ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……گزرا ہوا سیلاب

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……


جولائی 2015ء میں سیلاب آیا ۔سیلاب کو 6مہینے گز ر گئے ۔ سیلاب کے متاثرین کی بحالی پر کوئی کام نہیں ہوا۔ گزشتہ روزسیلاب کے متا ثرین کی خفیہ میٹنگ ہوئی۔اس میں د لچسپ اور نا قا بل یقین حقا ئق سامنے لا ئے گئے۔صو بیدار میجر (ریٹائرڈ) امیر و لی خا ن کے مطا بق میٹنگ میں چا ر با تیں ہو ئیں ۔اور چا روں با تیں اس قا بل ہیں کہ ان پر کچھ نہ کچھ لکھا اور شا ئع کیا جا ئے ۔میٹنگ میں 22اور 23جو لائی کے اخبارات دکھا ئے گئے۔جن میں وزیر اعظم میا ں نواز شریف کی طرف سے5لاکھ روپے فی گھرانہ معا وضے کا اعلان آیا ہے۔50کروڑ رو پے کی گر انٹ کا اعلان شائع ہوا ہے۔وزیراعظم کی تقریروں کے ویڈیو دکھا ئے گئے۔ جن میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکو مت سیلاب زدگان کو بے یا رو مدد گار ہو نے نہیں دیگی۔6مہینے گز ر گئے۔ سیلاب زد گا ن بے یا ر و مد دگار ہیں ۔ان کے سروں پر چھت نہیں ہے۔ان کو حکو مت کی طرف سے کو ئی ریلیف نہیں ملا ۔ میٹنگ میں اس با ت کاذکر کیا گیا کہ حکو مت نے زلزلہ کے متا ثر ین کی امداد میں کمی نہیں ہو نے دی ۔سیلاب زدگان کو امداد کیوں نہیں ملی؟ صو بیدار میجر (ر)امیر ولی خان نے کہا کہ اس کی نما یاں وجہ یہ ہے کہ سیلاب صرف ضلع چترال میں آیا۔سوات، دیر، شا نگلہ اور بو نیر یا کو ہستان میں سیلاب نہیں آیا۔ زلزلہ زدگان کو اس وجہ سے امداد ملی کہ زلزلہ شا نگلہ ، کو ہستان ، دیر اور سوات میں بھی آیا تھا۔امیر مقام کے اثر و رسوخ کی وجہ سے وزیر اعظم نے شا نگلہ میں جو ا علا نا ت کئے۔مجبوراً و ہی اعلانا ت چترال میں بھی کر نے پڑے۔ ورنہ اکیلے چترال میں زلزلہ آتا تو گزرے ہو ئے سیلا ب کی طرح حکو مت کا کوئی وزیر، کو ئی افسر ، کو ئی جر نیل چترال کے عوا م کی حا لت پر کسی طرح کا ترس نہ کھا تا۔اور لو گ اس طرح بے پرسان رہتے جس طرح ہمیشہ سے چترال کی قسمت میں لکھا ہے ۔میٹنگ میں ایک سیا سی کا رکن نے تجو یز دی کہ اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے۔اس پر گر ما گرم بحث ہو ئی ۔اکثر یت نے را ئے دی کہ د ھر نے کا فا ئدہ نہیں ہو گا۔ دھرنا اس وقت مفید ہو تا ہے جب اس کے پیچھے کو ئی طا قتور ملک ، کسی بڑے ملک کی ایجنسی یا کو ئی طا قتور لا بی ہو ۔چترال میں گزشتہ سیلاب کے 10ہزار متا ثرین کا دھرنا کو ئی معنی نہیں رکھتا۔اس سے کچھ بھی نہیں بنے گا۔گھر کے افراد کا دو مہینے کا راشن دھرنے میں خرچ ہو گا۔نتیجہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ایک سما جی کا رکن نے تجویز پیش کی کہ چترال کے عوامی نمائندوں کے ذریعے حکو مت پر دبا ؤ ڈالا جا ئے۔اس رہنما کی بات کسی نے نہیں ما نی۔دو سرے لو گوں کا کہنا تھا کہ چترال کے نما ئندے برائے نا م ہیں ۔ حکومت کے ایوانوں میں جس طرح چترا لیوں کی کو ئی پو زیشن نہیں ۔اس طرح چترال کے نما ئندوں کی بھی کو ئی پو زیشن نہیں ان کی با ت کو وُقعت دینے والا کو ئی نہیں یہی نما ئندے تھے جنہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ سیلا ب زدہ عوام کی امداد کا فنڈ پا ک فوج کے حو الے کیا جا ئے۔ایک اور رہنما نے تجو یز دی کہ روڈ بلاک کر کے حکو مت کی تو جہ سیلاب کے متا ثرین کی طرف مبذول کرائی جائے۔حا ضرین نے اس تجو یز کو بھی مسترد کر دیا۔شرکاء نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہا کہ 10ہزار متا ثرین دسمبر کی ٹھٹھرتی سرد ی میں حکو مت کی امداد سے محروم پڑے ہیں۔6ماہ گزرگئے حفاظتی پشتے تعمیر نہیں ہو ئے۔سڑکوں کی مرمت کا کام شروع نہیں ہوا ۔روڈ بلاک سے کیا بنے گا؟کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ایک شخص نے تجو یز دی کہ اولیائے کرام کا ایک گروہ جنا زے کی پانچ تکبیروں کا قائل ہے۔ چار تکبیریں مرنے والے لئے اور پا نچویں تکبیر دنیا کی بے ثبا تی ،بے وفا ئی اور بے قراری کے لئے۔ تم بھی حکو مت کی بے وفا ئی کے لئے ایک تکبیر کہہ کر نما ز جنا زہ کی نیت با ندھ لو۔ فرض کرو یہ سال 2015نہیں1015 ء ہے۔یہاں کو ئی حکو مت نہیں ۔کو ئی ذمہ دار آفیسر نہیں ۔عوام کی فلاح و بہبود کا کو ئی دفتر نہیں ۔تم اپنے کا م 1015ء کی طرح خود کرنا سیکھو ۔تم ذرا سوچو 1015ء میں کو ئی ووٹ نہیں دیتا تھا۔
کو ئی ایم پی اے ، ایم این اے، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم نہیں ہو تا تھا۔کوئی تحصیل نا ظم یا ضلع نا ظم نہیں ہو تا تھا۔اس وقت بھی سیلاب آتا تھا ۔اس وقت بھی زلزلے ہو تے تھے ۔تمہارے آباواجداد کیا کر تے تھے۔خود اپنے کا م کر تے تھے ۔اپنی مدد آپ کر تے تھے ۔ان کے ہا تھوں میں کوئی درخواست نہیں ہو تی تھی ۔تم سمجھ لو کہ چترال ایک ہزار سال پچھے چلا گیا ہے۔یہ 2015 ء نہیں 1015ء ہے۔گزرا ہوا سیلاب جو لا ئی1015 ء کا سیلاب تھا ۔حکو مت کچھ نہیں کرے گی ۔جو کام ہے تم خود کرو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق