بشارت از مبشرالملک

*جین۔۔۔۔ کا سفر*..از مبشرالملک۔

*میرکھنی جین۔*
تاریک دور حکمرانوں کو أسمانی باپ کا نمایندہ تصور کرکے سر تسلیم خم رکھنے کادور۔
۔پھر خواندگی کے ابتدائی دور کے بعدقبایلی تضادات اور گروہ بندیوں کی جانب توجہ یعنی طاقت و اختیار کی دوڑ۔
پاکستانی معاشرے میں نسلی تبدیلی کو اگر زمینی حقیقت کے ساتھ سمجھنا ہو تو چترال جیسے دورافتادہ خطے کی مثال نہایت معنی خیز ہے۔ 1950ء سے پہلے یہاں کی زندگی محدود جغرافیے، سادہ ذرائع اور مقامی معلومات تک سمٹی ہوئی تھی۔ لواری سے پار کی خبر بھی ایک انہونی سمجھی جاتی اور نئی یا ناقابلِ فہم بات کو محض ایک “میرکھنی خبر” کہہ کر رد کر دیا جاتا۔ ۔ یہ لوگ روزگار کے مواقع کم ہونے کے سبب جاگیرداروں ۔سرمایہ داروں ۔کے محتاج ہوا کرتے تھے اپنے ہی مسایل میں الجھے رہتے۔

*جین وای*

وقت کے ساتھ ریڈیو، پھر اخبار اور ٹی وی نے آہستہ آہستہ ذہنوں کے دروازے کھولے، مگر معلومات کی رفتار آج کے معیار سے کہیں سست تھی۔ یہ دور مصلحت پسندی۔سیاست بازی ۔اداروں کی قید نوکری کی صورت ۔حکمرانوں کے بیانیے کے ساتھ ۔۔ہلکی پھلکی مزاحمت ۔علماء ومفتیان کے حکمرانوں کے فتووں کے ساتھ۔

*جین زی*

اسی سماجی ارتقا کے تسلسل میں جب جین زی سامنے آئی تو اس نے فاصلے، وقت اور ذرائع کی تمام حدیں توڑ دیں۔ پاکستانی تناظر میں جین زی نے روایتی میڈیا کی اجارہ داری کو چیلنج کیا اور ہر نوجوان کو ایک مؤثر آواز بنا دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اظہارِ رائے کو آسان بنایا، جہاں خیالات، احتجاج، تخلیق اور روزگار سب ایک ہی اسکرین پر سمٹ آئے۔ یہ نسل روایتی ملازمت کے تصور سے ہٹ کر فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل ہنر کو ترجیح دیتی ہے، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔

تاہم اس تیز رفتار ڈیجیٹل زندگی کے منفی پہلو بھی ہیں۔ معلومات کی یلغار، اسکرین پر حد سے زیادہ انحصار، ذہنی دباؤ اور اقدار کے تصادم جیسے چیلنجز جین زی کو درپیش ہیں۔ خاص طور پر روایتی معاشروں—جیسے چترال، قبائلی اور دیہی علاقے—میں نئی نسل کو خاندانی نظام، سماجی روایت اور مذہبی اقدار کے ساتھ توازن قائم رکھنے کا امتحان درپیش ہے۔
یہ لوگ دنیا کے برابر چلنے کا جذبہ لیے۔حقوق سے اگاہی ۔اداروں اور حکومت اپنے لیے سہولیات کا زریعہ جانے والے ۔اور کرپشن کے خلاف ۔بابوں ۔مفتیوں سے بھر پور فتوی کو دیوار پر مارنے والے ۔کیوں قران کے بہترین تفاسیر ۔انسانی حقوق کی اعلی مثالیں ان کے سامنے ۔گویا اقبال کے شاہین
لہو گرم رکھنے کے لیے سرگرم عمل
*جین الفا*
: مستقبل کی نسل

جین زی کے بعد آنے والی نسل جین الفا (Generation Alpha) ہے، جو 2013ء کے بعد پیدا ہوئی۔ یہ نسل مصنوعی ذہانت، اسمارٹ ڈیوائسز اور خودکار ٹیکنالوجی کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جین الفا کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تربیت مستقبل کے پاکستانی معاشرے کی سمت متعین کرے گی۔
کیونکہ ستاروں پہ کمندین ڈالنے والے۔ ظلم کو ستم کہنے کی جرت رکھنے والے۔ ۔ایسے دستور کو صبح بے نور کو نہ ماننے والے۔ گویا یہ دور جدید کے ابابیل ۔اگر ان کی سیمت درست نہ کی گیی تو بہت دیر ہوجاے گی ۔لہزا ان کی صلاحیتوں کو موقع ملنا چاہیے ۔اگر ہم جیسے بابے جو 1990ء میں جی رہے ہیں ان 2060 ء پر نظرین جمانے والوں کے أگے روکاٹ بنے ۔۔۔ تو دستار گرانے میں دیر نہیں لگاییں گے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک ان کے اہداف کو دیکھ کر چلتے ہیں اور ہم انہیں نکیل ڈالنے کا سوچ رہے ہیں جو خام خیالی ہے۔دنیا بھر کی قیادت اب لیڈروں کے ہاتھوں سے نکل کر نوجوانوں کے ہاتھوں میں اتی جا رہی ہے ۔پاکستان کے دو بارڈر میں پہلے ہی أگ لگی ہوی ہے تیسرے میں بھڑکاءی جارہی ہے ۔اندرونی عدم استحکام روز بروز ۔۔۔سایرن بجا رہی ہے ۔ضرورت ہے تو دست شفا کی مل بھٹنے کی نہ دیر نہ ہوجاے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO