چترال لوئر

دروش،متاثرین زلزلہ کا احتجاجی دھرناپانچواں روز بھی جاری،نتظامیہ اور صوبائی حکومت کے حکام بالاکے خلاف شدید نعرے بازی

دروش( نمائندہ چترال ایکسپریس)دروش بازارمیں گزشتہ پانچ دنوں سے متاثرین زلزلہ کا احتجاجی کیمپ جاری ہے ۔احتجاجی کیمپ میں مختلف دیہات سے کثیرتعدادمیں سرکاری امدادی چیکوں سے محرو م متا ثرین زلزلہ نے تقریر کی ،انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے حکام بالاکے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر متاثرین کی آبادکاری کیلئے سرکاری معاوضے کا اعلان اور بعدمیں فنڈزبھی فراہم کیا لیکن انتظامیہ پہلے سروے میں اوراب چیکوں کی ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرکے عوام کو پریشان کررہے ہیں ۔ سروے میں اصل حقداروں کویکسرنظراندازکرکے غیرمستحقین کو امدادی چیکوں سے نوازاگیاہے ۔بعض کے نام سرکاری سروے لسٹ میں موجودہونے کے باوجود آخری وقت میں امدادی چیکوں سے محروم رکھاگیا۔اس کے علاوہ امدادی سامان سرکاری اور غیرسرکاری میں بھی اقرباء پروری اورسفارش کلچرکوفروغ دیاگیا۔مقررین جن میں حسن محمد، سابق ناظم عبدالباری،حاجی شفاء،قاری نظام الدین ،ممبر ڈسرکٹ کونسل انعام الحق ،شیراعظم اور صلاح الدین طوفان نے کہاکہ ہم اس ظلم اور زیادتی کیخلاف آوازاٹھاتے رہینگے۔۔درین اثنا ممبر صوبائی اسمبلی سلیم خان دروش کے دروے کے موقع پرزلزلہ متاثرین کے ساتھ دھرنے میں شرک ہوئے اور مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد از جلد امدادی چیک سے محروم زلزلہ متاثرین کے داد رسی کرے ورنہ متاثرین کے ہمراہ احتجاج کا راستہ اپنایا جائیگا۔مظاہرین نے سلیم خان کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی قیادت میں اپنے حقوق کی حصول کیلئے جدو جہد اور آواز اُٹھانے کااظہار کیا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى