مضامین

صدا بصحرا …چترال بورڈ کی تجویز

ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ

پیر 12 اکتوبر کو صوبائی اسمبلی میں سابق صوبائی وزیر سلیم خان ایم پی اے کی طرف سے چترال بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کی تجویز پر مبنی قرارداد پیش ہوئی تو صدر نشین شوکت یوسفزی نے قرار داد پر غور کو موخر کردیا اب یہ قرار داد کسی اور دن پیش ہوگی۔ لابنگ جای ہے لابنگ کے نتیجے میں ارکان اسمبلی کو قرار داد کے باے میں بنیادی معلومات حاصل ہونگی برٹش پارلیمنٹ میں اس طرح کی قر ار دادوں پر تین چار مہینوں تک لابنگ کی جاتی ہے لابی (Lobby) کا لفظ بھی برٹش پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی کے لئے لابنگ کی وجہ سے مشہور ہوا ہے ۔ حکومتی پارٹی کے اراکین اس مفروضے پر عمل کرتے ہیں کہ حز ب اختلاف کے ممبروں کی طرف سے حکومت کو تنگ کر نے کے لئے ایسی تجاویز اور قرار دادیں آتی ہیں حز ب مخالف سے تعلق رکھنے والے اراکین کی دو مجبوریاں ہوتی ہیں ان کی پارٹی کا موقف الگ ہوتا ہے اُن کی علاقائی دلچسپی الگ ہوتی ہے ہزارہ ڈویژن کی اپنی لابی ہے جو مضبوط ہے اور ہزارہ کے معاملات میں اتحاد کا مظاہر ہ کرتی ہے جنوبی اضلاع کی لابی کو بھی مضبوط لابی تصور کیا جاتاہے جو علاقائی مسئلے پر پارٹی موقف سے ہٹ کر اتفاق واتحادسے کام لیتی ہے ہشتنگر کی لابی سب سے مضبوط اور ملاکنڈ کی لابی سے کمزور ہے پارٹی مفادات ،ذاتی اختلافات اور گروہی تنازعات کی وجہ سے ملاکنڈ کی لابی اسمبلی کے اندر کوئی معقول کا میابی حاصل نہیں کرسکتی چترال کا مخصوص مسئلہ بھی ہے مخصوص مسئلہ یہ ہے کہ چترال کو نسلی اقلیت کادرجہ دیا جاتاہے نسلی اکثریت اپنے فیصلے منوالیتی ہے اقلیت کچھ نہیں کرسکتی چترال بورڈ نسلی اقلیت کا مطالبہ ہے اور نسلی اکثریت اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرتی حالانکہ 4 بار چترال کے ڈپٹی کمشنروں نے بھی تجویز کی حمایت کی پھر بورڈ قائم نہیں ہوا ایسی تجاویز کے لئے موزونیت ، معقولیت اور فیزیبیلیٹی (Feasibility) کودیکھا جاتاہے چترال 14850 کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ضلع ہے جس کی آبادی 6 لاکھ ہے ہرسال 80ہزار طلبہ اور طالبات میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات میں بیٹھتے ہیں سپلیمنٹری امتحانات اس کے علاوہ ہیں خیبر پختونخوا میں 500 مربع کلومیٹر والے ریجن کا بھی الگ بورڈ ہے 50 ہزار سے کم طلبہ وطالبات کے لئے بھی الگ بورڈ قائم کیا گیا ہے لیکن چترال کو 370 کلومیٹر دور پشاور بورڈ کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے سکریسی میں طلبہ اور طالبات کے بیسیوں مسائل اور کام ہوتے ہیں نام کی دُرستگی ، مائیگریشن سرٹیفیکٹ ،دوبارہ امتحان ،ڈپلی کیٹ سرٹیفیکیٹ ،ری ٹوٹلنگ اور اس طرح کے کاموں کے لئے طالب علم اور طلبہ کو پشاور جانا پڑتاہے جس پر کم از کم 6 ہزار روپے کاخرچہ آتا ہے اگر طالب علم چترال کے دور دراز گاؤں کا ہو تو 10 ہزار روپے کا خرچہ آتاہے 1983 ؁ء میں پروفیسر افتخار الدین نے چترال میں بورڈ کا سب آفس قائم کیا تھا جو سرکاری عمارت میں تھا 2013 ؁ء میں اس کو کرایے کی بلڈنگ میں منتقل کیا گیا ایک سائل اگر مائیگریشن سرٹیفیکیٹ یا ڈوپلی کیٹ کاپی کے لئے اپنی فیس اور درخواست فارم سے آفس میں جمع کرتاہے تو مطلوبہ سرٹیفیکیٹ دوماہ تک نہیں ملتا سب آفس میں داخلہ فارم اور ڈی ایم سی کے سو ا کوئی دوسری سہولت نہیں ہے پشاور بورڈ میں چترال سے تعلق رکھنے والا ایک بھی ملازم نہیں ہے اس لئے 370 کلومیٹر کا سفر طے کر کے پشاور آنے والے سائلوں کو خوار وزار ہونا پڑتاہے چترا ل کے 63 کالجوں اور 280 سکولوں سے پشاور بورڈ کو ہرسال 17 کروڑ روپے کا ریونیو آتاہے اس ریونیو کا ایک فیصد بھی چترال کے طلبہ ، طالبات کی بہبود اور سہولت پر خرچ نہیں ہوتا اپنا بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے چترال کے طلبہ اور طالبات ہر سال ٹاپ ٹونیٹی کے 40 سکالر شپ سے بھی محروم رہتے ہیں جہاں بورڈ قائم ہے وہاں ہرسال میٹرک کے ٹاپ ٹوئینٹی کو 20 سکالر سپ اور انٹر کے طلبہ وطالبات کو 20 سکالرشپ ملتے ہیں چترال کے طلبہ لسانی اقلیت ہونے کی وجہ سے ان فوائد سے محروم ہیں سب آفس یا کیمپ آفس گذشتہ 33 سالوں سے قائم ہیں اس دفتر سے چترال کے طلبہ اور طالبات کا کوئی معمولی مسئلہ بھی حل نہیں ہوتا 80 ہزار طلبہ اور طالبات کے تمام مسائل سکریسی سے وابستہ ہیں سکریسی کا شعبہ صرف بورڈ میں ہوسکتا ہے چترال کے عوام اور نمائیندوں کو اس بات کو پورا پورا پتہ ہے کہ پشاور بورڈ والے کبھی چترال کابورڈ بننے نہیں دینگے وہ چترال کے 380 سکولوں اور 63 کالجوں کو دودھ دینے والی بھینس یا سونے کا انڈہ دینے والی چڑیا سمجھتے ہیں یہاں سے ریونیو کے علاوہ ٹنوں کے حساب سے غوزان، توتان،خوبانئے اور دیگر اشیا ء درآمد کی جاتی ہیں چترال کے عوام کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ چترال سے کبھی صوبے کاوزیر اعلیٰ یا چیف سکرٹری نہیںآئے گا چترال سے کبھی بورڈ کا چےئر مین نہیں آئیگا نسلی اقلیت کو یہ حق کوئی بھی نہیں دے گا اس لئے پاکستان تحریک انصاف سے تھوڑا سا انصاف مانگتے ہیں اور تھوڑرا سا انصاف یہ ہے کہ چترال کے 80 ہرزار طلبہ اور طالبات کو 370 کلومیٹر دور واقع پشاور بورڈ سے نجات دلانے کے لئے چترال کے اپنے ریونیو 17 کروڑ روپے سالانہ پر چترال بورڈ آف انٹر میڈیٹ انیڈ سکینڈی ایجوکیشن قائم کیا جائے سلیم خان ایم پی اے کی قرارداد کی حمایت کی جائے اسمبلی سے قرارداد منظور کر کے نئے بورڈ کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO