بشیر حسین آزادؔ

مکتوبِ چترال……آخری پوسٹ پر حملہ

………بشیر حسین آزاد…….



کراچی،کوئٹہ،فاٹا،گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں بدامنی ،فسادات،کشیدگی اور خانہ جنگی کے بعد چترال کا ضلع ایسا علاقہ رہ گیا ہے۔جہاں امن ہے۔حب الوطنی ہے،باہمی محبت ہے،اخوت ہے اور پاکستان کے ساتھ وفاداری ہے۔ایسا لگتا ہے کہ چترال کو بھی کسی کی نظر لگ گئی ہے۔2015کے آخری مہینے میں چترال کے امن کو تہ وبالا کرکے اس پُرامن خطے میں لا اینڈ آرڈر کی خراب صورت حال پیدا کرنے کی باقاعدہ سازش ہورہی ہے۔اس سازش کا راز اُس وقت طشت ازبام ہوا جب ضلع میں کاروباری طبقے کو باقاعدہ منصوبے کے تحت ہراسان کیا گیا۔پہلے چھوٹے ریسٹورنٹ اور ہوٹل مالکان کو سی ٹی وی کیمرے،سرچ مشین،بائیو میٹرک سسٹم اور سیکیورٹی گارڈ نہ رکھنے پر ایف آئی آر کٹواکر عدالتوں اور تھانوں میں ذلیل وخوار کیا گیا۔اس کے بعد تاجروں سے کہا گیا کہ 100سال پہلے خریدے ہوئے دکانوں کے نقشے اور سندات پیدا کرو۔ورنہ تمہاری دکانیں تجاوزات کی زد میں آکر مسمار ہوجائینگی۔اس طرح چترال کی5لاکھ آبادی میں80ہزار کی آبادی متاثر ہوئی۔انتظامیہ کہتی ہے کہ ہمیں عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا حکم ملا ہے۔ہم اس حکم کو ہر صورت عمل میں لائینگے۔کاروباری برادری کہتی ہے کہ چھوٹے ہوٹلوں اور ریستورانوں کا جو قانون دیر،سوات،گلگت اور بنوں میں ہے۔وہ قانون چترال میں لایا جائے۔چترال کے لئے الگ قانون کی کیا ضرورت ہے؟کاروباری طبقے کا یہ موقف ہے کہ ہم تجاوزات کی مذمت کرتے ہیں۔تجاوزات کے خلاف اپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔مگر اس کا طریقہ وہ ہونا چاہیئے جو پشاور اور دیگر شہروں میں ہے ۔قانونی طریقہ یہ ہے کہ حکومت سڑک کا سرکاری نقشہ عدالت کو فراہم کرتی ہے۔سرکاری نقشے میں سڑک کی چوڑائی دی گئی ہے۔جس تاجر یا دکاندار نے نقشے کی خلاف ورزی کی ہو۔اس کے تجاوزات مسمار کردئیے جائیں۔دکاندار کے ساتھ 1982کا معاہدہ سامنے لایا جائے جب سڑک کی توسیع ہوئی تھی۔دوکاندار سے 1913یا1918کی سند مانگنا آمن وامان کے خلاف گہری سازش ہے۔یا بڑے پیمانے پر کرپشن کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔اگر سرکار کے پاس 1982میں بنائی گئی سڑک کا نقشہ نہیں ہے۔تو تاجر کے پاس 1913میں کی گئی پیمائش کا ریکارڈ کہاں سے آئے گا؟تاجر وں کا موقف یہ بھی ہے کہ100سال پہلے یا50سال پہلے دکانوں کی خرید وفروخت میں پیمائش کا دستورہی نہیں تھا۔دکان حدود کے ساتھ فروخت ہوتی تھی۔حدود کا ذکر ہوتا تھا۔پیمائش کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے فرد نمبر یا انتقال کے دیگر لوازمات اب تک مروج نہیں ہیں۔اس وجہ سے تاجر برادری پورے چترال میں شٹرڈاون ہڑتال کرے گی۔اور شٹر ڈاون ہڑتال سے کراچی والی بدامنی چترال میں پیدا ہوجائیگی۔خدشہ ہے کہ سرکاری مشینری میں تحریک انصاف کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو جگہ مل گئی ہے۔اُن عناصر نے موقع پاکر پاکستان میں امن ومحبت کی آخری چوکی پر شب خون مارنے کی سازش کی ہے۔اگر تجاوزات ختم کرنا ہے۔تو اس کا سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ حکومت1982ء میں سڑک کی توسیع کا نقشہ سامنے لائے اور اُس کے مطابق تجاوزات کی نشاندہی کرے۔اگر انتظامیہ ایسا نہیں کرتی اور تاجروں سے ثبوت مانگتی ہے تو اس کو کراچی والی بھتہ خوری کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک،چیف سکرٹری،چیف جسٹس اور کور کمانڈر کو چترال میں امن کے خلاف ہونے والی سازش کا ازالہ کرنا چاہیئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق