ارشاد اللہ شاد

(رُموز شاد)ؔ….’’اسلام کے 12مہینے‘‘

 (ارشاد اللہ شاد ۔۔ بکرآباد چترال)


اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ محرم ہے جس کے معنی لائق احترام اور لائق تعظیم کے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اس ماہ دو عظیم الشان شہادتیں ہوئیں۔ان میں ایک اسلامی سن کا آغاز کرنے والے خلیفہ حضرت عمرؓ اور دوسرا نواسہ رسول حضرت حسینؓ کی شہادت ہے۔ دوسرا مہینہ صفر ہے صفر کے معنی سانپ کے پیٹ کے ہیں۔ دور جاہلیت میں عام خیال تھا کہ انسان کے پیٹ میں سانپ ہوتا ہے جو کہ بھوک کے وقت اس کو کاٹتا ہے اسلئے اس ماہ کو منحوس تصور کیا جاتا تھا۔ حضورﷺ نے اس کی تردید فرمائی اور اعلان فرمایا کہ مصیبت اور راحت کا تعلق مہینوں سے نہیں بلکہ انسان کے اعمال سے ہے۔ جنگ خیبر کا وقوع اسی ماہ ہوا۔سیدہ فاطمہؓ کا نکاح اسی ماہ ہوا۔ ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہنہ ہے ۔ اس ماہ کی عظمت و حرمت و فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ اس ماہ خاتم الانبیاء محمد رسولﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اپنے آخری دین اور اپنی آخری شریعت کیلئے اس اعلان کے ساتھ پیدا فرمایا کہ اب نہ کسی دین کی ضرورت رہے گی اور نہ ہی کسی دوسرے نبی کی۔ اب نبوت کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ آپﷺ نے اسی ماہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ربیع الثانی یا ربیع الاخر یہ دونوں نام چوتھے اسلامی مہینے کے ہیں، ربیع بہار کو کہتے ہیں اس ماہ سفر کی نماز شروغ ہوئی اور ظہر عصر و عشاء کی چار رکعتوں کو سفر میں آدھی کرکے دودو کر دی گئیں۔ جمادی الاولیٰ اسلامی سن کا پانچواں مہینہ ہے ، حضورﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا انتقال اسی مہینہ ہوا۔ جمادی الثانی اسلامی سن کا چھٹہ مہینہ ہے ا س ماہ حضرت عمرفاروقؓ نے منصب خلافت سنبھالا تھا اور اسی ماہ جنگ جمل کا واقعہ پیش آیا۔ رجب ساتواں مہینہ ہے لغوی اعتبار سے اس کے معنی ڈرانے اور تعظیم کرنے کے ہیں اس ماہ کی فضیلت و خصوصیت واقعہ معراج ہے جو کہ ۲۷ رجب کی شب کو ہوااس ماہ میں مسلمانوں کیلئے نماز فرض ہوئی۔ شعبان اسلامی سن کا آٹھواں مہینہ ہے اسکے معنی پھیلنے اور وسعت کے ہیں یہ رحمتوں اور برکتوں کے پھیلاؤ کا مہینہ ہے۔حضورﷺ نے اس کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کا‘‘ اس مہینہ کی پندرہویں شب بہت ہی با برکت ہے اس رات کو قرآن میں مبارک رات قرار دیا گیااس رات کو شب برات کہتے ہیں اسی رات کو جاگنا اور اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے ۔ رمضان نواں مہینہ ہے اسکی فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم اسی ماہ مبارک میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا میں اتاری گئی اس ماہ میں مسلمانوں پر روزے فرض کئے گئے اس ماہ کی ایک شب کی عبادت ہزار رات کی عبادت سے بہتر ہے اس شب کو لیلۃ القدر کہتے ہیں۔ شوال بھی مبارک مہینہ ہے اس کا پہلا دن مسلمانوں کیلئے خوشیوں اور اجر و ثواب کا پیغام لیکر آتا ہے اس ماہ کے چھ روزے رکھنا سنت ہے اس ماہ سے اشہر حج کا آغاز ہوتا ہے ۔ ذی قعدہ اشہر حج کا دوسرا مہینہ ہے ۔ ذوالحجہ کے معنی حج والا ہے ۔ چونکہ اس مہینہ کی ۹ تاریخ کو اہم رکن وقوف عرفہ ادا کیا جاتا ہے اور اسی ماہ حج کے تمام مناسک پورے کئے جاتے ہیں اسلئے اس کی فضیلت کسی سے مخفی نہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور سے لیکر اب تک عالم اسلام میں یہی سن جاری رہا اور مسلم خلفاء آپس میں خط و کتابت اسی سن کے حوالے سے کرتے تھے اس سن اسلامی کو اتنا رواج دیا گیا کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اسی سن کے مطابق سال بہ سال اب تک محفوظ چلی آرہی ہے۔ اگر ہم سیرت اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس میں اسی ترتیب سے واقعات ملیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلمانوں نے اپنی روایات کو ایک ایک کرکے چھوڑنا شروغ کیا اور اس نے اپنا تشخص اور اپنا وقار کھو دیا ہے، وہ ایک ایک چیز میں دوسری قوموں کا شعار اختیا ر کر چکی ہے حتیٰ کہ اس نے اپنے ممالک میں اسلامی تاریخ و سن کو بھی ترک کر دیا۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق