ارشاد اللہ شاد

رُموز شادؔ )۔۔عوام و خواص کیلئے ضروری ہدایات۔۔

………( ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال

Advertisements

پاکستان میں جتنے بھی کیلنڈر چھپتے ہیں خواہ اردو میں ہو یا انگریزی میں ، ان سب میں ہفتے کے دنوں کے نام خالص شرکیہ ہیں۔ کیونکہ جو کیلنڈر اردو میں چھپتے ہیں ان میں ہفتے کے دنوں کے نام اسطرح ہیں: اتوار، سوموار، منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ، سینچر اور جو کیلنڈر انگریزی میں شایع ہوتا ہے اس میں ایام کے نام یوں ہیں: سنڈے، منڈے، ٹیوز ڈے، وینس ڈے، تھرس ڈے، فرائیڈے، سیچر ڈے ۔ ان چودہ ناموں میں جمعہ اور جمعرات کے علاوہ باقی سب شرک پر دلالت کرتے ہیں۔۔۔
اتوار؛ ہندی کا لفظ ہے اصل میں آیت وار ہے جو دو لفظوں آیت اور وار پر مشتمل ہے۔ آیت بمعنی سورج اور وار بمعنی دن۔ انگریزی میں اس کا ہم معنی لفظ سنڈے ہے جو سن اور ڈے سے مرکب ہے۔ سن کے معنی سورج ااور ڈے کے معنی دن۔ تو اتوار اور سنڈے دنوں کے مقصودی معنی یہ ہیں کہ سورج کی پوجا کا دن۔ لہذا ہنود و نصاریٰ اس دن کو اتوار اور سنڈے اسلئے کہتے ہیں کہ یہ دونوں فرقے اس دن چھٹی کرکے ایک مخصوص عبادت کرتے ہیں۔ ہندو لوگ سورج کو سب سے بڑا کارساز دیوتا سمجھتے ہیں اس لئے وہ سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے کے وقت اس کے شعاؤں کو پوجتے ہیں ۔۔
سوم وار؛یہ بھی دو لفظوں سے بنا ہے اور ہندی میں سوم چاند کو کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس دن کو منڈے کہتے ہیں جو مون ڈے کا مخفف ہے۔ مون کے معنی چاند تو سوم وار اور مون ڈے دونوں کا مقصد چاند کی پوجا کا دن ہے۔
منگل وار؛ منگل کے معنی سر سبز شاداب کے ہیں تو منگل وار کا مقصد ہے’’ شادابی کے دیوتا کی پوجا کا دن‘‘ انگریزی میں منگل کو ٹیوز ڈے کہتے ہیں ٹیوز کے معنی مطلق سیارے کے ہیں مگر یہاں مریخ مراد ہے جسکو انگریزی میں مارز کہتے ہیں تو ٹیوز ڈے کا مقصد ’’ مریخ سیارے کی پوجا کا دن‘‘ چونکہ ہندؤں اور قدیم یونانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مریخ سیارہ سر سبزی و شادابی کا دیوتا ہے اسلئے ان کے نزدیک مریخ کو پوجنے اور اس سے دعا مانگنے سے فصل سرسبز شاداب ہوتی ہے اور یہ جو جنگل میں منگل مشہور ہے ا س میں منگل کے معنی شاداب کے ہیں۔۔
بدھ وار؛ہندی میں بدھ عطارد سیارہ کو کہتے ہیں انگریزی میں اس کا نام ویڈنس ڈے ہے اور اور ویڈ نس ماخوذ ہے وو ڈن سے جو رومن زبان میں عطارد کو کہتے ہیں تو بدھ وار اور ویڈنس ڈے دونوں کا مقصد ہے ’’عطارد کی پوجا کا دن‘‘ چونکہ ہندؤں اور سکنڈ نیویا والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جس پر عطارد دیوتا مہربان ہو جائے وہ عقل و شعور کا مالک بن جاتا ہے اس لئے یہ دونوں فرقے عطارد کو پوجتے ہیں ۔۔
تھرس ڈے؛جس کو سنسکرت میں ویروار کہتے ہیں اور تھرس اور ویردونوں کے معنی مشتری سیارے کے ہیں اور دونوں کا مقصد ہے’’ مشتری کی پوجا کا دن‘‘۔۔
فرائے ڈے؛جسے ہندو شکروار کہتے ہیں فرائی ماخوذ ہے فریگا دیوی سے ، جس کے معنی ہیں خدا کی بیوی یعنی زہرہ اور ’’ شکر‘‘ بمعنی خوبصورتی عطا کرنیوالی بیوی، مراد زہرہ ہے۔تو فرائے ڈے اور شکر وار کا مقصد ہے ’’ زہری کی پوجا کا دن‘‘۔۔۔
سنیچر؛زحل سیارے کو کہتے ہیں اور انگریزی میں اس دن کا نام سنیچر یا سیٹر ہے جو سچرن سے ماخوذ ہے تو دونوں کا مقصد ہے’’ زحل کی پوجا کا دن‘‘ ۔ اہل مغرب عیسائیت سے قبل ان سیاروں کو پوجتے تھے اور بعض علاقوں میں اب بھی ان کے تہوار منائے جاتے ہیں اور ہندو تو مسلسل اس شرک میں مبتلا چلے آرہے ہیں۔ اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے۔۔۔
اتوار؛سنڈے ، سورج کی پوجا کا دن
سوموار؛ منڈے، چاند کی پوجا کا دن
بدھ وار؛ ویڈنس ڈے، عطارد کی پوجا کا دن
ویروار؛ تھرس ڈے ، مشتری کی پوجا کا دن
شکر وار؛ فرائے ڈے ، زہرہ کی پوجا کا دن
سنیچر؛ سیڑر ڈے، زحل کی پوجا کا دن
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مروجہ تقویم ( کیلنڈر) میں ہفتے کے دنوں کے ناموں کے پیچھے با قاعدہ مذہبی روایات کا فلسفہ کار فرما ہے لیکن ہم مسلمان ٖغیر شعوری اور نا دانستہ طور پر ان دیو مالائی تصورات کو سینے سے لگا کر تقریر و تحریر میں ان ناموں کی ترویج کر رہے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کے علاوہ باقی تمام اقوام نے ہفتے کے دنوں کے نام ستاروں یا دیو تاؤں کے نام پر رکھے ہیں اسلئے انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں ہفتے کے دنوں کے وہی نام رائج کئے جائیں جو اسلامی تقویم نے ہمیں عطا کئے ہیں اورجو سعودی عرب میں رائج ہے وہ یہ ہیں (’’ الجمعہ، السبت، الاحد، الا ثنین ، الثلثا ، الا ربعاء، الخمیس ‘‘) اور اگر مذکورہ نام غیر مانوس ہونے کی وجہ سے ذرا مشکل محسوس ہوتے ہیں تو پھر فارسی زبان کے نام رائج کئے جائیں جو اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں رائج تھے اور اب بھی بعض علاقوں میں بولے اور لکھے جاتے ہیں اور وہ اس طرح ہیں ۔ جمعہ، ہفتہ، یک شنبہ، دو شنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ، پنج شنبہ،۔ ۔۔ حضرات علماء کرام و طلباء سے عرض ہے کہ وہ روزانہ کی گفتگو اور نجی تحریرات ، مساجد و مدارس کے انتظام میں ہفتے کے دنوں کے اسلامی نام استعمال کرنے کا اہتمام کریں۔ نیز نجی کمپنیوں ، دستکاریوں اور پرائیوٹ کار پوریشنوں کے دیندار ذمہ داران سے عرض ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کیلئے جو تقویم ( کیلنڈر) ، اسٹکرز اور دیگر اشتہارات وغیرہ شائع کرتے ہیں تو ان میں ایام کے مذکورہ اسلامی ناموں کا اہتمام کریں۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى