محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔برف ہوئے ہاتھ اور معلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات۔


سخت سردی نے پکڈنڈیوں کو جماکر سان کر دیا ہے ۔ قدم تمہارے اختیار سے باہر ہو تے ہیں ۔اوپر سے تیز آندھی چلتی ہے اس کے ٹھٹیرے تیر کی طرح بدن کے ارپار ہوئے ہیں ۔سات سال کی تاتوان جان انہی پکڈنڈیوں سے گرتا پڑتا سکول پہنچتا ہے ٹھٹھر تے گیٹ سے اند ر جاتاہے دو ’’ مسیحا ‘‘ نگا ہیں اس کو دیکھتی ہے ایسی نگاہیں جس میں ساری کائنات سما جائے جن میں ساری نفرتیں ڈوب جائیں جس میں سارے کانٹے دولت ، شہرت ، غرور ، رعونت اور برتری گر کے بھسم ہوجائیں۔ جو مستقبل دیکھیں دور تک دیکھیں ۔جن کو سب کچھ نظر آئے ۔ پیشانی پہ لکھی ہوئی تحریر ۔ آنکھوں میں اُتری ہوئی چمک ۔۔ ہاتھوں میں غریبی کی بیڑھیاں ۔ ۔۔ پاؤں میں بے بسی کی زنجیر یں سب مسیحا نگاہوں میں اتر رہی ہوتی ہیں ۔وہ نگاہیں جو کھلی کائنات ہیں ۔ یہ ’’ مسیحا نگاہیں ‘‘ اس ٹھٹھر تے بچے پہ پڑتی ہیں ۔وہ اس کا برف ہوتا ہاتھ اپنے گر م گرم ہاتھوں میں لیتا ہے ۔دبا دبا کے وہ ’’ یخ ہاتھ ‘‘ گرم کرتا ہے ۔اس بچے کو آگ کے قریب اپنے سامنے بیٹھا تا ہے ۔بچہ آگ تاب کے پھر سے نارمل ہو جاتاہے۔وہ ان ’’ مسیحا نگاہوں ‘‘ کی طرف دیکھتا ہے ’’ مسیحا نگاہیں ‘‘ پہلے سے اس کو دیکھ رہی ہوتی ہیں ۔اس معصوم کو اندازہ نہیں کہ ’’ مسیحا نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیں ۔مسیحا نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ بلکتا بچہ بڑا فیسر بن جاتاہے ۔چمکتی گاڑی ہے وسع دفتر ہے ہلتی کر سی ہے سامنے میز پرلیپ ٹاپ رکھا ہوا ہے ۔ٹیلی فون ہے فائلیں ہیں ملاقاتی ہیں پرنسپل سکرکڑی ہے کلرک ہے۔ استاد اس کے دفتر کے سامنے منتظر کھڑا ہے ۔اندر داخل ہوتا ہے بہت سارے لوگ ہیں ۔اب اس کی انکھوں میں اس کا اپنا مستقبل ہے ۔وہ ہلتی کر سی میں بیٹھا ہے اس کے ہاتھ گرم ہیں۔وہ ٹھٹھر تا نہیں وہ استاد کیطرف شاہانہ انداز میں دیکھتا ہے۔۔۔۔ سیاست دان ہے سامنے ہجوم ہے وہ ا ن کو مخاطب کرتا ہے ۔مضمونکی ہوا باند ھتا ہے اسی ،ہجوم میں اس کو آگ کے قریب بیٹھا کرگرم کر نے والا استاد بھی موجود ہے۔۔ سیاست دان کی آنکھوں میں اس کا مستقبل ہے اس کے ہاتھ گرم ہے ۔۔ڈاکٹر اپنے کلنک میں بیٹھا ہے استاد بیمار ہے ۔ فیس دے کے اس تک پہنچتا ہے۔ڈاکٹر کے ہاتھ گرم ہیں اس کی آنکھوں میں وہ والی معصومیت نہیں۔ ۔ گاڑیاں زن سے معلم کے قریب سے گذرتی ہیں۔ اس میں بیٹھے لوگوں کے بدن گرم ہیں ٹھٹھر تے نہیں ۔قہقہے ہیں۔عرض معاشرے کے کسی سٹیک ہولڈر کی نگاہوں میں کوئی نمایاں مقام نہیں تو سوال ہے کہ معلم ایک بھولنے کی چیز ہے ۔ ایک سرد ہوا کا جھونکا ایک چلتا پھرتاخواب ہے۔ ایک بگولہ ہے ایک پنڈولم ہے۔ توپھر اس کے لئے لفظوں کا ملغوبہ کس لئے ۔۔ سٹیچ پر آکر معلم کے اوصاف کس لئے گنوائے جاتے ہیں ۔افیسر اپنے آفس میں اس کے احترام میں کھڑا نہیں ہوتا۔ سٹیج پہ آکے قوم کو معمار کیوں کہتا ہے ۔اس کی تعمیر جس معلم کی ہے وہ اس معمار کو بھول گیا ہے سیاست دان اس کو کسی شمار میں نہیں لاتا ۔ پھر اپنی تقریر میں اس پیشے کو پیشہ پیا مبری کیوں کہتا ہے ۔ڈاکٹر سب سے آخر میں اس کا چیک اب کرتاہے ۔پھر استاد ’’عظیم ‘‘ ہے کیوں کہتا ہے ڈرائیور اس کو سیٹ پہ بیٹھا نے سے انکاری ہے پھر اس کو ’’’ استاد ‘‘ کیوں کہتا ہے ۔گاؤں کے معززین کی لسٹ میں صوبے دار ، جمعدار ۔ٹھکیدار ۔تھانیدار ،اور نمبردار کا نام ہوگا استاد کا نام شامل نہیں ہوگا ۔ پھراستاد کے تعارف میں الفاظ کے گورکھ دھند ے کیوںیہ معلم کب تک تسلیاں سنتارہے گا ۔ کب تک دوسرے ملکوں کے حوالے دے کر اس کو بہلا یا جائے گا کب تک یہ کہا جائے گا ۔کہ جاچان میں پولیس کو استاد کو پکڑنے کے لئے حکومت سے اجا زت لینی پڑتی ہے ۔کب تک یہ الا پتا جائے گا کہ امریکی کی عدالت میں استاد کو بیٹھنے کے لئے کرسی پیش کی جاتی ہے ۔اند ھیر نگری میں یہ سب باتیں فضول ہیں۔سب استاتذہ اچھے نہیں لیکن استاد کو چھوٹی تسلی دینا بھی اچھی بات نہیں ۔استاد آپ سے کچھ نہیں چاہتا ۔تم غباروں میں اڑو مگر اس کا احترام اگر تمہارے دل میں نہیں تو اس کو اس احترام کی ضرورت بھی نہیں ۔وہ بانکا مسافر ہے تو جب ’’ جنت کا پھول ‘‘ کابھول تھا تو وہ تیرا مالی تھا ۔اب تو اب تنا ور درخت ہے ۔درخت اس کو اچھے نہیں لگتے شاید ان کے پھل کڑوے ہوں استاد ہوش میںآتاہے ۔تو بچہ آگ تاپ کے کب کے اچھل کو د کے اپنی کلاس میں گیا ہوا ہے ۔استاد کے ہاتھ کوئی ٹھٹھر تے ہاتھ نہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق