
امامُ الہند — شاہ ولی اللہ دہلوی۔۔تحریر: مبشرالملک
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں امتِ مسلمہ علم، عدل، روحانیت اور قوتِ عمل کا عظیم نمونہ تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی اختلافات، فقہی نزاعات اور روحانی انتہاؤں نے امت کے شیرازے کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ بدقسمتی سے دینِ اسلام کا ایک توانا گروہ پہلے ہی اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت، خلافت کے مسئلے اور تاریخ کی بعض ناانصافیوں کے سیاسی و اعتقادی بیانیے کے ساتھ الگ راہ اختیار کر چکا تھا، جبکہ دوسری جانب اہلِ سنت کے اندر بھی مختلف فکری دھارے جنم لے چکے تھے۔ ایک طبقہ باطنی اصلاح، تصوف، خانقاہی نظام اور روحانی تربیت کو دین کی اصل روح سمجھتا تھا، جبکہ دوسرا گروہ جری پالیسی، سخت احتساب اور بزورِ بازو دین کی احیاء کے نظریے کے ساتھ سرگرمِ عمل تھا۔ یوں امتِ مسلمہ ایک ایسی فکری کشمکش میں مبتلا ہو گئی جہاں ہر طبقہ خود کو حق کا نمائندہ اور دوسرے کو گمراہ سمجھنے لگا۔
انہی حالات میں ایک ایسی شخصیت ابھری جس نے اختلاف کے سمندر میں اعتدال کا چراغ روشن کیا۔ وہ نہ صرف عالمِ دین تھے بلکہ ایک مدبر، مصلح، مفکر اور روحانی رہنما بھی تھے۔ تاریخ انہیں “امامُ الہند” کے نام سے یاد کرتی ہے، اور وہ تھے شاہ ولی اللہ دہلوی۔
امام غزالی نے اسلامی فلسفہ، اخلاق اور تصوف کو ایک نئی روح بخشی۔ ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، مگر بعد کے ادوار میں بعض حلقوں نے تصوف کی اصل روح کو چھوڑ کر ظاہری رسوم، خانقاہی جمود اور دنیا سے کنارہ کشی کو دین سمجھ لیا۔ نتیجتاً امت میں عمل کی قوت کمزور پڑتی گئی۔ دوسری جانب ابن تیمیہ نے بدعات، غلو اور غیر اسلامی رسوم کے خلاف سخت علمی مؤقف اختیار کیا۔ ان کی اصلاحی تحریک نے دین کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کا درس دیا، لیکن بعد میں بعض شدت پسند حلقوں نے اس فکر کو سخت گیری اور فرقہ وارانہ تقسیم کا ذریعہ بنا لیا۔ یوں امت مختلف خانوں میں تقسیم ہوتی گئی؛ ایک دوسرے پر بدعت، شرک اور گستاخی کے الزامات لگنے لگے، اور علمی اختلاف دشمنی میں بدلنے لگا۔
برصغیر میں جب سیاسی زوال، مغلیہ سلطنت کی کمزوری اور مذہبی انتشار اپنے عروج پر تھا، تب شاہ ولی اللہ دہلوی نے امت کے ٹوٹے ہوئے شیرازے کو جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نہ صرف تصوف اور شریعت کے درمیان توازن قائم کیا بلکہ فقہی و مسلکی اختلافات میں اعتدال کی راہ دکھائی۔ ان کے نزدیک تصوف دل کی اصلاح کا ذریعہ تھا، مگر شریعت سے ہٹ کر کوئی روحانیت قابلِ قبول نہیں تھی۔ اسی طرح وہ فقہ اور حدیث کے عالم تھے، مگر تکفیر اور نفرت کے بجائے حکمت اور اتحاد کے داعی تھے۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآنِ مجید کو عوام تک پہنچانے کے لیے فارسی میں ترجمہ کیا، تاکہ عام مسلمان بھی اللہ کے کلام کو سمجھ سکیں۔ اس دور میں قرآن کا ترجمہ ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اور بعض تنگ نظر علما نے اس پر سخت اعتراضات کیے۔ مخالفت اس قدر بڑھی کہ آپ کو شدید مشکلات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ روایت ہے کہ آپ نے حجازِ مقدس کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں تقریباً دو سال قیام کیا، جہاں آپ نے حدیث، فقہ اور روحانیت کے بڑے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ اسی قیام نے ان کی فکر میں مزید گہرائی اور اعتدال پیدا کیا۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے امتِ مسلمہ کے زوال کے اسباب پر گہرا غور کیا۔ واپس آ کر انہوں نے اصلاحِ امت کا ایک جامع پروگرام پیش کیا۔ ان کی مشہور تصنیف “حجۃ اللہ البالغہ” آج بھی اسلامی فکر کا عظیم سرمایہ سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی طرف رجوع، اجتہاد کی ضرورت، فرقہ واریت کے خاتمے اور امت کے اتحاد پر زور دیا۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی سب سے بڑی خدمت یہی تھی کہ انہوں نے تصوف اور شریعت، عقل اور روایت، فقہ اور حدیث کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ وہ نہ اندھی تقلید کے حامی تھے اور نہ بے لگام جدت کے۔ ان کی فکر میں محبت بھی تھی، اعتدال بھی، اور اصلاح کا درد بھی۔
آج جب مسلم دنیا پھر مسلکی انتشار، شدت پسندی اور فکری تقسیم کا شکار ہے، شاہ ولی اللہ دہلوی کی فکر پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ ان کا پیغام یہی تھا کہ امت کو نفرت کے فتووں سے نہیں بلکہ علم، حکمت، قرآن فہمی اور باہمی احترام سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں صرف ایک عالم نہیں بلکہ “امامُ الہند” کے نام سے یاد کرتی ہے۔
