکر ریاستی طاقت کے ساتھ جڑ کر نافذ بھی ہوئی اور آج تک اس کے اثرات جزیرۂ عرب میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تعبیر بھی دینِ کامل کا کل نہیں، بلکہ اس کا ایک حصہ ہے—جسے بعض حلقوں نے غالب کر دیا۔

پس اصل پیغام یہی ہے کہ نہ تو روحانیت کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ شریعت پسِ پشت چلی جائے، اور نہ ہی ظاہر کی اصلاح کے نام پر باطن کی دنیا کو نظرانداز کیا جائے۔ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو امت کو تفرقہ سے نکال کر وحدت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO