چترال لوئر

دروش کے زلزلہ متاثرین اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاری کر نے لگے/انتظامیہ اور عوامی نمائندے کی مذمت

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) گذشتہ دو ہفتوں سے دروش بازار چوک میں دھرنا دئیے ہوئے متاثرین نے اپنے اگلے لائحہ عمل کے لئے تیاری شروع کردی اور اسلام آباد لانگ مارچ کے لئے متاثرین زلزلہ کے ناموں کا اندراج شروع کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق زلزلہ زدگان کو امدادی رقوم کی تقسیم میں بے قاعدگیوں کے خلاف دروش اور ملحقہ مختلف دیہات کے لوگوں کی طرف سے احتجاجی دھرنا جارہی ہے جبکہ دھرنے کے شرکاء نے اگلے مرحلے کی باقاعدہ تیاری شروع کردی ہے جس کے تحت متاثرین اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرینگے۔ اتوار کے روز دھرنے کے مقام پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مقامی راہنما عبدالباری، حسن محمد، قاری نظام الدین اور صلاح الدین طوفان نے کہا کہ گذشتہ 14دنوں سے زلزلہ متاثرین اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لئے پر امن دھرنا دئیے ہوئے ہیں مگر ابتک ہمارے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں سارے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا زلزلہ متاثرین کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے مگر ہم اپنے حق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان کی موجودگی میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ زیادتی کی گئی اور یہ لوگ خاموش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہر سطح پر پر امن احتجاج کا فیصلہ کر چکے ہیں ، دروش سے جلوس کی شکل میں چترال جاکر وہاں پریس کانفرنس منعقد کی گئی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابتک ضلعی انتظامیہ کی طرف سے متاثرین اور دھرنا کے شرکاء کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے اس مسئلے کو حل کرنے اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں قطعاً دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں دھرنا کے قائدین کا کہنا تھا کہ اسوقت لوگوں کے ناموں کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے اور انشاء اللہ درجنوں گاڑیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں متاثرین چترال سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرینگے اور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف تک اپنی آواز پہنچائینگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حق پر ہیں اور کسی بھی صورت اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ ابتدائی لسٹ میں جن لوگوں کے نام موجود تھے انہیں بغیر کسی لیت و لعل کے امدادی چیک جاری کئے جائیں، جن لوگوں کے چیک بلاک ہوئے ہیں انہیں رقم جاری کیا جائے اور دیگر درخواست دہندگان جنہیں امداد سے محروم رکھا گیا ہے انکے درخواستوں پرعملدرآمد کرکے انکے ناموں کا اندراج کیا جائے اور وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق انہیں امدادفراہم کئے جائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى