ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……اے پی ایس وا قعے کا ایک سال

……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …….

Advertisements

آرمی پبلک سکول پشا ور پر 16دسمبر 2014کو دشمن کا حملہ مو جو دہ غیر مہذب دنیا کی غیر مہذب قو مو ں کی طر ف سے دشمن پر غیر مہذب حملے کا ایک ادنیٰ سا نمو نہ تھا ۔اس روزہم سب کو ا یسا محسو س ہوا کہ اکیسو یں صدی کے مقا بلے میں چنگیز خا ن ،ہلاکو خان اور سکندر ا عظم کا زما نہ بہت مہذب زمانہ تھا۔8 سو سا ل پہلے یا ڈھا ئی ہزار سال پہلے د شمن کی فو ج مخا لف ملک کی فوج سے لڑتی تھی۔عو رتو ں ، بچوں ،بیما روں اور بو ڑھو ں سے نہیں لڑتی تھی ۔ میدان جنگ میں ہتھیار لیکر جا نے والا یا د شمن کو ما رتا تھا یا خود مرتا تھا۔ گھر میں ، سکول میں،عبا دت خانے میں، سفر میں کسی پر حملہ نہیں ہو تا تھا ۔ عو رتیں ،بچے ،بو ڑھے اور بیما ر د شمن کے حملے کا نشا نہ نہیں بنتے تھے۔پہلی جنگ عظیم بھی اسی اصول پر لڑی گئی۔سول آبا دی کو نشا نہ نہیں بنا یا گیا۔دوسری جنگ عظیم میں لندن پر فضا ئی حملہ ہوا۔تو پو ری دنیا چو نک ا ٹھی۔ پھر ا مر یکہ نے جا پا ن کے دو شہروں پر ایٹم بم برسا کر 7لا کھ شہریوں کا قتل عام کیا۔10لاکھ شہری معذور اور 25لاکھ بیما ریوں کا شکار ہو گئے۔7اگست 1945 اور19 اگست 1945کو ہیرو شیما اور نا گا ساکی پر ایٹمی حملوں کو جدید دور کی غیر مہذب اور جا ہل دنیا کی پہلی غیر مہذب اور جا ہلا نہ جنگ قرار دیا جا تاہے۔پا کستان اور بھارت کے درمیان68سالوں میں 4بڑی جنگیں لڑی گئیں ۔ان جنگو ں میں صرف فوجوں نے حصہ لیا۔ فوجوں کو نقصان پہنچا ۔سول آبادی کا نقصان بہت معمولی تھا۔اس پرجنیوا کنو نشن کا ا طلاق ہو تا تھا اور دشمن سے با ز پرس ہوتی تھی۔اکیسویں صدی سے 20سال پہلے غیر مہذب دنیا کی پہلی جنگ اافغانستان میں شروع ہو ئی ۔اس کے شعلے پا کستان میں آنے لگے۔ ان شعلوں نے ہما ری مسجدوں ،ہمارے با زاروں ،جنازہ گا ہوں اور سکو لوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس غیر مہذب جنگ میں بھا رت،اسرائیل اور افعانستان عالمی برادری کا سا تھ دے رہے ہیں ۔پا کستان اس جنگ میں اکیلا ہے۔اس وجہ سے ہما رے سکو ل بھی نشا نہ بن رہے ہے۔ہما ری مسجد یں بھی نشا نہ بن رہی ہیں ۔آرمی پبلک سکول پشاور بھی 16دسمبر 2014 کو بھا رتی دہشت گر دی کا نشانہ بنا تھا۔لیکن سا منے بھارت اور اس کے حلیف ممالک کا نا م نہیں آیا۔ بلکہ کا غذی تنظیموں کا ذکر ہوا ۔آرمی پبلک سکول پر دشمن کا حملہ پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں کا تسلسل تھا ۔اس طرح کے حملے مہران بیس،جی ایچ کیو ،پر یڈ لین ،کا مرہ ائیر بیس اور دیگر حساس مقامات پر بھی ہوئے تھے۔اس لحا ظ سے اے پی ایس کا وا قعہ دشمن کا پہلا حملہ نہیں تھا۔انوکھا بھی نہیں تھا البتہ اس وا قعے کے بعد ایک مہینے کے لئے قوم متحد ہو گئی ۔اس کے نتیجے میں سزائے موت کو بحال کیا گیا۔فو جی عدا لتوں کا قیام عمل میں آیا۔اور نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔نیکٹا کو فعال بنانے کا عزم دہرایا گیا۔آج ہم ایک سال کی کارکردگی کا جا ئزہ لیتے ہیں۔تو تین با تیں سا منے آتی ہیں۔سزائے مو ت کی بحالی کے بعد سزائے موت پر عملدر آمد میں سستی دکھائی گئی۔سال کے اندر کم از کم2ہزار مجرموں کو پھا نسی ہونی چا ہیے تھی۔بمشکل 600 مجرموں کو پھا نسی ہو ئی۔وہ بھی 1998ء سے2007ء کے دوران سزا پا نے والے مجرم تھے ۔2007ء سے2015ء تک کے عر صے میں واردا تیں کر نے والوں میں سے صرف 8مجرموں کو سزا ئیں دی گئیں ۔وہ بھی فو جی عدالتوں سے سزا یا فتہ تھے ۔فو جی عدا لتوں سے یہ تو قع تھی کہ 10مہینوں میں کم ازکم 4 ہزار مجرموں کو سزائے موت دی جا ئے گی۔ایسا دیکھنے میں نہیں آیا جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے۔اس کے 90 فیصد حصے پر عمل نہیں ہوا۔اسی طرح نیکٹا کو فعال کر نے کا خواب ایک فیصد بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔16دسمبر 2014کے ا گلے روز 17دسمبر کو پشاور میں قومی سیا سی رہنما وں کا اجلا س ہوا۔اس اجلاس کے بعد مفروضہ قا ئم کیا گیا کہ قوم متحد ہو گئی ۔ایک مہینہ بعد قوم پھر منتشر ہو گئی اور یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا۔چنا نچہ سا نحہ اے پی ایس کے ایک سال بعد قوم کی نظر یں ایک بار پھر پاک فو ج پر لگی ہو ئی ہیں ۔سیا سی قیا دت ، سول انتظامیہ اور عدلیہ نے خود کو دشمن کے مقا بلے میں طا قتور اور مضبوط ثابت کر کے نہیں دکھا یا ۔یہ غیر مہذب دنیا کی غیر مہذب جنگ ہے۔جس میں سکو لوں کے اندر ،بچوں، مسجدوں کے اندر نما زیوں اور بسوں کے اندر مسا فروں کو نشا نہ بنا یا جاتا ہے۔یہ 1948ء اور1965ء کی جنگوں سے بڑی جنگ ہے۔یہ 1971ء کی جنگ سے بھی بڑی جنگ ہے۔لیکن ہماری قوم کو اس کا احسا س نہیں۔ دشمن 1965ء اور 1971ء کی طرح چو کس ہے ۔اس کے تمام ادارے چوکس ہیں۔ہمارے پاس ایک فوج ہے۔20 کروڑ کی آبادی میں بمشکل 5 لاکھ بندے ہے۔جن کے کندھوں پر دشمن کے مقابلے کا بو جھ ہے۔اے پی ایس حملے کے ایک سال بعد ہم سو چتے ہیں۔ توندامت کے ما رے ہمارا سر جھک جا تا ہے۔ہم نے سیا سی ،قو می ،معاشرتی اور سما جی محازپر دشمن ملکوں کے مقا بلے میں وہ طا قت نہیں دکھائی جو ہمیں دکھا نی چا ہیے تھی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى