*نیچر سے چھیڑ خانی*۔۔از مبشرالملک
*کلاوڈ برسٹ کیوں نہ ہوں*,؟
سونامی کیوں بپھیریں؟ بجلیان کیوں نہ گریں؟ زلزلے کیوں نہ أییں؟
لا علاج امراض کیوں نہ پھلیں؟ خوف دہشت اور قتل و غارت کیوں نہ گرم ہوں ؟ کیا اللہ جبارو قہار اور اس کےمخبر صادقﷺ یہ سب کچھ ہمیں بتا نہیں دیا تھا کہ۔ انسان بحرو بر میں اپنے ہی اعمال کے سبب فساد مچاے گا۔ تو یہ سب ہونگے
اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک متوازن اور حسین نظام پر قائم کیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ، أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ”
(الرحمٰن 55:7-8)
یعنی: اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور ایک توازن قائم کیا تاکہ تم اس توازن میں خلل نہ ڈالو۔
لیکن افسوس! انسان نے اپنی خواہشات کے ہاتھوں اس نظامِ فطرت کو درہم برہم کر دیا ہے۔ نیچر کے خلاف بغاوت دراصل اللہ کی نافرمانی ہے، کیونکہ قرآن و سنت نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا تاکہ وہ خیر کا ذریعہ بنے، نہ کہ شر کا۔
*نظام خلافت سے چھڑ خانی۔*
اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے ایک ضابطہ حیات کا انتخاب کیا اور اس کے تحت زندگی گزارنے کا سختی سے حکم دیا ۔قران نازل کی اس کے عملی تکمیل کے لیے اپنے حبیب ﷺ کو بطور نمونہ ریاستی حکمران بنا کے پیش کیا۔
۔📖 سورۃ النساء، آیت 65
> فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًۭا
ترجمہ:
“پس تیرے رب کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے آپس کے جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ کریں اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اس کو دل سے تسلیم کریں۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “جو شخص ایسے امیر کو دیکھے جو اللہ کی نافرمانی کر رہا ہو اور اللہ کے حکم کو چھوڑ رہا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے خلاف کھلے لفظوں میں بات کرے۔”
(مسند احمد، حدیث 18449)
مگر ہم نے کلمے کے نام پہ سیاست کی ۔اسی سال ہونے کو ہیں پاکستان کو تجربہ گاہ بناے رکھا اس نظام خلافت میں یورپ کی پیوند کاری کی جو ضابطہ حیات اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ نے دیا اسے اسلامی ٹچ براے مطلب نبھاتے رہے اس فطرت سے دخل اندازی کے یہی نتایج تو نکلنے تھے اور ہیں۔ جو عذاب کی شکل میں روز بروز عالم انسانیت کے سامنے ہمارا ہورہا ہے۔کیا نیچر سے اس سے بڑی چھیڑ خوانی ہوسکتی ہے ؟ جو اللہ کے مقابلے میں ہمارے حکمران کر رہے ہیں ؟
*شہروں کا بوجھ اور آلودگی*
رسول اللہ ﷺ نے چھوٹی اور صاف ستھری بستیوں کی تعلیم دی تاکہ لوگ تازہ ہوا اور صاف پانی سے فیضیاب ہوں۔ لیکن ہم نے بے تحاشا بڑے بڑے شہر بنا ڈالے أسمان کو چھوتی پلازے اور ٹاورز بناے۔ جہاں نہ ہوا باقی رہی نہ پانی۔ آج کا شہر دھواں، شور، بے پردگی اور فحاشی کا گڑھ ہے — کیا یہ سب فطرت کے خلاف نہیں؟
*جنگلات اور پہاڑوں کی بربادی*
قرآن کہتا ہے:
“ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
(الروم 30:41)
یعنی: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا، انسانوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب۔
ہم نے جنگلات کاٹ ڈالے، پہاڑ چیر ڈالے، اور دریا کنارے امیروں نے ہوٹل بنا کر نہ صرف پانی آلودہ کیا بلکہ دریا کے راستے بھی بند کر دیے۔ پہاڑ جو زمین کو متوازن رکھنے کے لیے اللہ نے رکھے تھے وہ ماربل اور بجری بنا کے کہیں سے کہیں پہنچا دیے۔— کیا یہ فطرت کے خلاف نہیں؟
*عادات و اطوار میں بگاڑ*
ہمارے عادات و اطوار بھی نیچر کے خلاف جاچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے” (صحیح بخاری)
لیکن آج کے مسلمان اپنی بے اعتدالی اور حد سے زیادہ کھانے پینے کی وجہ سے ہسپتالوں کو بھر رہے ہیں۔ دل کے امراض، شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا—سب ہمارے ہی دستر خوان کا نتیجہ ہیں۔ کیا یہ فطرت کے خلاف نہیں؟
*میرٹ کی پامالی*
میرٹ کے خلاف جو بھی کام ہو وہ دراصل نیچر کے خلاف ہے۔ نااہل کو اہل پر ترجیح دینا، سفارش اور رشوت کو اصول بنانا، اداروں کو کمزور کرنا۔
یہ مہنگاءی ۔یی ملاوٹ۔ یہ جال سازی۔ یہ سیمگلنگ۔ یہ کچے پکے کے ڈاکو ۔۔یہ ٹیکسیز کا بوجھ۔ یہ أواز اور اظہار أزادی پہ پابندی ۔یہ أیین اور شہریوں کے راے کا کچلنا ۔یہ ہل من مزید کا نعرہ لگانے والے سیاست دان ۔بیروکیٹس۔یہ لمبی لمبی گاڑیان اور پروٹوکولز— کیا یہ فطرت کے خلاف نہیں؟
*اخلاقی و سماجی بگاڑ*
حکمران قوم کا باپ نہ بن سکا ۔امیر غریب کے سر پہ ہاتھ نہ رکھ سکا۔استاد شاگرد کو تہذیب نہ سیکھا سکا، عالم دین نے عمل سے اقتدا کا حق ادا نہ کیا، بچے والدین کے أق بن گیے۔ عوام نے مخلص قیادت منتخب نہ کی۔ نتیجہ یہ کہ نااہل حکمران اداروں پر قابض ہو گئے۔
وکیل نے انصاف کو تجارت بنا دیا، ڈاکٹر نے مریض کو کمائی کا ذریعہ سمجھا، جج نے سائل کو کلائنٹ بنا کر لوٹا — کیا یہ فطرت کے خلاف نہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کُلُّکُم رَاعٍ وَکُلُّکُم مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ”
(صحیح بخاری)
یعنی: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
*بداعمالیوں کا انجام*
بدکاری اور بے حیائی بڑے شہروں میں پروان چڑھتی ہے لیکن عذاب اکثر غریب علاقوں پر نازل ہوتا ہے۔ آج ہم سب اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود رہے ہیں مگر ہمیں احساس نہیں۔ کیا یہ فطرت کے خلاف نہیں؟
*ا صل عبادت کیا ہے* ؟
ہم نے دین کو صرف نماز، روزہ اور تسبیح تک محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے:
“قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ”
(الانعام 6:162)
یعنی: میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے۔
گویا انسان کے چوبیس گھنٹے کے تمام اعمال عبادت ہیں اور ان کا براہِ راست اثر انسانی ماحول اور فطرت پر پڑتا ہے۔ چنانچہ آفات، جنگ و جدال، قحط اور بیماریوں کی شکل میں جو نتائج سامنے آتے ہیں، یہ سب ہمارے ہی اعمال کا شاخسانہ ہیں۔
*خلاصہ کلام* ۔
نیچر سے چھیڑ خانی دراصل اللہ کے بنائے ہوئے توازن اور نظام کو الٹ دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیاں سنواریں، فطرت کے اصولوں کا احترام کریں، اعتدال اپنائیں اور عدل و دیانت پر مبنی معاشرہ قائم کریں۔ ورنہ یاد رکھیں، فطرت کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے۔
