تازہ ترین

میڈیکل کالجوں سے فارغ ہونے والے نوجوان ڈاکٹرز اپنے حلف کی مکمل پاسداری کریں۔شہرام تراکئی

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا کے سینئروزیر صحت شہرام خان تراکئی نے میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ عملی زندگی میں اپنے اس حلف کی مکمل پاسداری کریں جو وہ ڈگری حاصل کرتے وقت اٹھاتے ہیں اور تمام تر وابستگیوں سے بالا تر ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنامشن بنائیں کیونکہ لوگ تکلیف اور مصیبت کے وقت ڈاکٹرکے پاس جاتے ہیں،ڈاکٹرکی ایک مسکراہٹ ہی مریض کی آدھی تکلیف کوکم کرسکتی ہے۔ڈاکٹروں کو چاہئیے کہ وہ صحیح معنوں میں مسیحاکاکردار اداکریں ،دنیامیں پیسہ اور دولت ہر کوئی کماسکتا ہے مگر عزت اور مقام بہت کم لوگ کما تے ہیں اسلئے نوجوان ڈاکٹردکھی انسانیت کی خدمت اور ان کے دکھوں کے مداواکو اپنا شعار بنائیں تاکہ وہ معاشرے میں عزت اور مقام بنا سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز خیبر میڈیکل کالج پشاور کے کانووکیشن سے بحیثیت پروچانسلر خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ طب کاشعبہ انتہائی اہم اور اس شعبے سے وابستہ افراد خصواً ڈاکٹر معاشرے کا انتہائی قابل عزت طبقہ ہے اورموجودہ صوبائی حکومت ڈاکٹروں کووہ مقام دیناچاہتی ہے جس کے وہ حقدار ہیں، دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو خصوصی مالی مراعات دینے کیساتھ انکے لئے رہائش اور ہسپتالوں میں ہر لحاظ سے سازگار ماحول فراہم کیاجا رہا ہے تاکہ وہ دلجمعی کے ساتھ ان علاقوں میں خدمات سر انجام دے سکیں جس کیلئے ایک جامع پیکج تیار کیا گیا ہے جس کی منظوری اسی ہفتے کے اندر دی جائے گی۔پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخواکے ڈاکٹروں کودنیاکے بہترین ڈاکٹر قرار دیتے ہوئے شہرام تراکئی نے کہاکہ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ اس سرزمین میں اتنے قابل ڈاکٹر پیدا ہوتے ہیں جس کاکریڈٹ خیبر میڈیکل کالج کوجاتا ہے انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرو ں پر زور دیاکہ انہیں ڈاکٹر بنانے میں انکے والدین، اساتذہ اور حکومت کا بہت بڑاکردار ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس مٹی اور یہاں کے عوام کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ حکومت انکو ڈاکٹربنانے پرجو بھی خرچ کرتی ہے وہ اس دھرتی کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی ہے جسے انہیں کبھی بھی نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں ایک ا یسا نظام لانا چاہتی ہے جس میں صرف اور صرف میرٹ ہوگا۔ حقدار کو اس کاحق ملے گااور کوئی سفارش نہیں چلے گی جو نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ حکومت اور عوام کے بھی مفاد میں ہے۔یہ بات کہناآسان ہے مگر کرنا اس سے بھی آسان ہے اگر ہماری نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو اور موجودہ صوبائی حکومت صاف نیت اور مصمم ارادے کے ساتھ اس نظام کو بدلنے کے لئے نتیجہ خیزکوششیں کررہی ہے۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے پیش کئے بعض مطالبات کے جواب میں شہرام تراکئی نے کہاکہ صحت کے شعبے اور طبی تعلیمی اداروں کی ترقی کیلئے حکومت کے پاس فنڈزکی کوئی کمی نہیں مگرضرورت اس بات کی ہے کہ فنڈزکے بہتراور موثر استعمال کیلئے جامع پلان پیش کئے جائیں۔صوبائی حکومت ہر ممکن مالی وسائل فراہم کرے گی۔صوبائی وزیرنے ڈگریاں لینے والے طلباء و طالبات اوران کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے انکی عملی زندگی کیلئے نیک خواہشات کابھی اظہار کیا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق