محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……’’ ہرا سانی ‘‘

……محمد جاوید حیات ……


دنیا کی تاریخ ۔۔۔۔ دنیا کی کیا تاریخ زندگی کی ریشہ دوانیاں ہی ایسی ہیں۔ کہ زیر دست اور زبردست کا ٹکراؤ ازل تا ابد جاری ہے ۔ انسان ایک حال میں نہیں رہتا ۔ خوشیاں ،غم ، افسردگی اسودگی ،آزادی غلامی ۔۔ زندگی سے وابستہ ہیں ۔۔ تجر بہ کاروں نے کہا ۔۔ سب سے بے چین سر ( تاج والا ) بادشاہ کا سر ہے ۔ انسانی تاریخ میں ٹینشن کو ختم کر نے کے لئے خدائی قانون آیا ۔ بار بار اس کو Refresh کیا گیا ۔ جب تک دنیا کے انسانوں پر اس قانون کی حکمرانی رہی تو ’’ ہراسانی ‘‘ ختم رہی ۔ ایک ’’ حاکم ‘‘ کے ایک حکم ۔۔ کے اور اس کے ایک قانون کے لوگ تابع رہے ۔اس سے ڈرتے رہے اپنے انجام پہ سوچتے رہے ۔ جب اس ’’ قانون ‘‘ کی پاسداری کا مسئلہ درپیش ہوا تو انسانیت بکھرتی گئی ۔ رسی ۔۔ ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔۔ ہراسانیاں ‘‘ پھر سے جنم لنے لگیں۔
دوستو ! ہراسانیاں جنم نہیں لتیں ،ہم جنم دیتے ہیں ۔میں کلاس روم میں کام نہیں کرتا اس لئے پرنسپل کے آنے پر ہراسان ہو جاتا ہوں ۔ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتاہوں ۔ منظر بدلتا ہے چھڑا دریا اترتا ہے ۔اٹھتی موج تھمتی ہے ۔ یہ سلسلہ بچے سے شروع ہوتا ہے اور کہاں سے کہاں تک جاتا ہے ۔زندگی کے ہر شعبے میںیہی پوزیشن ہے ۔سیاست دان سیاست دان سے خائف ہے ۔افیسر افیسر سے ڈرتا ہے ۔قوم قوم سے خدشہ ظاہر کرتی ہے ۔ملک ملک سے احتیاط برت رہی ہیں اس دنیا کی تربیت ہی کچھ ایسی ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنی فرائض کو سمجھیں قبول کریں اہمیت دیں اللہ کو حاضر ناظر جانیں خوف اخرت کو معیار بنائیں صداقت کا لباد ہ اُڑھیں امانت کو اپنی پہچان بنائیں ۔ دنیا کو عارضی سمجھیں ۔ حقوق العباد کو خاظر میں رکھیں تو ہراسانی کوئی نہیں ہوگی۔زندگی عارضی بھی ہے ۔ نا پائیدار بھی ہے ۔ آج کوئی کسی کرسی پہ بیٹھتا ہے کل کرسی وہ ہوگی مگر کرسی والا کوئی اور ہوگا۔ یہ بڑا بے وفا ہوتی ہے ۔ میرے پاس تھوڑا سا ’ ’ پیار ‘‘ ہے ۔جو میرے رشتہ داروں ، دوستوں شاگردوں ،بزرگوں اور بچوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ ۔۔ میرے ’’ پیار ‘‘ سے کرسی ، عہد ہ ،دولت اور اقتدار کے لئے کچھ نہیں بچتا ، اگر میں یہ ’’ پیار ‘‘ ان میں تقسیم کروں تو ’’ بچوں ‘‘ کے حصے کا ’’ پیار ‘‘ پیسوں کو جائے گا ’’ بزرگو ‘‘ کے حصے کا ’’ پیار ‘‘ عہد ے کو جائے گا ’’ رشتے ناتے ‘‘ کا ’’ پیار ‘‘ دولت کو جائے گا ۔ دولت کیا ہے ہاتھوں کا ’’ میل ‘‘ ہے ہاتھ دھولا جمتی میل تھی اترگئی پھر میرے پاس ’’ پیار ‘‘ نہیں بچتا ، بے شک میرن دامن نوٹوں سے بھر جاتاہے ۔مگر میں ساری رات نوٹ گنتا رہتا ہوں۔ عہد ہ ہے تو ساراوقت بے چین رہتا ہوں کہ کہیں عہد ہ چھینانہ جائے ۔اقتدار ہے لمحہ لمحہ خدشے میں ہوتا ہوں کہ کہیں اس سے محروم نہ ہوجاؤں ۔یہ سب ہراسانیوں کی بنیاد ہیں۔ میں ’’ پیار ‘‘ کھو چکا ہوتا ہوںیہ ہراسانی بہت بڑی تباہی ہے ہم خود ہراسان ہوتے ہیں ۔ اپنے حصے کا کام کرے اپنا فرض نبھائیں تو ’’ ہراسانی ‘‘ کی جگہ اطمینا ن آجاتا ہے ۔جو بہت بڑ ی دولت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق