ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد……عوام بھی ظالم ہوتے ہیں

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ…….


سیلاب اور زلزلہ قدرتی آفت ہے ۔خدا کا قہر ہے ۔عذاب الٰہی ہے ۔قہر خداوندی ہے۔بڑی آزمائش ہے۔بڑا خطرناک امتحان ہے۔عوام اتنے ظالم ہیں کہ آزمائش اور امتحان کوما ل بنانے کاذریعہ قرار دیتے ہیں ۔26اکتوبر کے زلزلے کو پورا مہینہ گزر گیا ۔اوپر سے دو دن اور بھی گزر گئے۔جو لوگ 26اکتوبر کی شام اور27اکتوبر کی صبح کوا للہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے۔کہ میرا گھر نہیں گرا ، میری دیوار نہیں گری، میری چھت نہیں گری ،مجھے خیمہ کے اندرپناہ گزین ہونا نہیں پڑا ،میرا باورچی خانہ سلا مت۔ سب لو گوں نے شگر گزاری کوبھول کر ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں کے پا س درخوا ستیں جمع کروائی ہیں کہ میرا سب کچھ برباد ہوا تھا مجھے چیک نہیں ملا ۔گا وں کی بو ڑھی اَن پڑھ خوا تین نے فلی ڈیمیجڈ (Fully damaged)کو “پھل ڈے میثر”کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔درخواست لکھوانے جاتی ہیں تو “پھل ڈیمیشر”کی تکرار کرتی دکھا ئی دیتی ہیں ۔جن بزرگوں نے کبھی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بو لا ۔ وہ اب”پھل ڈیمیشر “کی رٹ لگارہے ہیں۔جس ضلع میں زلزلہ کے 10دن بعد 15ہزار مکا نات یا 17500مکا نات کو نقصان پہنچنے کی رپوٹ جمع ہو تی تھی ۔ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے پا س اب 60ہزار سے او پر در خواستیں جمع ہو گئی ہیں ۔اِنکوائری آفیسر درخواست کو لیکر مو قع پر تباہ شدہ مکان کا معا ئنہ کرنے جاتا ہے۔تو آئیں ، بائیں شائیں کر کے بھاگ جا تے ہیں ۔دھوکا دہی اور چار سو بیسی کا پرچہ کٹتا ہے۔ایف آئی آر ہوتا ہے تو سفا رشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔یہ عوام کا ظلم ہے۔اس ظلم کے نتیجے میں سیلاب اور زلزلے آتے ہیں۔سیلاب میں جن لو گوں نے دھو کا دہی سے اپنا نام متاثرین میں شامل کیا تھا ۔ان کو زلز لے نے آپکڑا ہے ۔زلزلے کے بعد جو لوگ دھوکا دہی کرتے ہیں ۔ان کو حکومت پکڑ رہی ہے۔خدا کا دوسرا عذا ب بھی اِن پر آئے گا۔یہ لوگ خداکے دوسرے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے ۔زلزلہ متاثرین کے دیہات کا دورہ کرنے والے صحافیوں کے سامنے مزیدچشم کشا حقائق رکھے گئے ۔ویلج کو نسل کے نا ظم کا ایک گھر متا ثر ہوتا ہے ۔وہ جا ئزہ ٹیم کو اپنے چھ بھائیوں کے نام اپنے نام کے سا تھ لکھواتا ہے۔اور فل ڈیمیج کے 14لاکھ روپے اپنے کنبے کو دلانے کی کو شش کرتا ہے۔پٹوار خانے میں زنجیر کش یا نا ئب قا صد بھرتی ہو نے والا اپنا ایک گھر تین کر کے لکھواتا ہے۔ایک ر یٹائرڈ فو جی چابک دستی سے کام لیکر جائزہ ٹیم کو کھانا کھلاتا ہے ۔پڑوس میں بیوہ اور یتیموں کا جو گھر تبا ہ ہوا تھا۔اس کو اپنے نام پر لکھواتا ہے۔پو چھنے پربتا تا ہے کہ بیوہ کے پا س شناختی کا رڈ نہیں تھا۔ایک دوسرا ریٹائر ڈ فو جی تنومند جوانوں کی ٹیم لیکر امدادی اشیاء لانے والے پِک اَپ سے 9اعلیٰ درجے کے خیمے اتار کر اپنے گھر میں سٹور کر تا ہے ۔اور کہتا ہے کہ میرے بھا ئیوں نے کراچی سے بھیجا تھا۔ویلج کو نسل یا نیبرہُڈ کو نسل کا جنرل کونسلر زلزلہ زدگان کے لئے آنے والے امدادی اشیاء ووٹروں میں تقسیم کرتا ہے۔ اور بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ یہ امدادی اشیاء میں نے اپنے ووٹروں کے لئے حاصل کئے ہیں۔ جس کا گھر زلزلہ میں تباہ ہوا۔ اس نے جس کو ووٹ دیا اسکے گھر جا کر پوچھئیے کہ مجھے امداد کہاں سے ملے گی؟ میرا پیکج کدھر ہے ؟ ایک گاؤں میں 40لوڈ سامان سرکار کی طرف سے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے ، این جی اوز کی طرف سے اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے آتے ہیں۔ ناظمین اور کونسلروں کے ہتھے چھڑھ جا تے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ خدا کا ایک بندہ یہ ظلم دیکھتا ہے تو کمبل اوڑھ کر گاؤں میں گھومتا ہے۔ جس کا گھر گِر چکا ہے۔ اسکو خاموشی کے ساتھ دس پندرہ ہزار روپے دے کر چپکے سے آگے نکل جاتا ہے۔ اپنا نام نہیں بتاتا۔ نشان نہیں بتاتا۔ غریب بچوں اور معذوروں کو دو ہزار اور 5ہزار روپے چپکے سے چھپا کر تھما دیتا ہے۔ پوچھنے پر وہ بتا تا ہے کہ میرا کوئی نام نہیں۔ اگر ناظمین اور کونسلروں نے دیکھ لیا تو یہ امداد بھی غریبوں سے چھین لیں گے۔ متاثرین سے چھین لیں گے۔ ناظمین اور کونسلروں کا موقف یہ ہے کہ انتخابات کو چھ مہینے ہو گئے۔ ہمیں نہ تنخواہ ملی۔ نہ ترقیاتی فنڈ ملا، نہ ٹھیکہ ملا، نہ دفتر ملا، نہ میٹنگ ہوئی۔ ہم نے کیا جرم کیا ہے، ہمار بھی حق بنتا ہے۔ ہمارا خرچہ کہاں ہے۔ لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ ہم منتخب لوگ ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے۔ ہم سے کوئی حساب نہیں لے سکتا۔ یہ عوام کا ظلم ہے۔ عوام ہی عوام پر ظلم کرتا ہے۔ زلزلے کے چار ہفتے بعد تحقیق، تفتیش اور ایف آئی آر کا سلسلہ شرو ع ہوا ہے۔ اب عوام کا ظلم بے نقاب ہو رہا ہے۔ اگر لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ڈی سیٹنگ اور ڈسکوالیفیکیشن کی کوئی گنجائش ہے تو عوام اور عوامی نمائندوں کا پورا پورا احتساب ہونا چاہئیے۔ جس شخص نے بھی قدرتی آفت کو مال بنانے کا ذریعہ بنایا۔ اس پر خدا کے قہر سے پہلے قانون کے لمبے ہاتھوں کی مار پڑنی چاہیئے۔ اور اگر 2فیصد یا 3فیصد متاثرین ناظمین اور کونسلروں کی نااہلی کی وجہ سے اپنے جائز حق سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کی داد رسی ہونی چاہیئے۔ 26اکتوبر کے زلزلے کے دن جو لوگ نقصان نہ ہونے پر خدا کا شکر اداکر رہے تھے۔ ایک مہینے بعد وہ متاثرین میں شامل ہونے کیلئے درخواستیں لے کر پھر رہے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق