وصیتِ امیر تیمور۔۔تحریر: مبشرالملک
امیر تیمور نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں اپنے فرزند عمر شیخ کو جو وصیت کی، وہ صرف ایک باپ کی نصیحت نہیں بلکہ ایک ریاست ساز کی حکمت بھری گواہی ہے۔
“بیٹا! دنیا میں اگر تمہیں نامور بننا ہے، تو دو چیزوں کی ہمیشہ جستجو کرتے رہنا: دولت اور علم۔”
1۔ دولت کی طاقت:
دولت وہ ہتھیار ہے جس کے زور پر تم:رعایا کے کمزور طبقات،
مفاد پرست علما،لالچی امراء،اور جرائم پیشہ عناصر کو خرید سکتے ہو۔
یہ وہ طبقے ہیں جو دولت کے دھوکے میں آکر تمہاری مدح سرائی کریں گے، تمہارے درباری بنیں گے، اور تمہیں دنیا کا نجات دہندہ سمجھیں گے۔
مگر خبردار! جب تم کسی علاقے کو فتح کرو، تو ان خوشامدی عناصر پر ہرگز رحم نہ کھانا۔
کیونکہ یہ لوگ لالچ کے پجاری ہوتے ہیں، اور جس دن کوئی دوسرا تم سے زیادہ لالچ دے، وہ تمہیں چھوڑ کر اسی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔
ایسے لوگوں پر رحم کرنا ریاست، اقدار اور قیادت کی بربادی ہے۔
2۔ علم کی روشنی:
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور تمہیں اس کی طلب میں کتنی ہی مشقت کیوں نہ اٹھانی پڑے، کبھی پیچھے نہ ہٹنا۔
علم:
تمہیں جہان بانی کے گر سکھاتا ہے،
تمہارے قریب عقل مند، بااصول اور ذی حسب و نسب لوگ لا سکتا ہے،اور ایسے اہل علم تمہارے وہ مشیر بن سکتے ہیں جنہیں تم دولت کی تلوار سے نہیں، علم اور عزت کی تلوار سے اپنا بناسکتے ہو۔
یہی لوگ تمہارے لیے ریاستی ستون بنیں گے۔ ان کی عزت و توقیر کا ہمیشہ خیال رکھنا، تاکہ تمہیں بھی عزت و وقار نصیب ہو، اور جہاں بھی تم قدم رکھو، فتح تمہارا مقدر بنے۔
—> 🔴 میں ہوں امیر تیمور
(بحوالہ: تاریخی یادداشتیں و مکتوباتِ تیموریہ)
