
دھڑکنوں کی زبان…..ما ں کا دل
……..محمد جاوید حیات……
علاقہ موڑکہو میں سیلاب نے گاؤں کے گاؤں مسمار کئے ایک گاؤں میں ساتویں جماعت کا طالب علم سیلاب میں بہہ گیا تھا ۔لوگ تلاش کرتے کرتے تھک گئے تھے ۔ 4 دن بعدایک جگہ بھیڑوں کا ہجوم تھا ۔دیکھا گیا کہ بچے کا ایک ہاتھ کا معمولی حصہ کیچڑ میں سے دیکھا ئی دے رہا تھا ۔ لوگوں نے کیچڑ نکال کر لاش نکالی ۔ چاند چہرے کو صاف کیا ۔۔ چھر یرا بدن درست کیا گیا بلوریں ہونٹ کس کے سل کئے گئے ۔۔۔۔ نشیلی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا گیا ۔پنڈلی سے پنڈلی ملے ۔۔۔۔لاش ماں کے سامنے رکھی گئی ۔۔ ماں نے کہا۔۔ میری دنیا اگر مجھے پتہ ہوتاکہ تو اس کیچڑمیں سویا ہوا ہے۔۔۔ ۔میری زندگی میں کیچڑ اپنے ہاتھوں ہٹاتی۔۔۔۔ تجھے نکالتی ۔۔ بیٹا میری بے بسی کاکیا ۔۔ میری بدبخت نگاہوں نے تجھے کیوں نہیں ڈھدنڈیں بیٹا ۔۔ ۔ بڑوں نے تیرا پتہ دیا ۔۔ میری آنکھوں کی روشنی تو نے کیچڑا میں پردہ کیا میر ی آنکھیں بجھ گئیں میری زندگی ۔ ۔۔ بیٹا تم میری جان ہو یہ کہہ کر اس نے جب بیٹے کی پیشانی کو بوسہ دیا تو موقع پر موجود لوگ اپنے سینے پکڑ پکڑ کر ادھر اُدھر ہوگئے ۔۔ دوستو! یہ ماں کا ’’ دل ‘‘ہے یہ وہ دل ہے جس میں کائنات سماجاتی ہے اس کی ایک دھڑکن پہ ساری کائنات کی ہلچل قربان ہوجاتی ہے ۔یہ وہ دل ہے جس سے دنیا کی ساری خوبصورتیاں پھوٹتی ہیں۔یہ وہ دل ہے جس کی ایک دھڑکن سے عرش ہلتی ہے یہ وہ دل ہے جس میں محبت کا سمندر موجود ہے یہ وہ دل ہے جس سے نکلا ہو ا لفظ موتی سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے یہ وہ دل ہے جودونوں جہانوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔۔ اسی دل سے ایک آہ نکلی ۔۔ میری جان مجھے چھوڑ کرکیچڑ میں چھپ گئے کیا ۔۔۔
دوستو! ہم ماں باپ والے احساس کیوں نہیں کرتے کہ ماں کادل تمہارے لمحے لمحے سے وابستہ ہے ہم زندگی گذارتے ہیں وہ دھڑکتا رہتاہے ۔ہم زندگی کی لطف اُٹھا تے ہیں وہ مچلتا رہتا ہے ۔ہم صبح نکلتے ہیں۔بائیک اڑاتے ہیں کاردوڑاتے ہیں ۔موج مستی میں ہوتے ہیں۔اپنی زندگیوں کو طوفانوں میں دھکیل دیتے ہیں ۔جہاز اڑاتے ہیں۔کھیل کے میدانوں میں ہوتے ہیں ۔عدالتوں میں ہوتے ہیں۔ سیاست کے میدانوں میں ہوتے ہیں ۔پہاڑوں میں ہوتے ہیں ۔دریا کی موجوں میں ہوتے ہیں۔مخالفت ہوتی ہے ،دشمنیاں ہوتی ہے ۔خطرات ہوتے ہیں ۔گرمی سردی ، بھوک پیاس ، تھکن ہم سہتے ہیں مگر اس ماں کے دل پر کیا حالت گذارتی ہے ہم اندازہ نہیں کرسکتے ۔پھر اس دل کو دکھا تے ہیں دوستو! ۔۔۔۔ اس سے سیدھی بات نہیں کرتے ۔منہ بناتے ہیں ۔ مزاج بدلتے ہیں تیوری چھڑا تے ہیں۔کبھی ڈانت پلاتے ہیں۔لہک لہک کر اپنی دشمنیاں اس کے سامنے بیانں کرتے ہیں ۔ اس دل کو دکھاتے ہیں۔اس پر غموں ،خدشوں اور اندیشوں کا بوجھ ڈالتے ہیں۔دوستو! رب نے کہا اس کے سامنے اُف تک نہ کرنا ۔ اس دل کو تکلیف ہوتی ہے ۔ یہ ماں کا دل ہے۔۔۔
دوستو! فخر مو جودات ؐ نے فرمایا۔۔۔ ماں تو زندہ ہوتی تیر ا بیٹا امت کا نماز پڑھا رہاہوتا تو آواز دیتی ۔۔۔ محمد ؐ ۔۔ تیرا بیٹا نماز ادھورا چھوڑآ تا دوڑ کر تیرے سامنے حاضر ہوتا کہتا۔۔ ماں محمد ؐ حاضر ہے۔۔۔ ماں کے دل کا مقام اس سے بڑ ھ کر اور کیا ہوگا ۔۔۔ وزیراعظم پہلے کسی ماں کے ’’ دل ‘‘ میں ہے پھر کرسی پر ہے یاد رکھنا جو جس مقام پہ ہے پہلے وہ کسی نہ کسی ماں کے دل میں ہے اس کا اصل مقام وہاں پر ہے آج اگر ماں کے دل میں قدر نہیں ہوتی تو یہ ہماری بدبختی ہے ہماری ناکامیوں اور بے چینیوں کا اصل سبب اس ’’ دل ‘‘ سے ہمارے لئے دعا کانہ نکلنا ہے ورنہ تو ہم اس دعا کے سہارے بادشاہ ہیں۔۔
