
داد بیداد…..مرا عا ت اور اختیارات کی جنگ
……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..
وطن عزیز میں سپر یم کو ر ٹ کے حکم سے بلد یا تی انتخابات کا آخری مر حلہ ہفتہ 5 دسمبر کو مکمل ہوا۔آج آخری مر حلے کے انتخا با ت کے حتمی سرکا ری نتا ئج کا اعلا ن متو قع ہے ۔بلو چستان میں دو سا ل پہلے انتخا با ت ہو ئے تھے ۔خیبر پختو نخوا میں انتخا با ت کو6 ما ہ گزرگئے ۔ملکی تا ر یخ میں پہلی بار دارالحکومت اسلام آباد میں بھی انتخابات ہوئے۔30 سال کے وقفے کے بعد کنٹو نمنٹ بو رڈوں کے انتخا با ت بھی ہوئے۔چین اور کو ریا سے لیکر برطا نیہ اور امر یکہ تک خبروں میں د لچسپی ر کھنے وا لے لو گ انتخا با ت کو خوش آ ئند قرار دے ر ہے ہیں ۔کیو نکہ دنیا بھر میں گلیوں کو پختہ کر نے اور نا لیو ں کی مر مت کا کا م صدر ، و زیر ا عظم یا گو ر نر اور وزیر اعلیٰ نہیں کرتا ۔ پا رلیمنٹ کا ممبر یہ کا م نہیں کر تا ۔دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہو تا کہ سر کا ری ملا زم اپنے آپریشن کے اخراجات کابل وفا قی یا صو با ئی دارلحکو مت میں جا کر 50 فیصد کمیشن د یکر منظور کر واتا ہو۔دنیا میں کہیں ا یسا نہیں ہو تا۔کہ سر کا ر ی ملازم اپنے سفر خرچ کا بل و صو ل کر نے کے لئے وفا قی یا صو با ئی دارلحکومت جا کر 50 فیصد بھتہ دیتا ہو۔ یہ کا م مقا می حکو متیں کر تی ہیں ہر ایک کو اس کا حق گھر کی د ہلیز پر ملتا ہے۔اور یہ مقا می حکو متو ں کا حسن ہے یہ لو کل با ڈیز کے نظام کی بڑی خوبی ہے۔سکو ل کا غسل خا نہ گر چکا ہے۔صوبا ئی حکو مت کا محکمہ 8سالو ں میں اس کی مر مت نہیں کرتا۔کا عذات لکھے جا تے ہیں ۔جواب دئے جا تے ہیں ۔انکوائیر یاں کروائی جا تی ہیں ۔نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مقا می حکو مت ایک مہینے کے اندر غسل خا نے مر مت کرواکر دیتی ہے ۔یہ مقا می حکو متوں کی خو بی ہے ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلو چستان میں 2 سالو ں سے مقا می حکو متوں کو مر ا عا ت اور اختیارات نہیں ملے۔خیبر پختونخوامیں 6مہینوں سے مقامی حکومتیں ہوا میں معلق رکھی گئی ہیں ۔پنچا ب ، سندھ اور اسلا م آبا د میں بھی حکو مت کا موڈ درست نہیں ہے۔مقا می حکو متو ں کو اختیارات د ینے کی نیت نہیں ہے۔یہا ں سی ڈی اے کی با د شا ہت مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی سلطنت کا نمو نہ پیش کرتی ہے۔سی ڈی اے کا چیئر مین اپنی سلطنت میں مسلم لیگ (ن) یا پی ٹی آئی کو شریک کرنے پرآماد ہ نہیں ۔چنا نچہ مراعات اور اختیا رت کی جنگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سب سے د لچسپ صورت حال سند ھ اور خیبر پختونخوا میں ہے۔جہا ں صوبا ئی حکو متیں عجیب الجھن میں مبتلا ہیں ۔جو اختیا رت صوبائی حکو متیں لاڑکانہ، شکا پور، پشا وراور شہرہ میں اپنی پا ر ٹی کے لو گوں کو دنیا چا ہتی ہیں ۔وہی اختیا رات یا مرا عات دونوں حکو متیں کرا چی ،حیدر اباد ، چترال اور دیر میں ایم کیو ایم ، جمیعت علمائے اسلام(ف) اور جما عت اسلا می سے تعلق ر کھنے والے منتخب لو گو ں کو دینا نہیں چا ہتے ۔یہی حا ل اسلام اباد کا ہے۔جہاں مسلم لیگ (ن)اور پی ٹی آئی کے درمیان ا قتدا کی رسہ کشی چل رہی ہے۔ اگر ن لیگ کو حکو مت ملی تو ا ختیارت دے دےئے جا ئیں گے ۔پی ٹی آئی نے حکومت بنائی تواختیارات اور مر ا عا ت نہیں ملیں گی۔تبصرہ نگا رو ں اور تجزیہ کا روں نے اس کشمکش کو تو جہ نہیں دی ۔ وہ قوانین کا مو ازانہ کر رہے دی ۔رولز آف بزنس کو دیکھ ر ہے ہیں۔اور مشرف دور کے سا تھ ان قوا نین کا مقا بلہ و مو ازنہ کر ہے ہیں ۔اصل مسئلہ قا نون کا نہیں ۔بلکہ سیاست کا ہے۔سیا سی مفا دات کا ہے۔گروہی مفا دات کا ہے ۔جس کی وجہ سے اختیارت اور مراعات کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔پڑوسی ملک بھارت میں وفاقی حکو مت کسی اور کی ہوتی ہے۔دونوں میں کبھی جھگڑا نہیں ہو تا۔مقامی حکو متیں جس پا رٹی کی بھی ہوں۔ان کے سا تھ وفا قی یا صوبا ئی حکو مت کا جھگڑا نہیں ہو تا ۔چین اور کو ریا میں سا رے اختیا رات مقا می حکو متوں کے پا س ہو تی ہیں ۔شنگھائی ،کینٹن اوربیجنگ کی مقامی حکو متوں کے اپنے جہاز ہیں ۔جہا زران کمپنیاں مقا می حکو متوں کی ملکیت ہیں ۔بڑے بڑے کا ر خا نے مقا می حکو متوں کی ملکیت ہیں ۔بر طا نیہ اور امریکہ میں مقامی حکو متوں کے پا س تما م مرا عات اور اختیارات ہیں ۔وہاں مقا می حکو متیں اپنے سکو ل ،کالج،اور یو نیورسٹیاں چلاتی ہیں۔بڑے بڑے ہسپتال چلاتی ہیں۔مقا می حکو متوں کی اپنی عدالتیں ہیں۔امریکی صدر کسی ضلع میں جا کر سڑک بنا نے کا اعلان نہیں کرتا ۔برطا نوی وزیرا عظم کسی کاوینٹی میں جلسہ کر کے پل یا سکو ل بنا نے کا اعلان نہیں کرتا۔ایسا کرے گا تو بچگانہ حرکت ہو گی۔اس کا مزاق اڑایا جا ئے گا۔مگر ہما را با وا آدم نرا لا ہے۔مقا می حکو متوں کو ہما رے سیا ست دان اور سیاسی حکو متیں کبھی اختیارت اور مراعات نہیں دینگی۔اس لئے چیف جسٹس آف پا کستان اور چیف آرمی اسٹاف کو اپنا اثرو رسوخ اور قا نو نی اختیار استعمال کرنا ہو گا ۔ “لا توں کے بھوت با توں سے نہیں ما نتے “ہما رے دونوں چیف ایک با ر پھر منظر عام پرآگئے تو مقا می حکو متوں کو ا ختیارات ملیں گے۔بقول سا غر صدیقی:
تا حدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھو لوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے
