تازہ ترین

ہر متاثرہ گھر کو کم از کم تین ٹینٹ اور دیگر سامان مہیا کئے جائیں؛ خواتین ممبران کو نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں/نگہت پروین

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) جمعیت علماء اسلام کے رکن ضلع کونسل نگہت پروین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زلزلہ سے متاثرہ ہر گھر کو کم از کم تین ٹینٹ ، بسترے اور گھریلو استعمال کے مکمل برتن فوری طور پر فراہم کئے جائیں۔میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں جے یو آئی کے ممبر ضلع کونسل نے کہا کہ متاثرہ خاندان کیلئے صرف ایک ٹینٹ اور چٹائی فراہم کرنا کافی نہیں کیونکہ پورا گھرانہ ایک ٹینٹ میں کیسے زندگی بسر کر سکیں گے لہذا گھروں کے حجم کے مطابق ایک سے زیادہ ٹینٹ کی فراہمی ضروری ہے تاکہ متاثرین کے مشکلات میں کمی آسکے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے گھریلو اشیاء جن میں بسترے اور برتن شا مل ہیں، تباہ ہو چکے ہیں اسلئے فوری طور پر متاثرہ گھرانوں کو معقول تعداد میں ٹینٹ کے ساتھ بسترے اور برتن فراہم کئے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر جزوی متاثر گھر کو بھی ٹینٹ فراہم کئے جائیں کیونکہ حالیہ زلزلے میں ہر گھر کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا ہے ۔ رکن ضلع کونسل نے کہا کہ ویلج کونسل سے لیکر ضلع کونسل تک خواتین ممبران موجود ہیں جوکہ عوام کے نمائندے ہیں مگر موجودہ حالات میں ضلعی حکومت کی طرف سے خواتین ممبران کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے جوکہ قابل افسوس امر ہے ۔ خواتین ممبرا ن بھی عوامی نمائندے ہیں اور لوگ ان کے پاس بھی اپنے مسائل لیکر آتے ہیں مگر ضلعی حکومت کی طرف سے خواتین ممبران کو مشاورت میں شامل نہ کرنا لوکل گورنمنٹ سسٹم کو ناکام کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے ضلعی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین ممبران کو زلزلہ زدگان کے بحالی اقدامات کے سلسلے میں اعتماد میں لیا جائے۔ جے یو آئی کے ممبر ضلع کونسل نے کہا کہ حالیہ ڈیزاسٹر میں خواتین براہ راست متاثر ہوئے ہیں لہذا بحالی کے اقدامات میں متاثرہ خواتین کے لئے خصوصی پیکج رکھا جائے تا کہ خواتین کی داد رسی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین ممبران کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ویلج کونسل سے لیکر ضلع کونسل تک کے ممبران ضلعی حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبو ر ہو جائینگے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق