
(رُموز شادؔ )……’’اسلام کی امتیازی خصوصیت‘‘
(ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)
میں ایک طالبعلم ہونے کی حیثیت سے دنیا کے مختلف مذاہب کا حقیر نظروں سے تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہو۔ یوں تو دنیاکے دوسرے مذاہب میں بھی خوبیاں ہیں، لیکن اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کسی خاص مذہب اور طبقہ سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ہر اس انسان کیلئے قابل قبول ہیں جو انقلابی دل و دماغ رکھتا ہے چنانچہ مسلمانوں کی پوری تاریخ انقلابی کارناموں سے بھری ہوئی ہے، اور مسلمانوں میں یہ انقلابی صلاحیتیں صرف اسلامی تعلیمات کی بدولت پیدا ہوئی ہیں۔
اسلام کی پہلی دعوت عربوں کو دی گئی تھی۔ اور عربوں کے متعلق یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے سے پہلے ان میں کوئی اتحاد اور نظم موجود نہیں تھا، وہ قبیلوں میں بٹا ہوا تھا، اور یہ قبیلے صدیوں سے ایک دوسرے کے جانی دشمن چلے آرہے تھے ۔ اس طرح ان میں کوئی انقلابی صلاحیت باقی نہیں رہی تھی لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ہی ان عربوں نے ساری دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔۔
پھر اسلام کے پیغام کو دنیا کی جن قوموں نے بھی قبول کیا وہ سب انقلاب کی علمبرداربن گئیں اور کوئی قوم ایسی نہیں رہی جو اسلام کے انقلابی پیغام کو قبول کرنے کے بعد خود بھی انقلاب کی نقیب و داعی نہ بن گئی ہو۔
اسلام سے پہلے بھی دنیا میں بہت سے مذہبوں کا ظہور ہوا تھا اور اسلام کے ظہور کے وقت ان میں سے بعض مذاہب دنیا پر چھائے ہوئے بھی تھے، لیکن ان میں سے کسی مذہب نے بھی بنی نوع انسان میں انقلاب کی روح نہیں پیدا کی تھی۔
دنیا کے ہر بڑے مفکر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اسلام کے اصول اور اس کی تعلیمات انسانی فطرت سے بہت کچھ مطابقت رکھتی ہیں اس لئے اسلام نے اپنے انقلابی پیغام میں بھی انسانی فطرت کے رجحانات کو مد نظر رکھا تھا اور اس لئے اس کے انقلابی پیغام نے انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو متاثر کیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اشتراکیت کو دنیا کی عظیم ترین انقلابی تحریک سمجھا جاتا ہے۔یہ بات اپنی جگہ صحیح بھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریک انسان کے ذہن کو بدل کر اس کے ظاہری حالات کو بدلنے پر زور دیتی ہے۔
انسان آج صدیوں کے غور و فکر اور تجربات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ اسے دنیا کے سماجی ڈھانچہ کو بدلنے کیلئے سب سے پہلے انسان کے ذہن اور دماغ کو بدلنا چاہیے ۔ لیکن اسلام نے اپنے انقلابی پیغام کو کامیاب بنانے کیلئے آج سے چودہ سو سال پہلے یہی فطری طریق کار اپنایا تھا اور اس نے بنی نوع انسان کو پستی سے نکال کر بلندی پر پہنچانے کیلئے اس کے دل و دماغ کو بدلنا ضروری سمجھا تھا۔ اسلئے جو لوگ بھی اس پیغام کو قبول کرتے تھے ، وہ اپنے قومی اور جعرافیائی حالات کے اختلاف کے باوجود ایک مقصد پر متفق الرائے ہو جاتے تھے ۔ اور انقلاب کے علمبردار بن جاتے تھے۔
اسلام دنیا کیلئے جس انقلاب کا پیغام لایا تھا وہ تخریبی نہیں بلکہ تعمیری تھا اور ظہور اسلام کے بعد کی انسانی تاریخ ا س بات پر گواہ ہے کہ اس پیغام کی بدولت بنی نوع انسان پر ترقی اور تعمیر کے دروازے کھل گئے تھے۔اسلام نے سب سے پہلے انسان کے دل و دماغ کو لا تعداد خداؤں کی غلامی سے آزاد کرکے ان کے فکری قوتوں کے بند کھول دئے تھے اور اسلامی انقلاب کا پیغام قبول کرنے کے بعد انسان نے پہلی بار محسوس کیا تھا کہ دنیا میں ا س کی پیدائش کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے صدیوں پرانے ماحول میں رہ کر اور خانقاہوں میں بیٹھ کر اپنی تمام زندگی گزار دے بلکہ اس کی پیدائش کا مقصد پوری دنیا کے صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور اپنی قابلیتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
مسلمان اسی تعمیری نظریہ کے تحت تمام دنیا میں پھیلے تھے اور اس زمانے کے بعض طاقتور مذہبوں کی تعلیمات کے بر خلاف انہوں نے اسلامی تعلیم کے مطابق ہر بھلائی کو انسان کی میراث قرار دے کر اسے حاصل کر نے کی دعوت دی تھی۔مثال کے طور پر یورپ کے نام نہاد علم برداروں نے قدیم یونانی علم اور فلسفہ کے مطالعہ کو عیسائیوں کیلئے ممنوع قرار دے رکھا تھا اور اسطرح ہندوستان میں مہا تما بدھ کی تعلیمات کی مطالعہ بھی ممنوع تھا اور ہندوستان کے رہنے والے اپنے ملک کے اس زبردست مصلح خیالا ت اور تعلیمات سے قطعاََ نا آشنا ہو گئے تھے۔ مسلمانو ں نے اپنے مذہب کی انقلابی تعلیمات کے مطابق ان رجعت خیالات کے خلاف کھلی ہوئی بغاوت کی تھی، اور انہوں نے قدیم علوم و فنون کے تمام ذخیروں کو بر آمد کرکے دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا ۔ اور انسان کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ وہ ان میں سے اچھائیوں کو تلاش کرکے انہیں اپنی آئندہ ز ندگی میں داخل کرلے، چنانچہ آج دنیا کے تمام مفکر اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ اگر مسلمان عہد وسطیٰ میں یہ انقلابی قدم نہ اٹھاتے تو آج کی دنیا کل کی دنیا سے واقف نہیں ہو سکتی تھی۔ اور اس حال میں دنیا کی ترقی کی تاریخ کا آغاز شاید انیسویں صدی ہی سے ہوتا۔ اور انسان اپنے اسلاف کی تمدنی ، تہذیبی اور علمی جدوجہد سے نا واقف ہونے کے باعث اسے اپنی موجودہ جدوجہد کے ساتھ پیوست نہ کر سکتا۔
اسلام کا یہ انقلابی کردار کسی ایک ہی میدان میں نظر نہیں آتا ، بلکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ میں کام کرتا ہوا نظر آتا ہے، جہاں تک انفرادی زندگی پر اس انقلابی پیغام کے اثر انداز ہونے کا تعلق ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام انفرادی زندگی میں انقلاب برپا نہ کرتا تو مسلما ن ایک قوم کی حیثیت سے انقلاب کے پیغامبر نہ بن سکتے، اور دنیا میں انقلاب برپا نہ کر سکتے۔ اور
اجتما عی زندگی میں اسلام کی انقلابی قوتوں کا عمل اس امر سے ظاہر ہے کہ اس نے سماج کو ان تمام برائیوں سے پاک کردیا تھاجو اس وقت بھی دوسرے انسانی سماجوں میں موجود تھیں۔ اور آج بھی انسان کا کوئی ترقی یافتہ سماج ان خامیوں سے پاک نظر نہیں آتا ۔
اسلام کے یہ پیغام کی یہ انقلابی خصوصیت آج بھی قائم ہے اور وہ آج بھی انسانی سماج کی تمام برائیوں کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی تعلیم دیتا ہے ، لیکن وہ یہ انقلاب قتل اور خونریزی کے ذریعہ سے نہیں بلکہ انسان کے ذریعے اور دماغ کو بدل کر لانا چاہتا ہے، اور یہ اسلام کی ایک ایسی خوبی ہے کہ اس کا کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔
