ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ ) (ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال)

…….کرپشن کی روک تھام……



کرپشن نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔یہ عفریت اتنا پھیل چکا ہے سرمایہ کاری اور اقتصادی بحالی کی امید معدوم ہوگئی ہے۔تعداد میں ضرورت سے زیادہ مگر حقیر معاوضے پانے والی ہماری بیورو کریسی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ماہر معاشیات کے مطابق ٹیکس جمع کرنے کا ذمہ دار ادارہ یعنی سنٹرل بورڈ آف ریو نیو( سی بی آر) ہر برس 150ارب روپے ہضم کر جاتا ہے، اور یہ سلسلہ مدتوں سے جاری ہے۔ حکمران طبقہ قوت کے تمام مراکز اور اداروں پر مسلط ہے ۔ اس نے ٹیکس ہضم کرنے کے کلچر کو فروغ دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ دھوکہ دہی اور رشوت دینے کی طرف مائل ہوئے ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ۔۔۔۔۔
1۔ سرکاری خزانہ خالی ہے، معیشت کمزور ہو چکی ہے اور عوام نا قابل برداشت غربت سے دوچار ہے۔
2۔ غیر ملکی قرضے کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی غلامی سامنے نظر آرہی ہے۔
3۔چونکہ امیر لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے، لہذا 80فیصد آمدن براہ راست ٹیکسوں سے حاصل کی جارہی ہے جس سے افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں پہ بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
4۔ بد عنوانی کا نتیجہ صرف یہ نہیں کہ محنت کشوں کو مزید ٹیکس ادا کرنا پڑے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رشوت ادا کئے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوگا۔ یعنی انصاف تک کا حصول ممکن نہیں رہا۔
5۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بد عنوانی کے اس چلن نے جمہوریت کو تباہ کر دیا ، نا جائز دولت سے پولیس ، عدلیہ ، غنڈوں اور ووٹروں کو خرید لیا جاتا ہے۔ جہاں ساڑھے چار کروڑ افراد خط غربت سے نیچے کی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔1988ء کے بعد چار حکومتیں بد عنوانی کے الزام میں بر طرف ہوئے ، مگر وہی بد عنوانی سیاست دان پھر سے اقتدار میں آگئے ۔ جب تک نا جائز دولت والے الیکشن لڑنے کیلئے آزاد ہیں ہم جرائم پیشہ لوگوں کا اقتدار برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
اس پس منظر میں پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ ہم بد عنوانی کی بلا سے کیسے نمٹتے ہیں۔ یہ مسئلہ حل کئے بغیر دنیا کے بہترین معیشت دان بھی ہمیں اس دلدل سے نکال نہیں سکتے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قدرے بہتر شرائط پر مزید قرضے دلادیں گے اور یوں قرض کا تباہ کن پھندا اور بھی سخت ہو جائے گا۔1959ء میں جب لی کوان یو وزیر اعظم بنے تو سنگا پور میں پاکستان سے زیادہ کرپشن تھی تب فی کس آمدنی 400ڈالر تھی اور بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ چھوٹا سا جزیرہ ملائشیا کے بغیر اقتصادی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہو سکے گا۔ آج سنگا پور میں فی کس آمدن 22000ڈالر ہے اور ٹرانسپییریسی انٹر نیشنل کے مطابق ایشیا کے کسی بھی دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہاں کرپشن کم ہے۔ جبکہ پاکستان دنیا کے بد عنوان ترین ملکوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ سرمایہ کاری کیلئے اس کا ماحول بہترین سمجھا جاتا ہے ۔ لی کوان یو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کرپشن کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح بنایا ۔ وہ خود نہایت مضبوط کردار کے آدمی ہے اور انہوں نے یقینی بنایا کہ ان کی کابینہ کے لوگ بھی صاف ستھرے ہوں۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے دو اداروں عدلیہ اور بد عنوانی کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے ادارے(CORRUPT PRACTICES INVESTIGATION BUREAU) کو مضبوط بنایا اور متحرک کیا ۔ چونکہ وہ خود ایک ایماندار آدمی تھے ، لہذا انہوں نے ان دونوں اداروں کے کام میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ ان کی حکومت نے تہیہ کر لیا کہ کسی کو مقدس گائے بننے نہ دیا جائے گا۔ وزراء کرام کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا گیا ، چنانچہ اب تک متعلقہ ادارے کی کوششوں سے تین وزراء کو سزا بھی ہو گئی ، اور یہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے منا صب پر فائز تھے ۔ چونکہ لی کوان یو بد عنوانی کے خاتمے پر تلے ہوئے تھے ۔ لہذا 1960ء اور پھر 1963ء میں انہوں نے برطانوی دورکے قوانین میں ترمیم کی تاکہ کوئی شخص ان فرسودہ ضابطوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
ہم لی کوان یو کے تین اہم اقدامات سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
1۔ سرکاری افسر اور وزراء نجی شعبے کے برابر تنخواہ پاتے ہیں۔مراعات اور سہولتوں کی بجائے انہیں یک مشت نقد ادائیگی کر دی جاتی ہے۔ یہ پاکستان کے برعکس ہے، جہاں وزراء اور افسروں کی تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں مقابلتاََ بالکل حقیر ہیں۔ آج سنگا پور کے چیف جسٹس کو دنیا بھر کے ججوں سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے یعنی 2ملین ڈالر سالانہ ( پاکستان سکے میں ایک کروڑ روپے ماہوار) ۔۔( حضرت عمرؓ کے عہد میں جنہیں انسانی تاریخ کا عظیم ترین حکمران کہا جاتا ہے قاضیوں کی تنخواہیں برابر کے سرکاری افسروں سے چھ گنا زیادہ ہوتی تھیں۔
2۔ کی کوان یو کی حکومت نے الیکشن کے اخراجات میں غیر معمولی کمی کر دی ۔ انہوں نے ادراک کیا کہ ایک سیاستدان اپنی انتخابی مہم پہ جتنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ بدعنوانی کیلئے اس کی بے تابی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے ۔ ایک سروے کے مطابق الیکشن کے دن پورے ملک میں ووٹروں کو ڈھونے پر ایک ارب روپے صرف ہوتے ہیں۔
3۔نہایت سختی کے ساتھ Conflict of intrestکے نام سے ایک قانون نافذ کیا گیا کہ کوئی سرکاری افسر اپنی حیثیت سے نا جائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس صورتحال کا تقابل پاکستان سے کیجئے تو یہ سمجھنا بہت آسان ہوگا کہ ملک کیوں غریب ہوا اور یہ لوگ اتنے امیر کیسے ہوگئے ۔ پندرہ برسوں کے اثاثوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنی حیثیت کا کتنا غلط فائدہ اٹھایا ۔
میرے خیال میں لی کوان یوکی ایک سب سے بڑی فتح یہ تھی کہ انہوں نے معاشرے میں کرپشن کو نا قابل قبول بنا دیا۔۔
ہماری نجات تبھی ممکن ہے کہ کرپشن کے عفریت پر کئی طرف سے حملہ کیا جائے۔ہماری قیادت ایماندار، پر عزم اور مستقل مزاج ہونی چاہیے ۔ اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ بڑی مچھلیوں پہ ہاتھ ڈال سکیں۔ صرف ایماندار قیادت ہی تیسری دنیا کے دوسرے ایماندار لیڈروں کی مدد سے کرپشن کے خلاف ایک عالمی تحریک اٹھا سکتی ہے جو مغرب کو مجبور کردے کہ کرپشن کو منشیات کی سمگلنگ جیسا بھیانک جرم تسلیم کیا جائے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں کرپشن کے باعث مغرب میں منشیات کی نسبت زیادہ لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
اگر لی کوان یو ان قوانین کو بدل سکتے تھے جو احتساب کی راہ میں رکاوٹ تھے تو ہماری حکومت ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔لوگ معذرت اور جواز نہیں ، نتائج چاہتے ہیں۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق