منظور نظر

پلے گروپ سے پانچویں جماعت تک بچے کی فطرت اور ہمارا نظامِ تعلیم

تحریر: منظور الحق

کبھی کسی ننھے بچے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے؟ وہاں ایک پوری کائنات آباد ہوتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں دیواروں کے پیچھے پریاں رہتی ہیں، جہاں بارش کے قطروں میں کہانیاں تیرتی ہیں، اور جہاں مٹی کا ایک گھروندا تاج محل سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ یہ پلے گروپ سے پانچویں جماعت تک کا وہ سنہرا دور ہے جب بچہ بولنا تو سیکھ لیتا ہے، مگر اپنے پورے دل کا حال ابھی بیان نہیں کر پاتا۔

بچے کی اصل دنیا

یہ وہ عمر ہے جب اس کے ذہن میں ایک الگ موسیقی بج رہی ہوتی ہے۔ کھڑکی سے باہر اڑتی تتلی، راستے میں پڑا کنکر، یا کلاس روم کے کونے میں رکھا جھولا، سب اسے بلا رہے ہوتے ہیں۔ سکول جاتے ہوئے اس کی ساری توجہ لنچ باکس کے رنگ پر ہوتی ہے، اور واپسی پر اسے صرف اتنا یاد رہتا ہے کہ گھر جا کر مٹی سے کیا بنانا ہے۔ اس کے دل میں معصومیت کا رقص ہے، آنکھوں میں تجسس کے دیے جل رہے ہیں، اور دماغ تیزی سے نئی کونپلیں نکال رہا ہے۔ وہ “سیکھنا” نہیں چاہتا، وہ “محسوس کرنا” چاہتا ہے۔ وہ نمبر نہیں، محبت گننا چاہتا ہے۔

ہمارا نظام: فطرت کا قاتل

مگر ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے اس معصوم نفسیات کو روند ڈالا ہے۔ ہم نے چار سال کے بچے کی پیٹھ پر چار کلو کی کتابیں لاد دی ہیں۔ ہم نے اسے ABC سے پہلے مقابلہ سکھا دیا۔ ہم نے اسے “پہلی پوزیشن” کا خوف دے کر اس کے کھیلنے کا حق چھین لیا۔ ہمارا نصاب اسے رٹا لگانے والی مشین بنا رہا ہے، انسان نہیں۔

ہم بھول گئے ہیں کہ یہ نازک روح زور نہیں، شفقت مانگتی ہے۔ یہ ڈانٹ سے نہیں، پیار سے کھلتی ہے۔ بچہ اپنی ہی دھن پر ناچتے ہوئے دنیا سیکھنا چاہتا ہے، مگر ہم اسے اپنی لکیر پر چلانا چاہتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم بچے کی ذہنی نشوونما کو پہلے نمبر پر رکھنے کے بجائے، اسے “فیڈ” کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم اس کی قابلیت، اس کا تجسس اور سب سے بڑھ کر اس کی معصومیت تک چھین لیتے ہیں۔

اور پھر الزام بھی اسی پر

جب بچہ اس غیر فطری بوجھ تلے دب کر سہم جاتا ہے، جب وہ پڑھائی سے بھاگتا ہے، جب اس کے نمبر کم آتے ہیں، تو ہم الٹا اسے ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ “نالائق ہے”، “دھیان نہیں دیتا”، “کھیلتا رہتا ہے”۔ کبھی ہم نے سوچا کہ شاید قصور بچے کا نہیں، اس پنجرے کا ہے جس میں ہم نے اسے بند کر دیا ہے؟

اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اکثر سکولوں میں وہ اساتذہ بھی ستائے ہوئے ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں ہم نے یہ کلیاں دی ہیں۔ جو استاد خود سسٹم، تنخواہ یا انتظامیہ کے دباؤ کا شکار ہو، وہ بچے کو وہ پہلا لقمہ کیسے دے گا جو محبت اور اطمینان سے بھرپور ہو؟ جب دینے والے کے ہاتھ ہی کانپ رہے ہوں تو لینے والے کا دل کیسے بہلے گا؟

حل کیا ہے؟

حل صرف ایک ہے: بچے کو بچہ رہنے دو۔

  1. ۔ نصاب نہیں، ماحول دو
    پانچویں جماعت تک نصاب 70 فیصد کھیل، کہانی، مشاہدہ اور سوال پر مبنی ہونا چاہیے۔ کتاب آخری سہارا ہو، پہلی سیڑھی نہیں۔

2. ۔ استاد نہیں، باغبان بنو
استاد کا کام معلومات انڈیلنا نہیں، بلکہ تجسس کی کونپل کو پانی دینا ہے۔ اسے ڈرانا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ حیران ہونا ہے۔

3. ۔ مقابلہ نہیں، محبت
ہر بچہ الگ پھول ہے۔ کسی سے گلاب کی خوشبو مانگنا اور کسی سے چنبیلی کی، یہ زیادتی ہے۔ نمبر کی دوڑ ختم کر کے “سیکھنے کی خوشی” واپس لاؤ۔

4. ۔ پہلے روح، پھر سبق
بچے کی ذہنی صحت، خوشی اور معصومیت اول ہے؛ ریاضی اور سائنس بعد میں۔ ایک خوش بچہ خود بخود سب سیکھ لے گا، مگر ایک سہما ہوا بچہ کچھ نہیں سیکھتا۔

یاد رکھیں، قومیں عمارتیں کھڑی کر کے نہیں، انسان اگا کر بنتی ہیں۔ اور انسان اگانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ بیج کو اس کی مٹی، اس کی دھوپ اور اس کے پانی کے ساتھ پھلنے پھولنے دیا جائے۔ زبردستی کھینچ کر پودا بڑا نہیں ہوتا، ٹوٹ جاتا ہے۔

آئیے، اپنی آنے والی نسلوں کو ٹوٹنے سے بچائیں۔ ان کی آنکھوں کی موسیقی کو شور میں نہ بدلیں۔ کیونکہ جس دن ہم نے بچے سے اس کی معصومیت چھین لی، اس دن ہم نے اپنے کل کا سورج بھی گہنا دیا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock