ارشاد اللہ شاد

رُموز شادؔ ),,,,فقیرانہ آئے، صدا کر چلے

………ارشاداللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال……


بعض لوگ عجیب ہوتے ہیں ہاں بہت عجیب ہوتے ہیں ، جب ساتھ ہوتے ہیں تو مشکلات کو سہل کر دیتے ہیں اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو دل میں ہمیشہ کیلئے کسک چھوڑ جاتے ہیں اور پھر ان کی یاد سے دل کو راحت پہنچتی ہے اور ہمیشہ ان کی تصویر سامنے رہتی ہے اور اگر آدمی بھلانا بھی چاہے تو بھلا نہیں سکتا۔۔انہی عجیب لوگوں میں سے ایک شخص سانولا رنگ، گھنی داڑھی ، مقرر طبع ایک ایسا شہرہ آفاق نام ہے جب وہ چترال سے واپس چلے گئے تو ایسے لگا جیسے میرے حقیقی بھائی مجھے چھوڑ کر کہی دور چلا گیا۔ جسے لوگ کرکٹر سعید انور کے نام سے جانتے ہیں۔
دنیائے کرکٹ کا وہ سٹائلش پلیئرجو آج معروف کرکٹر ز سمیت ایک بڑے طبقے کی اصلاح کا ذریعہ بن رہا ہے۔
محمد سعید انور ۶ ستمبر ۱۹۶۸کو محمد انور کے ہاں کراچی میں پیدا ہوئے ، کمپیوٹر سسٹم کے ساتھ بی اے کیا لیکن کھیلوں سے دلچسپی کے باعث کرکٹ میں آگئے،شروع ہی سے سلیم الفطرت اور اچھی طبیعت کے مالک انسان تھے۔ پاکستا ن کرکٹ ٹیم میں ایک طویل عرصہ تک رہنے کے باوجود نہ تو کسی سے ناراض ہوئے اور نہ ہی کوئی بدنامی کا موقع دیا۔مولانا طارق جمیل صاحب کی مسلسل محنت اور دعاؤں سے محمد سعید انور دین کی طرف مائل ہوئے ، اس وقت سعید انور اپنے کرکٹ کیرئیر کے آخری دنوں میں تھے۔ جب وہ داڑھی کے ساتھ کرکٹ گراؤنڈ میں آتے تو لوگ کہتے مولانا صاحب آگئے ہیں، ان کی شکل و صورت اور ایمانی جذبات کو دیکھ کر خود میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں’’ مولانا‘‘ سعید انور لکھوں۔
مغرب زدہ میڈیا نے سعید انور کے دین کی طرف میلان کو بھی حسب عادت غلط رخ دیا ، میں نے خود کئی مرتبہ انگریز کمنٹیٹرز کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ سعید انور کی بیٹی بسمی کی وفات کی وجہ سے وہ مذہب کی طرف مائل ہوئی ہے۔ ان کے بقول در اصل سعید انور اندر سے ٹوٹ چکے ہیں اسلئے وہ اپنے غم کی شدت کو کم کرنے کیلئے مذہب کا سہارا لے رہیں ہیں۔ میرے ان لوگوں سے دو سوال ہے پہلا یہ کہ پھر تو وہ تمام کافر ہی مسلمان ہونے چاہئیں جن کے بچے کم سنی میں وفات پا چکے ہیں وہ اسلام قبول کیوں نہیں کرتے۔۔؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ چلو مان لیا وہ درد کی دوا کرنا چاہتے ہیں تو پھر غموں کی ماری دنیا کو اسلام کی طرف آنے کی دعوت کیوں نہیں دیتے۔۔؟ کیونکہ وہ خود اپنے زبان سے اعتراف کر رہے ہیں کہ سعید انور مذہب کی مدد سے اپنا غم ہلکا کر رہے ہیں ۔ پھر تو ساری دنیا کو اسلام کے ذریعے اپنا غم ہلکا کرنے کا سنہری موقع ملا ہوا ہے۔ مسلمانوں کو اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کافرکبھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا خواہ زبان سے کتنا ہی میٹھا کیوں نہ ہو۔ ذیل میں سعید انور سے لئے گئے ایک انٹرویو کے چیدہ چیدہ نکات درج ہیں جو سعید انور کی شخصیت اور سوچ کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ دعوت تبلیغ کرکٹ کے میدانوں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔۔۔
سعید انور سے پوچھا گیاکہ۔۔۔
شاعر پسند ہے………….جی ہاں
پسندیدہ شعر………….جنید جمشید کی گائی تمام نعتیں
پسندیدہ زبان………… عربی
ٹینشن ہو تو کیا کرتے ہو…………… نماز میں سکون ملتا ہے
محبت کیا ہے…………… اللہ کیلئے ہر چیز سے پیار ہے
زندگی……….. ایک سخت امتحان ہے دوبارہ موقع نہیں ملے گا
پسندیدہ شخصیت………… حضورنبی کریمﷺ
شدید خواہش………. دین کیلئے کچھ کر جاؤں
خوشبو کونسی پسند ہے………عطر
پاکستا ن کے علاوہ سیر کیلئے پسندیدہ ملک…….. مکہ اور مدینہ
سچ کیا ہے…………. موت
علم ضروری ہے………. بہت زیادہ
بیوی کیسی ہو……………..جو اللہ سے تعلق جوڑے
کتنی عمر چاہتے ہیں…………. جب تک اللہ کے حکم پر چلتا رہوں
ادھوری خواہش……… کاش بچپن میں قرآن حفظ کرتا
زندگی کا بہترین دن………. جب اللہ نے سنت رسولﷺ چہرے پر سجانے کی توفیق دی
سب سے سوگوار دن……… بیٹی( بسمی) کی وفات
گھر میں کیبل ڈش کے فائدے ہیں یا نقصانات……….. نقصانا ت ہیں
بیٹی کی وفات مذہب کی طرف لائی…….. ایک سال سے راغب تھا بیٹی کی وفات نے منزل قریب کر دی
بیٹی کو مس کرتے ہو……….. اب نہیں اچھا ہوا سیدھی جنت میں جائے گی۔۔
آپ نے سعید انور کے خیالات دیکھے کیسے مستی کی زندگی من مانیوں کی دور ، ہوس رانیوں کے دور سے جدا ہو کر سر پر پگڑی ، چہرہ پر سنت رسولﷺ ، شلوار ٹخنے سے اوپر دردر، گلی گلی، بستی بستی، قریہ قریہ اللہ کی دین کی دعوت دیتا ہے۔
کیونکہ حقیقت روز روشن کی طرح اس کے سامنے عیاں ہوگیا کہ دنیا میں خواۃ کتنا ہی عیش و عشرت اور مستی کرے لیکن ایک دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اوراپنے کئے کی سزا بھگتنا ہے۔ دنیا کی امتحان گاہ سے خوب واقف ہوگئے۔ وقت کے بدلتے ہوئے دھارے کے ساتھ بر صغیر میں ایک عالمگیر دعوتی اور تبلیغی تحریک کا آغاز ہوا۔ دور حاضر میں مسلمانوں کی یہ واحد جماعت ہے جس کا نظام دنیا کے کسی بھی گوشے تک پھیلا ہوا ہے اپنے اسی پچاسی سالہ دور میں اس تحریک نے امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو راہ راست دکھائی ہے۔ اسکا دائرہ کار عمومی اور ہر خطے اور طبقے تک پھیلا ہوا ہے ۔ ایک طرف اگر غریب اور مزدور طبقہ دین پھیلانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں تو دوسری طرف شہزادے بھی مسجد کی چٹائیوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں کیا تاجر، کیا طبیب اور کیا فوجی سپہ سالار ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا مسلما ن اس لشکر میں گرم جوش سپاہی کا کردار ادا کر رہا ہیں۔
سعید انور کی داڑھی نے مجھے شاید اسلئے چونکا دیا کہ ہم اپنے معاملا ت کو دین و دنیا کے خانوں میں بانٹ لیا ہے، جہاں فوری فائدے کے توقع ہو اسی جانب پلٹ جاتے ہیں دنیا نقد ہے اور آخرت ادھار۔
ملے گی شیخ کو جنت مجھے دوزخ عطا ہو گا
بس اتنی سی بات ہے جس کیلئے حشر برپا ہوگا
لیکن زمانے کی حیرت میں اس وقت اضافہ ہوا جب شوبز اور کھیل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے اس مقابلے کو جیتنے میں سر دھڑ کی بازی لگادی یہ حیرت اور تعجب فطری امر تھا کیونکہ ٹی وی، کیبل، ڈش، انٹرنیٹ ، ریڈیو، اخبارات اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ان لوگوں کو قوی ہیروز کا درجہ عطا کر رکھا تھا۔ اور پھر اچانک ایسا وقت آیا کہ دعوت و تبلیغ کی برکت سے دنیا کے ہیرو آخرت کے بھی رہنما بن گئے ، مادیت اور عیش و عشرت سے بھرپور زندگی کو ٹھکرا کر دین کے داعی بن گئے ۔ اور آج کے اس گئے گزرے دور میں اصحاب کہف کی یاد دلادی۔ ان ایماندار اورسچے نوجوانوں نے مادیت پر ایمان کو ترجیح دی، فوری نفع اور نقد فائدہ پر آخرت کے وعدے کو مقدم رکھا، انہوں نے ایمان کے غربت و افلاس کی زندگی کو پسند کیا۔ لیکن کفر کے ساتھ دولت و امارت کی زندگی گوارہ نہ کی۔ انہوں نے اس کو ترجیح دی کہ وطن، اہل وعیال ، اور دوست احباب سے دور رہیں اور زندگی کی ہر لذت اور اقتدار کی ہر عزت سے محروم رہیں، لیکن اس کو ایک لمحے کیلئے گوارا نہ کیاکہ شرک سے اپنے پیشانی کو داغدار کریں۔ نفس کے بندے اور خواہشات کے پرستار بنیں، معصیت و سرکشی اور ظلم وزوردستی کے ساتھ تعاون کریں، انہوں نے نفس کے تقاضے سے زیادہ روح کے تقاضے اور عقل کے مطالبے سے زیادہ ایمان کے مطالبے پر توجہ دی اور جسم و جان کے ساتھ اس میں مشغول ہوگئے۔
اور موصوف کے اندر یہ خوشگوار تبدیلیاں صرف اسلامی تعلیمات کی وجہ سے ہوئی ہے ، کرکٹ کی دنیا میں اسلام کے اس سفیر نے بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہے لیکن منزل ابھی بہت دور ہے جس کو پانے کیلئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مختصر سی زندگی کو اسلام کیلئے قبول فرمالیں۔آمین ثم آمین۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق