محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان….کہکشان سے آگے

…….محمد جاوید حیات …….



ساری رات رہ رہ کے آنے والے کل کا سفر ستاتا رہا بے چین کر نا رہا ۔ کہ کس طرح ہوگا سفر بمبوریت کی طر ف تھا ۔شعر یا د آیا توذرا تبدیل کر کے گنگناتا رہا ۔
ارا دے باند ھتا ہوں ، سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
بمبوریت دلکش قطعہ ارضی ، خوابوں کی سرزمین ،مستی کا آما جگا ہ خوبصورتی کی مثال ، رنگینیوں کی منزل ، خوبصورت لوگوں کارین بسیرا ۔۔ بمبوریت جہاں قدم رکھنے سے قدم اُٹھنے کو نہیں چاہتے ۔ یہاں پہ حسن آسمان سے گو یا اتر تا ہے ۔۔۔۔۔ نیچے زمین میں کشش ہے لوگ محبت کرتے ہیں مسکراہٹوں کی سوغات پیش کر تے ہیں ۔ہاتھ ہاتھوں میں لیتے ہیں۔احترام کی گھتیا سلجھتی ہیں۔۔۔۔بمبوریت کی سرزمین میرے خوابوں کی سرزمین ہے ۔اس سے میری سانسیں وابستہ ہیں میں تین سال تک اس کی صبحوں میں کھو یا رہا ۔ اس کی شاموں کا مزہ لیتا رہا ۔ اس کا شفاف پانی پیتا رہا ۔ اس کی فضاؤں میں لمبی لمبی سانس لیتا رہا ۔ اس کی مٹی پہ سر رکھ کر لمبی تان کر سوتا رہا ۔۔۔۔ یہ خوابوں کی سرزمین ہے ۔یہاں پر مجھ سے محبت کی گئی مجھ سے نفرت کی گئی ۔ مجھے رشک سے دیکھا گیا مجھے حسد کے تیروں سے شکار کیا گیا ۔ میں تڑپتا رہا ۔رولتا رہا ، لیکن اس پر کشش سرزمین کی سحر انگیزیوں سے نکلنے میں مجھے بہت ہاتھ پاؤں مارنے پڑے ۔ اس کے باشند وں نے مجھ سے محبت کی ۔میرا احترام کیا لیکن کچھ کانٹے مجھے چبھتے رہے میں لہو لہاں ہوتا رہا ۔اب عرصہ بعد خوابوں کی سرزمین کی طرف پھر جارہاتھا۔ خوابوں کی سرزمین کا المیہ ہے کہ یہ حکومت ، اداروں او ر سیاست دونوں کی طرف سے نظر انداز ہوتی رہی ہے ۔ ملک کا صدر ، وزیراعظم ، وزراء ،وی ای پیز ، غیر ملکی سیاح ،افیسرز سب ادھر آتے ہیں ۔مگر پتھروں پہ چل کے آتے ہیں ۔کہکشان سے ہو کے آتے ہیں واپس جاتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں۔اس دفعہ کے سیلاب نے اس کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا ہے ۔سارے راستے برباد ہیں ۔ پل بہہ چکے ہیں مگر خاطر خواہ توجہہ کوئی نہیں۔۔ ہائی سکول بمبوریت میں وزیر استاد کی ریٹا ئر منٹ کے موقع پر الوداعی تقریب تھی ۔۔وزیر استاد نے آ ج سے 60 سال پہلے بمبوریت میںآنکھ کھولی ۔ بمبوریت اور ایوان میں سکول پڑھا ۔پھر خود استاداد بن گیا پھر کارزار معلمی میں ایساکھویا رہا ۔کہ 42 سال شاندار خدمات کے بعد آخر عمر نے جھنجوڑ کر جگا یا اور گھر کا راستہ دیکھا یا ۔ میری وزیراستاد کے ساتھ 3 سال کی رفاقت رہی۔اس کی میری سرپرستی رہی اور یہ تعلق دیرپا ہوا ۔آج یہ تعلق مجھے پھر سے اس خوابوں کی سرزمین کی طرف لے جارہا تھا ۔ہم سکول پہنچے ،چترال کے نوجوان شاعر ادیب سیدالرحمن سیدی میری ساتھ تھے۔ سکول کو سجایا گیا تھا ۔بچے مہمانوں کو مرحبا کہہ رہے تھے ۔سکول کے گیٹ سے اندر قدم رکھتے ہی یادیں پھر سے تاز ہ ہوگئیں ۔بچے تھے ،۔سٹاف تھے ۔ساتھی تھے ۔ گاؤں کے معززیں تھے ۔ضلعی افیسر تعلیم جناب حنیف اللہ صاحب اور نائب ناظم تعلیم احسان الحق صاحب شمع محفل تھے ۔موسم ابرالود اور خنک تھا ۔قاری جمیل سٹیج سنبھالے ہوئے تھے ۔ سکول کاہید ماسٹر کمال الدین صاحب اپنی نشست پر برآجمان تھے ۔۔ ۔۔اللہ کے نام سے محفل کاآغاز ہوا بچوں نے تلاوت کیاور نعت پڑھی ۔استاد محترم کو ہارپہنائے گئے اور تحفے پیش کئے گے اس کی تعریفیں کی گئیں اس کی خدمت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔۔۔ سکول کے ایک سابق استاد نے سٹیج پر بلانے پر اس سرزمین سے اپنی محبت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کی محبت اس کی اپنی تھی جس کی خوشبو بھی اس کا مشام جان معطرکر رہی ہے ۔فضائیں اس بات پہ گواہ تھیں کہ استاد کے دل میں اس سرزمین کے لئے احترام تھا ۔اس نے وزیر استاد کے اپنے اوپراحسانات گنوائے ۔۔ سٹیج پر DEO جناب حنیف اللہ صاحب کو بلا یا گیا ۔۔ فرما یا مجھے چترال میں احترام مل رہا ہے۔مجھے یہاں پر آکر اپنے مقام کا پتہ چل گیا ہے۔ آج ایک استاد کے مقام کا ’’ تعارف ‘‘ ہے ۔استاد روحوں میں بستا ہے دلوں پرحکومت کرتاہے۔آج استاد سے عقیدت اور محبت نے تمہیں یہاں پر جمع کیا ہے ۔ میں تمہاری اس عقیدت اور احترام کو سلام پیش کرتاہوں ۔اگر استاد معمار قوم ہونے کا ثبوت دے تو اسیا ہی ہوتا ہے ورنہ تو ’ ’ معمار ‘‘ اور ’’ مسمار‘‘ میں ایک حرف کافرق ہے ۔سینئر صحافی محکم الدین صاحب نے خطاب کیا تقریب سے قاری خلیل کونسلر شیخا ندہ نے خطاب کیا ہیڈ ماسٹرسکول نے سب کا شکر یہ ادا کیا ۔استاد نے آخر ی خطاب میں سب کورولا دیا ۔انھوں نے ا پنی ڈھلی عمر کو مرجھائے پھول کہا اور عمر گذشتہ کوسوغات کہا ۔خوبصورت شاعری کی زبان میں اپنے آپ سے سوال کیا ۔کہا کہ اس اس گلشن انسانیت کی ابیاری کیسے کی اتنے پھول وہ کیسے اگاگئے انکوسینجا کس طرح کیا ۔اس صدا بہار شخص نے سکول کے درو دیوار کو الوداع کہا۔۔۔اب استاد کے گھر کیطرف جانے کا مرحلہ تھا مہمانوں کو گھوڑوں پر بٹھا یا گیا ۔ایک جلوس کی شکل تھی ۔ ایک مسرت تھی ایک افتخار تھا ۔ استاد کے شاگرد تھے ۔استاد نے صرف سکول کے دور دیوار کو الوداع کہا تھا پنشن نہیں ہوا تھا ۔استاد کو ایک پروانوں کا ہجوم اس کے گھر کی طرف لے جارہاتھا استاد پنشن نہیں ہوتا استاد ایک بہتا دریا ہے خاموش سمندر ہے ۔بمبوریت کو بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا۔ سردی تھی ۔ استاد کے گھر میں ظہرانہ تھا ۔ کھانے کے بعد بمبوریت کی روایتی بزکشی کا مقابلہ تھاا سمان رنگین تھا ۔ہل چل تھی ۔ایک استاد کے مقام کو زندہ باد ہو۔ ڈوبتا سورج تھابانکا مسافر پھر سے خوابوں کی سرزمین چھوڑ رہا تھا ۔ خوابوں کی سرزمین پاؤں کھینچ رہی تھی ۔ مگرپاؤں باد ل نخوستہ اُٹھ رہے تھے ۔یادوں کی کتاب میں ایک باب کا اضافہ ہوا تھا ۔ سامنے کے سایے بڑھے ۔ہم بمبوریت چھوڑ آئے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق