تازہ ترین

ڈی سی چترال کا بازار کا دورہ،دکانداران اپنے سند پیش کریں،تجازوات ہٹانے کا حکم۔تجار یونین چترال کا جزوی شٹرڈوان ہڑتال

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس؂) ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے چترال بازارکا دورہ کرکے تجازاوت کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں تجاوزات ہوئی ہے فوری طورپر ہٹائی جائے ۔ڈی سی چترال نے کہا کہ ہمارے پاس کاغذات ہیں جس کے بناء پر ہم یہ کاروائی کررہے ہیں ،ہمارا کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں۔اُنہوں نے کہاں کہ جس جس کے پاس اپنے دکانات کے کاعذات(سندات) ہیں تو وہ ہمیں دیکھائے۔اگر نہیں تو ہم کاروائی کرینگے۔اگر ہم غلط نکلے تو ہمارے خلاف عدالت جایا جائے
درین اثنا چترال میں تجار یونین چترال نے ڈی سی کے رویے کے خلاف چترال بازارجزوی شٹرڈاون ہڑتال کیا اور بعد میں ہڑتال کو ختم کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ بجائے دکانداروں سے سند طلب کرنے ڈی سی کے پاس تجاوزات کیخلاف اگر ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ پیش کریں ۔جنرل سیکرٹری منظور قاد اور جوایئنٹ سیکرٹری فضل واحد نے کہا کہ بازاریونین بار بار مطالبہ کرتی ہیں کہ انتظامیہ سڑک کی پیمائش پیش کریں مگر انتظامیہ نقشہ جات پیش کرنے میں مختلف قسم کے بہانوں سے کام لے رپہی ہیں۔اُنہوں نے کہا بازار میں اگر کوئی تجاوزات ہیں تو ہم بذات خود اُنہیں ختم کرنے کے لئے تیارہیں۔لیکن جو انتظامیہ کی طر ف سے دکانات کی دونوں طرف نالے سے دوکان کے اندر تک چار چار فٹ اورنشانات لگاےئے ہیں وہ سراسردوکانداروں کو ہراسان کرنا ہے اور بازار کے سارے دکانداروں کے خلاف جو مہم سوچے سمجھے سازش کے تحت کی جارہی ہیں اس کی کھبی اجازت نہیں دی جائی گی۔اُنہوں نے کہا کہ ا نتظامیہ کو کسی کاجائز حق مارنے کی اجازات نہیں دی جائیگی۔ ہم بحیثیت تجاریونین دکانداروں کے تحفظات کے پاسدار ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ آج کی ہڑ تال انتظامیہ کے لئے کے صرف نمونہ ہے ہمارے یونین کے لوگ کسی بھی نانصافی کے خلاف متحد ہیں۔ اُنہوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ اور ڈی پی او چترال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہمیں چترال سکاؤٹس اور پولیس پر بھر بور اعتماد ہیں چترال سکاؤٹس ،چترال پولیس ایم این اے ایم پی ایز اور سیاسی قائدین اس معاملے میں ڈی سی چترال کے ساتھ مذکرات کرکے تجار یونین کوبے جا تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرانے میں اپنا بھر پور کردار اداکریں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق