بشارت از مبشرالملک

جادوِ بیان۔۔۔ بھٹو کے کارنامے..۔تحریر: مبشرالملک

ذوالفقار علی بھٹو۔ برصغیر کی سیاست کا وہ نام ہے جس کے ذکر کے ساتھ ہی ایک پوری سیاسی تاریخ آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ وہ محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ جادوِ بیان، عوامی جذبات اور طاقتور سیاسی شخصیت کا ایک ایسا امتزاج تھے جس نے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا۔

بھٹو نے سیاست کو مخصوص طبقوں کے دروازوں سے نکال کر عام آدمی کی گلیوں اور چوباروں تک پہنچایا۔ “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ صرف ایک سیاسی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک پورے طبقے کی محرومیوں کی آواز تھا۔ مزدور، کسان اور متوسط طبقہ پہلی مرتبہ خود کو ریاستی گفتگو کا حصہ محسوس کرنے لگا۔

ان کے دور کا سب سے بڑا اور مستقل کارنامہ 1973ء کا أیین ہے، جو آج بھی ملک کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ سیاسی بنیاد فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے ان کے دور میں پورا کیا گیا۔ اسی طرح ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد، اور چین و عرب دنیا سے تعلقات کو مضبوط بنانا بھی ان کے نمایاں اقدامات میں شامل ہے۔

لیکن تاریخ ہمیشہ ایک رخ نہیں دکھاتی، اس کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔

بھٹو نے جہاں عوام کو متحرک کیا، وہاں اقتدار میں آ کر اختلاف رائے کو برداشت کرنے میں سختی دکھائی۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت رویہ، طاقت کا استعمال اور انتقامی سیاست نے ان کے جمہوری تصور کو متاثر کیا۔ وفاقی حفاظتی دستے کا قیام اسی طرزِ فکر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

سب سے حساس اور پیچیدہ باب ۔۔ بلوچستان ۔۔۔ کا ہے۔ بلوچ قیادت، خصوصاً نواب اکبر بگتی۔عطا اللہ مینگل اور خیر بخش مری جیسے رہنماؤں کے ساتھ سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلوچستان کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا، فوجی کارروائی ہوئی، اور ریاست و بلوچ قیادت کے درمیان بداعتمادی کی ایک گہری خلیج پیدا ہو گئی جس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاقت سے وقتی نظم تو قائم ہو سکتا ہے مگر دل نہیں جیتے جا سکتے۔ بلوچستان کے مسائل آج بھی اسی تاریخ کا تسلسل محسوس ہوتے ہیں۔

انیس سو ستتر کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران نے ملک کو شدید کشیدگی میں مبتلا کیا۔ احتجاج، تصادم اور بے یقینی نے بالآخر فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی۔ یوں ایک عوامی رہنما کے بعض فیصلے بعد میں ملک میں جمہوری عمل کے لیے مشکلات کا سبب بنے۔

بھٹو ایک مکمل فرشتہ تھے نہ مکمل غلط۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن میں عوامی مقبولیت بھی تھی اور سخت سیاسی انداز بھی۔ ایک طرف وہ عوامی امید تھے، دوسری طرف طاقت کے مرکز میں رہ کر سخت فیصلے کرنے والے رہنما بھی۔

پاکستان کی سیاست کا مسئلہ بھی یہی رہا ہے کہ شخصیات اداروں سے بڑی ہو جاتی ہیں۔ بھٹو بھی اسی روایت کا حصہ بن گئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں نجات دہندہ سمجھتے ہیں اور ان کے ناقد ان کی پالیسیوں کو قومی مشکلات کا سبب قرار دیتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر بھٹو اپنے جادوِ بیان کے ساتھ سیاسی برداشت، مفاہمت اور صوبائی حقوق کو زیادہ اہمیت دیتے تو شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک مختلف راستہ اختیار کرتی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO