تازہ ترین

تجار یونین چترال کا ہنگامی اجلاس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)آج مورخہ23دسمبر2015کو بمقام تجار یونین دفتر چترال میں تجار یونین چترال کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت حبیب حسین مغل صدر تجار یونین چترال منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اجلاس میں تجار یونین کے علاوہ بازار کمیٹی نے شرکت کیں۔اجلاس میں ذیل قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی۔
یہ کہ بازار پُل سے لیکر کڑوپ رشت بازار تک ریاستی حکمرانوں کے دور کی بازار ہے۔اُس دور میں چترال میں گنتی کے چند گاڑیاں تھیں۔بازار کا مین روڈبہت تنگ تھا۔اُس دور کے مرکزی حکومت نے چکدرہ سے لیکر چترال تک روڈ توسیع کی۔ٹرک،ویگن وغیرہ گاڑیاں چترال آنا شروع ہوگئے۔ریاست کے دور کا روڈ تنگ تھا۔روڈٹریفک کے لئے ناکافی ہوئی تو چترال انتظامیہ نے1980/83میں بازار کے دونوں اطراف دکانات کے برامدوں کو توڑ کر روڈ میں شامل کرلیا۔اورمالک جائداد نے زمین قیمت وصول کرکے انتظامیہ زمین روڈ میں شامل کرلیااور روڈ کی توسیع کی گئی۔اُسوقت کے انتظامیہ نے روڈ کے دونوں اطراف نکاسی اب کے لئے پختہ نالیاں بنائی۔اور یہ پختہ نالیاں روڈ اور دوکانوں کے درمیان بونڈری کا کا م دیتے ہیں۔اس بونڈری سے دوکانداروں نے تجاوز نہیں کیا ہے۔جہاں تک زمین چوری کا الزام ہے وہ سراسر غلط ہے۔ڈپٹی کمشنر اُسامہ احمد وڑایچ ریاست کے وقت کے تعمیر کردہ روڈ کا نقشہ، چوڑائی اور نقول تجار یونین کو پیش کریں۔تو تجار یونین خود کاروائی کریگی۔ثبوت پیش کئے بغیر ڈپٹی کمشنر بضد ہیں کہ میں چترال بازار کے دوہزار دوکانوں کو مسمار کرونگا،تجار یونین بغیر ثبوت کے انتظامی کاروائی کی اجازت کبھی نہیں دیگی۔بازار کے پُرامن حالات کو بدامنی میں تبدیل کیا جارہا ہے اس وجہ سے خون خرابہ ہوگا جسکی تمام تر زمہ داری ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑایچ پر عائد ہوگی۔بلدیاتی الیکشن ہوئے ہیں۔چترال میں ضلعی حکومت قائم ہوچکی ہے۔تحصیل ناظم موجود ہے،یوسی ناظمین موجو دہیں،ایم این اے،ایم پی ایز بھی موجود ہیں۔یہ تمام معاملات ضلعی اور تحصیل ناظمین کے اختیارات میں ہیں نہ کہ ڈپٹی کمشنر چترال کے۔تجار یونین آل متحد یونین ہے اس کا دائرہ اختیار پورے چترال میں ہیں۔چترال کی میعشت تاجر برادی کے ہاتھ میں ہے۔ آئے دن دپٹی کمشنر دکانداروں کو انتقامی کاروائیوں کا شکار بنار ہا ہے اگر تاجربرادی کو مختلف حوالوں سے تنگ کیا گیا اور اگر انتقامی کاروائیاں بند نہ کی گئی تو تجار یونین تاجر برادری اپنی دفاع کرنا جانتی ہیں۔فی الحال ہم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ہے۔میں بحیثیت صدر تجار یونین ڈپٹی کمشنر سے سوال کرتا ہوں کہ دیر سے چترال تک سامان پر 250روپے فی من وصول کی جارہی ہے،آپ پہلے اس مسئلے کو حل کریں۔جلانے کی لکڑی کا مسئلہ چترال میں درپیش ہیں اس کا مسئلہ حل کریں،زلزلہ زدہ گان اور سیلاب زدہ گان کا مسئلہ حل کریں،بجلی کا مسئلہ حل کریں۔اگر پشاور میں ناجائز تجاوزات ہٹایا گیا ہے تو وہ اور بات ہے اس کا چترال سے موازنہ نہ کریں،یہ 40سال پرانہ مسئلہ ہے۔
آخر میں تجار یونین صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں۔اس معاملے کا فوراً نوٹس لے ۔چترال پُرامن علاقہ ہے اور امن کوقائم رہنے دیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق