شمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(عالمی انسانی یکجہتی کا مطلب۔۔۔۔۔ )

…….تحریر: شمس الحق قمرؔ گلگت…….


دنیا میں جانوروں کی مختلف بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں۔ اور سب اپنے اپنے قبیلوں میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں ، کوئی بھی دشمن میلی آنکھ سے اُن کی طرف نظر اُٹھا کے دیکھنے کی جرأت نہیں کرتا اگر کسی ایک نسل کا جانور ددوسری نسل کے جانور کے ساتھ دشمنی مول لینے کی غلطی کر بھی لے تو اُسے عبرتناک انجام کو پہنچایا جاتا ہے ۔ مجھے آبی جانوروں میں سے بطخوں پر ایک تحقیق پڑھ کے یہ خیال آیا کہ یکجہتی کا اصل مفہوم کیا ہے ؟ بطخوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر قافلے کی صورت میں طے کرتے ہیں ۔ طویل لمسافتی پرواز کے دوران آبی پرندوں کے اس قافلے کو کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس سفر کے دوران بیماری ، بھوک ، پیاس، نا مساعد موسمی حالات ، فضائی قزاقوں کی یلغار ، فطری اموات اور قدرتی آفات سے نبرد آزمائی اس قافلے کا مقدر ہوتا ہے ۔ لیکن اس سفر کا اہم پہلو یہ ہے کہ قافلے کا ہر رکن اپنی اپنی زمہ داری انتہائی تندہی، احتیاط اور نزاکت سے انجام دے رہا ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ یہ قافلہ اپنا سفر بخیرو خوبی مکمل کرتا ہے ۔ اس قافلے کی کامیابی کا راز آپس میں محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے محفوط خطوط پر سفر کرنے میں پوشیدہ ہے ۔ تحقیق ان کے بارے میں یہ بتاتی ہے کہ یہ انگریزی کاحرف “V” کا زاویہ بنا کر پرواز کرتے ہیں ایسے زاوئے پر اُڑان بھرنے کو ’’Aerodynamic ‘‘ زاویہ کہا جاتا ہے اس زاوئے سے مخالف سمت چلنے والی ہوا کی تسخیر ہوتی ہے اور پرواز میں کسی بھی قسم کی کوتا ہی کا احتمال پیدا نہیں ہوتا اگر ہو بھی جائے تو نقصان کا خدشہ بہت کم ہوتا ہے ۔ ان پرندوں کی یکجہتی کا ایک پہلو بہت ہی سبق آموز ہے وہ یہ کہ پرواز کے دوران اگر کوئی پرندہ خدا ناخواستہ بیماری یا کسی اور وجہ سے کوتاہ پروازی کا شکار ہوتا ہے یا کسی حادثے کا شکار ہو کر زمین پر آگر تا ہے تو محوِ پرواز قافلے میں سے دو پرندے اُ س بیمار یا زخمی پرندے کے ساتھ تیمار داری کے طور پر زمین پر اُتر آتے ہیں اور اُس معذور پرندے کے رو بہ صحت ہونے پر دوبارہ “V” کی شکل میں پرواز کرتے ہیں اور یہ دو تندرست پرندے اُ س سفر میں اپنے کمزور ساتھی کے ساتھ ہی رہتے ہوئے پرواز کرتے ہیں اور اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
ہم یہ واقعہ آج نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ کی شروعات سے اپنی آنکھوں سے دیکھتے آرہے ہیں لیکن سبق صرف یہ حاصل کیا ہے زندگی کی پرواز میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کھینچ کر خود بازی جیتنے کی کوشش کریں اور اُ س کوشش میں تن تنہا اتنا آگے نکل جائیں کہ کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں بے دست و پا اور بے بال و پر ہو جائیں اور یوں زندگی تمام کریں ۔ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ تمام جانور اصول قدرت کے تحت خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ کتے اور بلیاں بھی ایک ساتھ اور ایک رفتار میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن انسان ایک دوسرے کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے ۔ میں شہر بہت کم جایا کرتا ہوں اور جب بھی شہر جاتا ہوں تو ذہنی طور پر مفلوج بن کر واپس آتا ہوں ۔ ایک مرتبہ میں نے اسلام آباد میں ایک واقعہ دیکھا اُس کے بعد کچھ وقت کے لئے میرا دماغ تقریباً ماوف ہوگیا ۔ ہوا یوں کہ جنوری کی شام تھی بارش خوب برسنے کے بعد ابھی تھم گئی تھی ہم ایک گلی سے گزر رہے تھے جس گلی سے ہم گزر رہے تھے اُس گلی میں کوئی بلب نہیں جل رہا تھا بس مدہم مدہم سی روشنی تھی سامنے ایک بھری اور گیلی بوری پڑی ہوئی تھی یہ بوری ادھر ادھر حرکت کر رہی تھی ہم نے قریب جاکے دیکھا تو بوری اوپر سے ڈوری لپیٹ کے کَسی ہوئی تھی ۔ ہمیں بہت افسوس ہوا کہ آخرکس درندہ صفت انسان نے بیچارے کتے کو بوری میں محبوس حالت میں چھوڑا ہے ۔ ہم نے بے چارے جانور کو آزاد کرنے کے لئے جب بوری کا دہانہ کھولا تو اُس بوری کے ا ندر ہم جیسا انسان بر آمد ہوا اور وہ اکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے موت و حیات کی کشمکش میں بُری طرح مبتلا تھا ۔ کوئی نشئی تھا لیکن کسی اور اشرف مخلوق نے اپنے جیسے انسان کو بوری میں بند کرکے گیا تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ا س بھیانک عمل کے مرتکب ہونے کے بعد اُسے سکون کیسے آیا ہوگا۔ ہم نے اُس بے بس آدمی کی مدد کی یا نہ کی وہ الگ داستان ہے لیکن رب العالمین کا یہ تماشا دیکھ کر ہمارے پاس رونے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہ تھا ۔ ہم چل کے تھوڑا اور آگے گئے تو ایک اور تماشا تھا جس گلی سے ہم گزر رہے تھے وہاں بڑی بڑی عمارتیں تھیں ہر طرف رنگ برنگنی روشنیاں اور قمقمے جھلملا رہے تھے اسی گلی کے ایک سرے میں ایک جگہ تھی جہاں انہی عمارتوں کے مکین اپنے اپنے محلات کے کوڑا کرکٹ لاکر چھوڑتے تھے اور غربت و تنگ دستگی کے ظالم ہاتھوں میں پسے ہوئے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جن کے نرم و ملائم بدن کپڑوں سے عاری تھے اور شانوں پر چھوٹے چھوٹے تھیلے اُٹھائے ہوئے تھے اور کوڑہ کرکٹ کے بیچ میں سے باسی روٹیوں کے ٹکڑوں پر ایک دوسرے کے ساتھ بہ دست و گریبان ہورہے تھے ۔ بس میں نے اوپر والے سے یہی شکایت کی کہ
؂ تو قاد رو عادل ہے مگرے تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
ہم کہاں پر کھڑے ہیں اور کن گھناوے کاموں میں مصروف ہیں ؟ حیرت ہوتی ہے آج وہی لوگ انسانی یکجہتی کے نام سے دن منانے کا ڈھونگ رچا رہیں جو لاچارو مجبور انسانوں پر اس حد تک ظلم کرتے ہیں کہ اپنے جیسے انسانوں کو کسم پرسی کی حالت میں بجائے اخلاقی مدد کرنے کے الٹا بوریوں میں بند کر کے چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ تو اسلام جیسے پرامن اور آفاقی مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل کرکے بھی احساس زیاں نہیں فرماتے ۔ دوسری اقوام کی بات تو الگ بات ہے ہم اُس قوم کی بات کرتے ہیں جن کا پیغمبرﷺ کلی کائنات کے لئے رحمت بنا کے بھیجا گیا تھا ۔ آپ ﷺ کی انسانی یکجہتی کا یہ عالم کہ اپنے جگر گوشے کے قاتل کو بھی معاف فرماتے ہیں اور دوستی کا ہاتھ بڑھادیتے ہیں ۔ ہم آپ ﷺ جیسی عظیم ہستی کی اُمت ہونے کے باوجود اپنی عظمت کو قسم قسم کی آلودگیوں کا شکاربنایا ہوا ہے جو کہ مسلمانوں کی کم از کم شیان شان نہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سب اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے اندر ایمان کا نور روشن کریں اور نبی کریم ﷺ کی اصلی اُمت ہونے کا ثبوت دیں اور تمام انسانوں کے ساتھ بلا تفریق قوم ، مذہب، علاقہ، زبان اور نسل دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور اس بستی نما دنیا میں امن و امان قائم کریں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق