محمد جاوید حیات

سانحہ آرمی پبلک سکول اور ما ؤ ں کی صدا

 فداالرحمٰن

Advertisements

sfida511@ yahoo.com

سولہ دسمبر 2014 کی صبح مائیں معمول کے مطابق نماز فجر اور تلاوت کلام مجید سے فراغت پاکر اپنے ننھے لالوں کے لئے ناشتہ بنانے میں مگن ہو گئیں۔ اپنے معصوم جگر گوشوں کو نیند سے بیدار کیا ۔ اپنے شفیق ہاتھوں سے ناشتہ پیش کیا۔ وہ معصوم پھول ماں کے ہاتھ کا بنایا ہوا ناشتہ کرنے کے بعد اسی ثانیہ سکول کے تیاری میں مصروف ہو گئے ۔ سردی کے اس شدید موسم میں خود کو سکول یونیفارم کے علاوہ گرم کوٹ،جیکٹ،اور گرم ٹوپیوں جیسے ملبوسات میں خود کو محفوظ کیا۔ماں نے لنچ بکس چھپکے سے اپنے بیٹے کے بستے میں ڈال کر تسلی کی۔ ٹھٹھرتے ہاتھوں سے کسی نے اپنے ناز پروردہ کو شفقت بھراسر پر پیار کیا۔کو کسی ماں نے اپنے پیارے کو گلے لگا کر بوسہ کر کے رخصت کیا۔ دل میں ایک ہی سانس ، ہزاروں دعائیں لب پر آئیں اور دروازے میں کھڑے ہو کر راہ تکنے لگیں۔الوداع کیا ۔جب تک آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا دروازے پر جمی رہیں۔ یوں معمول کے کاموں میں مشغول ہو گئیں ۔
بچے گھر کے دریچے سے رخصت ہو گئے ، ادھر سکول کی عمارت پیہم اپنے سارے پھاٹک کھلے رکھے ۔ ننھے طالب علموں کے استقبال کے لئے بے تاب تھی۔ کچھ شک نہیں کہ کمرہ جماعت کے کھلے دروازے بھی طالب علموں کو خوش آمدید کہ رہے تھے۔ نویں جماعت کے بچے اپنے ہم مکتب ساتھی ،دسویں جماعت کو الوداعی پارٹی کی خاطر بھر پور تیاری کے ساتھ ” بابو” بن کر تشریف لائے۔ کسی اندیشہ اور خوف سے بے خبر اپنی مخصوص منصوبہ بندی کے تحت اپنی اپنی سرگرمیوں میں محو ہو گئے ۔ یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ چند لمحوں کے بعد ان پر کیا بیتنے والی ہے۔ اس علمی درس گاہ سے بارود کی بو اٹھے گی، ننھی جانوں کے تڑپتے لاشیں بکھرے پڑے ہوں گے، قلم کے ہتھیار چھیں لئے جائیں گے، اور دو نالی والی بندوقیں ان کی کن پٹی پر تنی ہونگی۔
غرض یہ کہ ننھی جانیں مسکراتے لبوں سے اپنے اساتذہ کو تسکیں دے رہے تھے۔ اساتذہ منبع و علم و دانش انہی کو مستقبل کی راہ دکھارے تھے ۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ سفاک دہشت گرد اسکول کی عقبی جانب سے دیوار پھلانگتے ہیں اور عمارت کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں ۔ الوداعی تقریب میں جا کر خوشیوں اور مسرتوں سے بھر پور چہروں کو ہمیشہ کے لئے اپنی اندھا دھند فائرنگ سے الوداع کراتے ہیں ۔ یہ وہ منظر تھا جب اس علمی درس گاہ میں ایک قیامت برپا ہو گئیں ۔ چلاتی چیختی جانیں۔۔۔۔۔۔۔اساتذہ کی حاضر دماغی مگر بے سود ٹھرا۔۔۔۔۔۔۔ 141 جانیں خون میں نہا گئیں۔
کیا قصور تھا ان ننھی کلیوں کا جو بنا کھلے مرجھا گئیں۔ چند لمحوں میں اس درسگاہ پر سناٹا سا گزر گیا ۔ ایسی بربریت تو کوئی انسان سوچ ہی نہیں سکتا۔ مگر وہ انسانیت کے دشمن عناصر دراصل حیوان اور درندوں سے بھی بڑھ کر کوئی مخلوق تھے۔
ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں جو غم میں نڈھال ماؤں کے دکھ ، اور افسردگی کا اندازہ لگا سکیں۔ اسی علم ناک واقعے کے مناظر ذہنوں میں ایسے نقش ہوئے ہیں کہ انہیں اب وقت کی دھول ہی دھند لا سکے گی۔
ان ماؤں کے زخم کیسے مندمل ہونگے کہ جن کی ننھی خوشیاں درندوں نے لمحوں میں نوچ لیں۔ وہ راتوں کو اپنے لالوں کے بغیر گرم بستر میں کیسے سوئیں گی۔ برگر، نوڈلز، اور چپس کیا کبھی وہ زندگی میں دیکھنا چاہیں گی۔الماری میں پڑی مکمل ، نا مکمل ہوم ورک کی کاپیاں وہ کسی کو ڈانٹ کر لکھنے کے لئے دیں گی؟ کسی کے روشن مستقبل کے خواب دیکھیں گی؟ میں جانتا ہوں ان ماؤں میں سے کسی کو یہ دکھ ہوگا کہ اس روز امتحان کی وجہ سے ان کا بچہ جلدی میں کچھ کھائے بنا چلا گیا تھا۔کسی کو یہ صدمہ ہو گا کہ امتحان کے دنوں میں بھی کمپیوٹر پر ذیادہ دیر تک بیٹھنے اور ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کی وجہ سے وہ بیٹے سے خفا ہو گئی تھیں۔ ظالم دہشت گردوں نے ذرہ بھی نہ سوچا اور آن واحد میں ماں کے سوالوں کو چیخوں میں بدل دیا۔ جو اس نے اپنے لخت جگر سے پوچھنے کے لئے سوچ رہی تھی۔
ان 140 ماؤں کے ضبط کے بند بھی ٹوٹ رہے ہیں ۔ ہو سب سے یہی سوال کر رہی ہیں کہ یہ کیسی جنگ ہے۔ جس کا ایندھن میرے معصوم بچے بن رہے ہیں ۔ یہ انسانی وحشت و درندگی کا کونسا عہد ہے ؟ میرا مذہب تو امن کا درس دیتا ہے ۔ میرے پیغمبر نے تو کافروں اور مشرکوں سے بھی سلوک کی حدود متعین کی ہیں پھر یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ کس دین کے ماننے والے ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں جو میرے وطن کی ماؤں کو پتھر کے دور میں لے گئے ہیں جہاں نہ جنگ کے قانون ہیں اور نہ اخلاق کے ضابطے ۔ یہ کیسی خوف و غم کی چادر ہے جو میری قوم کی ماؤں کو اوڑھا دی گئی ہیں ۔
پوری قوم انتقام کی آگ میں جل رہا ہے لیکن ماں تو ماں ہے چاہے ننھے آرمی پبلک سکول کی شہدا کی ہو یا ڈرون حملوں میں شہید ہونے والے وزیرستان کے بچوں کی یہ گھر کے گرم بستر میں بچوں کو چلغوزے نکال کر دیتی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو صرف اپنے بچوں کا تحفظ مانگتی ہیں۔ انہیں ڈالرز کی لالچ ہے نہ پتھر کے دور کی پرواہ ۔ ان کا دل تو اپنے بچوں کو آنگن میں کھیلتے ہوئے دیکھ کر دھڑ کتا ہے ۔ یہ اپنی ننھی کلیوں کو گولیو ں سے چھلنی ہو تا نہیں دیکھ سکتی ۔لہذٰا انہیں وہ درد نہ دو جس کا درماں کوئی نہ ہو ۔ یہ سکون کی نیند کو ترس رہی ہیں ۔ان کی گودیں ایسے نہ اجاڑو ۔پل پل جینے ا ور مرنے کی کیفیت سے انہیں نکالو۔خدارا ! اب مو ت کو ان کے گھر کی دہلیز سے دور رکھو ۔ آج پوری قوم کی مائیں صدا دے رہی ہیں ہمیں امن دو ہمیں امن دو ہمیں امن دو

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى