تازہ ترین

وادی کالاش میں فوتگیوں کی وجہ سے چوموس تہوار کے کئی رسوم ادھورے رہ گئے۔

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) کالاش قبیلے کا چوموس تہوار قبیلے کے دو افراد کی اچانک فوت ہونے کی وجہ سے سال کی خوشیوں کا ارمان لئے قبل از وقت ہی ختم ہو گیا ۔ جس سے قبیلے کے نوجوان طبقے کے کئی آرزو ماند پڑ گئے ۔ کالاش دستور کے مطابق چوموس فیسٹول اکیس دسمبر کو رمبور ویلی اور بائیس دسمبر کو بمبوریت ویلی میں ڈوبتے آفتاب کے ساتھ ختم ہوتی ہے ۔ لیکن گذشتہ روز فیسٹول کے عروج کے دوران دونوں ویلیز میں اچانک دو افراد انجہانی ہوگئے ۔ جس کی وجہ سے مذہبی پیشواوں نے فیسٹول کو قبل از وقت ہی ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ فیسٹول کے ختم ہونے سے پہلے رقص و سرور کی محفلیں جاری تھیں ۔ اور رمبور میں تین لڑکیاں پیا سدھار گئی تھیں ۔ اور مزید کئی نوجوان نئی زندگی کیلئے ساتھیوں کا انتخاب کیا تھا ۔ لیکن فوتگی نے اُن کا سپنا پورا نہ ہونے دیا ۔ کالاش سماجی نوجوان لوک رحمت کے مطابق یہ کوئی نیا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی فیسٹول کے موقع پر قبیلے میں کسی کے فوت ہونے پر فیسٹول متاثر ہوتا رہا ہے ۔ تاہم بعض اوقات ا یسے موقع پر کسی کی وفات کو چھپایا بھی جاتا رہا ہے ۔ تاکہ فیسٹول پر خلل نہ پڑے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ رمبور ویلی میں گیارہ سالہ بچہ حمید جو پولیو کا مریض تھا ۔ انجہانی ہوا ۔ جبکہ بمبوریت میں ’’ متو مر‘‘ کالاش کی ماں انجہانی ہو گئی ۔ جس کی وجہ سے فیسٹول کو جاری رکھنا ممکن نہ رہا ۔ لوک نے کہا ۔ کہ ان فوتگیوں کی وجہ سے چوموس تہوار کے کئی رسوم ادھورے رہ گئے ۔ جبکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی چوموس کیلئے کی گئی تیاری بھی بہت متاثر ہوئی ۔ تاہم انہوں نے کہا ۔ کہ گذشتہ رات کو مذہبی مشعل بردار قافلے نے اپنی رسم پوری کردی تھی ۔ جو کہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا ۔ کہ مشعل کا قافلہ روانہ ہونے سے پہلے کراکال کے مقام پر اے پی ایس کے شہدا کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موت انسانی زندگی کا سب سے بڑا حادثہ ہے ۔ ایسے میں فیسٹول میں مدہوش ہونا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا ۔ اس لئے کالاش قبیلہ انسانی جان کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ لوک رحمت نے کہا ۔ کہ اس تہوار میں بہت زیادہ جوانوں کی شادی کے امکانات تھے ۔ لیکن فوتگی کی وجہ سے وہ بھی ملتوی ہوگئے ہیں ۔ جبکہ لومڑی کی تلاش اور پیشنگوئی کے رسوم بھی انجام نہیں دیے جاسکے ۔ تاہم معروف کالاش مذہبی پیشوا ’’قدیرک‘‘کا کہنا ہے ۔ کہ کالاش قبیلے کے لوگ بھی مذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ خصوصا نئی نسل مذہبی رسوم اور حدود قیود پر عمل نہیں کرتے ۔ اس لئے سیلاب ، زلزلے اور دیگر آفات نے کالاش واد یوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ کالاش وادیوں کا مستقبل خوفناک ہے ۔ اس لئے کالاش کمیونٹی کو اپنی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق